امریکہ کی عظیم ناکامی

گزشتہ سات سالوں کے دوران
پاکستان کے لئے براہ راست اور غیر پوشیدہ امریکی امداد اور افواج پاکستان
کے اخراجات کی ادائیگی کیلئے مہیا کی جانے والی امریکی امداد کا تخمینہ
15.941/ارب ڈالرز کے لگ بھگ ٹھہرتا ہے اس مجموعی خطیر رقم میں سے
10.941/ارب ڈالرز پاکستان کی سیکورٹی اور 4.598/ارب ڈالرز پاکستان کی
اقتصادی ترقی کے لئے فراہم کئے گئے۔ امریکہ مندرجہ ذیل سات زمروں میں
پاکستان کو معاشی ترقی کے لئے امداددیتا رہا ہے۔

-1 اقتصادی تعاون کا
فنڈ (ESF): یہ مجموعی طورپر 3.488/ارب ڈالرز کی خطیر امداد تھی۔ جس کے تحت
امریکہ نے پاکستان کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ مختص امداد سے امریکہ کو
واپس کیا جانے والا رعایتی قرضہ جو کہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرز تھا ،کی
ادائیگی کو منسوخ کر سکتا ہے۔ سال 2005-6ء میں پاکستان کے بجٹ کو مستحکم
کرنے کے لئے 200 ملین ڈالرز سالانہ کی نقد امداد پاکستان کے اکاؤنٹ میں
منتقل کی گئی۔-2 ترقیاتی امداد (DA) کی مد میں امریکہ نے 286 ملین ڈالرز
پاکستان کو دیئے۔

-3 کسی قدرتی آفت، تباہی یا ہنگامی صورتحال میں دی
جانے والی بین الاقوامی امداد (IDA) کی مد میں امریکہ نے پاکستان کو 255
ملین ڈالرز کی خطیر امدادی رقم دی جو بظاہر اکتوبر 2005ء میں کشمیر کے
زلزلہ متاثرین اور اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے افراد (IDPs) کی فلاح و
بہبود پر صرف ہو گئے۔-4 فوڈ ایڈ یعنی خوراک کی امداد کے حوالے سے 220 ملین
ڈالرز دیئے گئے۔-5 نوزائیدہ بچوں کی بقا و صحت (CSH) کے شعبے میں 185 ملین
ڈالر دیئے گئے۔-6 حقوق انسانی کی بحالی اور جمہوریت کے زمرے میں 17 ملین
امریکی ڈالر دیئے گئے۔-7 مہاجرین کی بحالی کے لئے امداد (MRA) کے حوالے سے
17 ملین امریکی ڈالر دیئے گئے۔اقتصادی ترقی کیلئے دیئے جانے والے
4.598/ارب ڈالر سے بات شروع کرتے ہیں یہ کل 360/ارب روپے بنتے ہیں۔ اگر اس
رقم کو ہر پاکستانی میں تقسیم کیا جائے تو ہر فرد، عورت اور بچے کو 2000
روپے فی کس ملنے چاہئیں، بتائیے! کہ یہ تمام رقم کہاں خرچ ہوئی؟

اب
آئیے 286 ملین ڈالر کی ترقیاتی امداد کی طرف جو کہ 123/ارب روپے کے برابر
ہے اس رقم سے 300 میگاواٹ تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اب ایک ایسی
صورتحال میں جب بجلی کا بحران سب کا منہ چڑا رہا ہے تو بتائیے امریکہ کی
مدد سے ہم نے کیا ترقی کی؟ کسی قدر تباہی کی صورت میں ملنے والی امداد IDA
کی مد میں 18/ارب روپے دیئے گئے۔ یہ بہت بڑی رقم ہے 2005ء میں آنے والے
زلزلے سے 3.3 ملین پاکستانی بے گھر ہو گئے تھے اور 18/ارب روپے کا مطلب ہے
کہ ہر بے گھر فرد کو 5500 روپے ملنے چاہئے تھے کیا کوئی ہے جو زلزلے سے
متاثرہ صرف پانچ ہزار ایسے پاکستانیوں کی فہرست بنا کر دکھا دے جو یہ
مانتے ہوں کہ ہاں ہمیں امریکہ سے مدد ملی ہے؟

اب بات کرتے ہیں فوڈ ایڈ
کی خوراک کی مد میں دی جانے والی امریکی امداد 18/ارب ڈالر ہے یعنی ہر
پاکستانی کے لئے 100 روپے یا ہر پاکستانی خاندان کے لئے تقریباً 500 روپے
کی امریکی امداد۔ لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اس وقت ملک میں چینی اور
آٹے تک کا بحران ہے کیا کسی کو کہیں نظر آرہا ہے کہ پاکستان کے عوام جو
سڑکوں پر مایوسی کے عالم میں آٹے اور چینی کے حصول کے لئے مارے مارے پھر
رہے ہیں ان بیچاروں کی زندگیوں پر 220 ملین ڈالر کی اس امریکی امداد نے
کیوں کوئی اثر نہیں ڈالا؟

