نوبل ایوارڈ کے مستحق

”اوباما نے مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال کیا۔ تخفیفِ اسلحہ کے لیے غیر معمولی کام کیے۔ جوہری پروگراموں کو روکنے میں تعاون کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا۔ عالمی امن کی بحالی کے لیے کوششیں کیں… لہٰذا ان کو نوبل پرائز 2009ء کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔“ یہ الفاظ امن کے نوبل ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والی نارویجن کمیٹی کا کہنا ہے: ”اوباما نے عالمی امن کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔“ نجانے کیا وجہ ہے ہم کوتاہ بینوں کو اوباما کی امن کوششوں کا ثمر کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی صدر نے سال کے شروع میں جب اقتدار سنبھالا تو مسلم دنیا کو توقعات تھیں اوباما چونکہ سیاہ فام ہیں۔ نسلی امتیاز کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے انہیں مظلوم قوموں کے دکھ کا احساس ہوگا لیکن اپنے پہلے خطاب میں ہی انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ہمدردانہ لہجہ اپناکر اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچنے دینے کا عزم نے ثابت کردیا تھا کہ انہیں مظلوموں سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہی حال افغانستان کا ہے۔ اُمید تھی اب افغان جنگ ختم ہوجائے گی۔ خونِ مسلم کی بہتی ندیاں بند ہوجائیں گی… لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید شدت آئی۔ یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ اوباما افغانستان، عراق، فلسطین اور کشمیر میں امن قائم کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں۔ اوباما نے صدارت کا حلف اُٹھایا تھا تو اس سے اگلے دن وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف ”راہم ایمانوئیل“ نامی یہودی کو مقرر کیا تھا ۔ قارئین! اس وقت امریکا کو 85 بڑے ادارے چلارہے ہیں۔ ان میں 54 کٹر یہودیوں کے پاس ہیں۔ ان اداروں کے 54 یہودی مالکان ہر وقت وائٹ ہاؤس میں سازشوں کا جال بُنتے رہتے ہیں۔

 صہیونیوں کی نظر میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع سے ہی کھٹک رہا ہے۔ اسی لیے یہاں کا امن تباہ کرنے کے لیے اپنے فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں۔ بلیک واٹر اسے مزید عروج تک پہنچارہی ہے۔ قلعے نما سفارت خانے تعمیر ہورہے ہیں۔ امریکی شہ پر بھارت نے کشمیر کو لہو رنگ بنایا ہوا ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل نے فلسطینیوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ اسلامی دنیا کے وسائل پر سامراج کے قبضے مستحکم ہورہے ہیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کروایا جارہا ہے۔ کیا یہی وہ امن کوششیں ہیں جن پر امریکی صدر کو امن انعام سے نوازا گیا ہے؟ اسرائیل کا ہر بچہ فل آرمڈ ٹریننگ لے تو سیلف ڈیفنس، مسلمان اگر اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ میں پتھر بھی اُٹھائے تو دہشت گرد، چرچ میں راہبائیں اسکارف لیں تو مہذب، مسلمان بیٹیاں اوڑھیں تو انتہا پسندی، امریکا روزانہ ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلادے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ، مسلمان اس کے خلاف معمولی سا احتجاج بھی کریں تو انتہا پسندی۔ یہ کون سی امن پسندی ہے؟ اس کے باوجود اس کے صدر کو امن کا نوبل انعام سے نوازنا باعث حیرت نہیں؟ تعجب تو اس پر ہے کہ خود اوباما نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ مجھے کیوں امن کے نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ میں اس انعام کا حق دار نہیں ہوں۔ اگر اوباما اپنی بات میں سچے میں تو پھر انہیں چاہیے وہ نوبل پرائز لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیں کہ نوبل پرائز کے بانی ”نوبل الفریڈ“… جس نے آتش گیر مادہ ”ڈائنا مائٹ“ ایجاد کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بارود سے متعارف ہوئی… کا کہنا تھا میں اس کا تدارک کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رقم اس کے لیے مختص کردی کہ جو شخص بارود کے خاتمے اور دنیا میں قیام امن کی کوشش کرے اسے یہ انعام دیا جائے۔ چونکہ اس وقت عراق، فلسطین، کشمیری اور افغانستان میں جنگ جاری ہے۔ اس میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا آتش فشاں بنی ہوئی ہے۔ جب تک امن نہیں ہوتا ہے اس وقت تک یہ انعام نہ لیں۔ 1973ء میں جب ویت نام جنگ جاری تھی تو نوبل انعام کے لیے ویت نام کے انقلابی جنرل ”لی ڈک تھو“ کے نام کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے نوبل پرائز لینے سے انکار کردیا کہ ابھی جنگ جاری ہے جب تک یہ ختم نہیں ہوجاتی اس وقت میں یہ انعام نہیں لوں گا۔“