بچوں کی بقا اور صحت کے لئے امریکہ نے
پاکستان میں 185 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی ہے لیکن یہ امداد بھی کہیں
نظر نہیں آتی۔ ذرا سوچئے حکومت جاپان نے اسلام آباد میں 230 بستروں کا
بچوں کا اسپتال بنا کر دیا ذرا سوچئے کہ اس طرح جاپان روزانہ کتنے
پاکستانیوں کے دلوں کو چھوتا ہے جب اس اسپتال میں روزانہ 400 مریض اپنا
معائنہ کروا کر جاتے ہیں اور حادثات اور ایمرجنسی کے شعبے میں تقریباً 100
مریض روزانہ اس اسپتال کی خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں تو پھر انکل سام کی
امداد کہاں گئی؟

مارگلہ کی پہاڑیوں کے قدموں میں جاپان کا تعمیر کردہ
بچوں کا تفریحی پارک سب کے سامنے ہے ارجنٹائن نے بھی اسلام آباد میں ایک
پارک تعمیر کیا ہے اور اس کے بالکل ساتھ ہی ارجنٹائن کی مدد سے تعمیر کردہ
فیڈرل گورنمنٹ سروسز اسپتال بھی موجود ہے جس سے سات ہزار مریض روزانہ
مستفید ہوتے ہیں۔ اہل چین نے ہمیں یہاں حسن ابدال سے لے کر کاشغر تک طویل
شاہراہ قراقرم تعمیر کر کے دی لیکن امریکیوں نے یہاں خود کو صرف اپنے
سفارت خانے کی عمارت تک محدود رکھا ہے۔ یاد رہے کہ 80 ملین پاکستانی ایسے
ہیں جو مناسب خوراک تک حاصل نہیں کر پارہے اور 80 ملین پاکستانی آج بھی ان
پڑھ ہیں۔ ذرا سوچئے کہ امریکی امداد سے تعلیم کے شعبے میں صرف 2 فیصد خرچ
کیا گیا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ گزشتہ 7 سالوں کے دوران 4.598/ارب ڈالر کی
تمام کی تمام امریکی امداد خرچ ہو گئی لیکن اس کے اثرات ملک میں کہیں بھی
نظر نہیں آتے۔

اب امریکہ نے کیری لوگر امدادی پیکیج کے ذریعے غریب
پاکستانیوں کے دلوں کو چھو لینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور پاکستان
کا مراعات یافتہ طبقہ اس بار خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہا ہے۔
پاکستان، امریکہ تعلقات کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ
امریکہ پاکستان میں اسپتال اور اسکول تعمیر کرنا چاہتا ہے، 60 سالہ تاریخ
میں پہلی بار امریکہ پاکستان کے عام معاشرے اور عوام کو کچھ دینا چاہتا ہے
اور پاکستان کا فوجی و غیر فوجی مراعات یافتہ طبقہ اس بار خود کو تنہا
محسوس کر رہا ہے۔ امریکہ کی براہ راست اور کھلی امداد پوشیدہ، چھپی ہوئی
اور خفیہ ہی رہی اور کسی کو نظر نہ آسکی کیا یہ امریکہ کی پاکستان میں
عظیم ناکامی نہیں؟ کیا امریکہ پاکستان میں منصوبہ سازی میں ناکام رہا یا
اس نے خود ہی یہاں ناکام ہونے والی منصوبہ بندی کی؟

ڈاکٹر فرخ سلیم
This entry was posted in News and politics. Bookmark the permalink.

One Response to امریکہ کی عظیم ناکامی

  1. DuFFeR says:

    وہی بات ہو گئی یہ توہمارے زورداری صاحب نویں نویں صدر بن کے گئے چندہ مانگنے تو چین نے کہا کہ پروجیکٹ بتاؤ ہم بنا کر دیں گےصدر صاحب نے کیش کیش کی رٹ لگا لیاور چوانلائی کے پیروکاروں نے کہاچلو دوڑ جو یہاں سےتو بات یہ ہے کہ پیسے آتے تو ہیں لیکن لگتے نہیںاور اب حکومت کو چمونے یہی لڑ رہے ہیں کہ اب پیسے دینے والے کہہ رہے ہیں کہ ہم چیک بھی رکھیں گے کہ پیسے مطلوبہ مقصد کے لئے استعمال بھی ہو رہے ہیں کہ نہیں؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s