 نارویجن کمیٹی نے اپنے فیصلے میں دو دلچسپ وجوہات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک یہ کہ اوباما نے عالم اسلام کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں کیں۔ دوسرا یہ کہ اوباما نے جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہم نارویجن کمیٹی سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا عالم اسلام میں عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر اور پاکستان شامل نہیں؟ اگر ہیں تو یہ کیوں امریکی غیظ وغضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں؟ کیا تعلقات میں بہتری کا یہی مطلب ہے کہ انہیں لنگڑی لولی امداد دی جاتی رہے۔ اس کے بدلے میں ان کے گھروں کو مسمار اور ان کے باشندوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جاتا رہے۔ امداد دے کر ان کے علاقوں کو تاراج کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے؟ کیا تعلقات بہتر کرنا اسی کو کہتے ہیں کہ ان کی معیشت غیرمستحکم کردی جائے؟ ان کے علاقوں میں ان کی مرضی کے بغیر فوجی اُتارے جائیں جو ان کی خودمختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگادیں؟ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرے؟ کیا ایسے شخص کو امن کا نوبل انعام دیا جاسکتا ہے جس نے اقتدار کے پہلے 300 دنوں میں جنگ کا دائرہ ایک ملک سے بڑھاکر دوسرے تک بھی پہنچادیا ہو۔ جو ایک کے بعد دوسرے ملک کو اگلا میدان جنگ بنانے کی دھمکیاں بھی دیتا ہو؟ اگر نہیں تو پھر اسلامی دنیا میں یہ تاثر مزید پختہ ہوتا جارہا ہے کہ یہ ایوارڈ دنیا میں امن کے لیے خدمات انجام دینے والوں کو نہیں بلکہ سامراجی قوتوں کے سکھ آرام کا بندوبست کرنے میں ”حسن کارکردگی“ ظاہر کرنے والے ہی کو دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ انعام پرویز مشرف کو بھی ملنا چاہیے کہ انہوں نے امریکی سامراج کا پٹھو بن کر 9 سال خدمات سرانجام دیں۔

 دوسری بات یہ ہے جیسا کہ نوبل پرائز کے بانی نے کہا تھا: ”اس میں مذہب، رنگ ونسل اور قومیت کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔“ لیکن مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ ہورہا ہے۔ اب تک 800 کے قریب یہ انعام دیے جاچکے ہیں۔ ان میں چند مسلمانوں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں دیا گیا۔ 57 مسلم ممالک میں کتنے اداروں اور افراد کو یہ انعام دیا گیا ہے؟ اہم شخصیات بھی اس ایوارڈ سے محروم رہی ہیں حالانکہ وہ مستحق تھیں۔ دبئی کے سلطان النہیان، ملائشیا کے مہاتیر محمد، پاکستان کے بانی محمد علی جناح، علامہ اقبال جیسے شاعر اور ادیب، بھٹو جیسے مدبر، شاہ فیصل جیسے زیرک جان بوجھ کر محروم رکھے گئے۔ نوبل پرائز کے موجودہ منتظمین کو چاہیے وہ مذہب وقوم اور رنگ ونسل سے بالاتر ہوکر خدمتِ خلق، علم وادب کے شعبوں میں کام کرنے والے مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والوں کو بھی اس انعام سے نوازیں۔ جو رفاہی ادارے اور ادیب خاموشی کے ساتھ انسانی بھلائی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اس طرح کے انعامات کے حق دار کیوں نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ سالوں ملک کے بالائی علاقوں کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ زلزلہ زدہ اضلاع مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان کے دوردراز کے دیہی علاقوں، پہاڑی دروں اور چھوٹے بڑے قصبات کو پہلی مرتبہ دیکھنے کا موقع ملا۔ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے سے ہونے والی تباہی اور بربادی کے اثرات ابھی تک نمایاں ہیں۔ لوگوں کی اکثریت غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ ان دیہی علاقوں میں خواتین، بوڑھوں اور بچوں کی کثرت ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا علاقے کے نوجوان مزدوری کے لیے قریب ودور کے شہروں کا رُخ کیے ہوئے ہیں۔ مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے مین بازار سے شمال کی جانب ایک مخروط پہاڑی نظر آتی ہے۔ اس پہاڑ کے بالکل پیچھے ایک بڑا گاؤں ہے جس کا نام کھبل ہے۔ 9 کلومیٹر طویل یہ گاؤں پائین اور بالا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ وہاں کے مرکزی علاقے جسے مقامی لوگ ”گراں“ کہتے ہیں اس کے کچے مکانات پر مشتمل ایک رہائشی بلاک جسے مقامی زبان میں ”چھم“ کہتے ہیں۔ میں اس کے کھنڈرات پر کھڑا تھا کہ قریب سے ایک ایمبولینس گزری جس پر فلاحی ادارے کا نام ”ایدھی“ لکھا تھا۔ سوچ رہا تھا اگر ایسے اداروں کو جو انسانیت کی بلارنگ ونسل اور بلا مذہب ومسلک اس اعلیٰ درجے پر اس قدر خاموشی سے خدمت کرتے ہیں، ایوارڈ دیا جائے تو ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔ جب ماضی میں رفاہی کاموں کی وجہ سے عیسائی نن ”مدر ٹریسا“ کو مل سکتا ہے تو پھر بلا رنگ ونسل اور مذہب فلاحی کارنامے سرانجام دینے والوں کے سرخیل عبدالستار ایدھی کو کیوں نہیں؟ جب فرانس کے غیر معروف مصنف ”لی کولیز“ کو یہ انعام مل سکتا ہے تو پھر ادبی دنیا کے منفرد نام ”عطاء الحق قاسمی“ کو کیوں نہیں!

انور غازی

This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

2 Responses to نوبل ایوارڈ کے مستحق

  1. Jawa Shayan says:

    Well-done guy! Beautiful documentry with reality of world and as much original as your previous blogs has been. I agree with your blog.

  2. Tarique says:

    Thanks Shayan Alikeep visiting my blog!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s