دبئی میں مقیم بے بس پاکستانی

مئی کو دو برس بعد دبئی جانے کا
اتفاق ہوا۔ پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل پر
ایک فورم کا انعقاد کیا تھا، جس میں ہمیں بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
ہماری پرواز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر لینڈ ہوئی۔ جو ایمریٹس ایئر
لائنز کی پروازوں کے لیے مخصوص ہے۔ ایئر پورٹ پرسناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس
کی وجہ کراچی سے آنے والی واحد پرواز تھی۔ امیگریشن حکام غالباً ہمارے ہی
منتظر تھے۔ محض 15 منٹ میں تمام کارروائی مکمل ہوگئی اور ہمیں دو برس پہلے
کا منظر یاد آیا، جب طویل قطاروں میں لگ کر امیگریشن کرانے میں دو گھٹنے
صرف ہوئے تھے۔ ٹرمینل 3 کا سناٹا اس بات کا ثبوت دے رہا تھا کہ ہر عروج کو
زوال ہے اور دبئی اس وقت شدید کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے۔ بلڈنگ کے باہر
ہمارے میزبان پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے ایک عہدے دار عنایت صاحب ہمارے
منتظر تھے۔ ایئر پورٹ سے ایسوسی ایشن کے دفتر کا راستہ بہت سکون سے گزرا،
کیوں کہ سڑکوں پر ٹریفک بہت کم تھی۔ ایسوسی ایشن کے دفتر سے ہمیں ایرانی
ہوٹل لے جایا گیا۔ جہاں ہمارے قیام کا بندوبست تھا۔ ایرانی کلب پاکستان
قونصل خانہ دبئی کے قرب و جوار میں واقع ہے۔ اس علاقے میں انڈین کلب ،
سوڈانی کلب اور دیگر کلب موجود ہیں، لیکن پاکستانیوں کا کوئی کلب نہیں۔
دیگر قوموں کے کلبوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی پاکستانی قونصل خانے نے اپنے
کلب کے قیام کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔ جیوے پاکستان۔

دبئی میں قیام کے
دوران بے شمار پاکستانیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور تمام پاکستانیوں کی
شکایات کا مرکز قونصل خانہ دبئی تھا۔ پاکستانیوں نے فورم میں موضوع کا رخ
سفارت خانے کی کارکردگی کی جانب ہی رکھا۔ جس کے جواب میں قونصل خانے کی
نمائندگی کرنے والے کمرشل قونصلر منصور باجوہ نے بتایا کہ اب پاکستانیوں
کے لیے گراؤنڈ میں ایسے پنکھے لگوا دیے گئے ہیں، جن سے پانی

بھی گرتا
ہے، تاکہ ٹھنڈک کا احساس رہے۔ انہیں یہ چھوٹی سی بات سمجھ میں نہیں آرہی
تھی کہ سفارت خانے کے عملے کا سرد رویہ اصل مسئلہ ہے۔ پاکستانیوں کو
پنکھوں کی ٹھنڈک نہیں، عملے کی گرم جوشی کی طلب ہے۔ جس دفتر میں ہر چھوٹے
بڑے کام کے لیے معاوضہ مقرر ہو، وہاں پنکھوں کی سہولت فراہم کرنا کیا معنی
رکھتا ہے اور وہ بھی ایسے دیس میں، جہاں ایئر کنڈیشنر کے بغیر کاروبار
زندگی کا تصور ہی نہیں۔ دبئی میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے
وہاں سے نکلنے والے مقامی اردو اخبارات بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے
ہیں۔ ایک روزنامہ اور دو پندرہ روزہ باقاعدگی سے پاکستانیوں کی سرگرمیاں
شائع کر رہے ہیں۔ معاصر اخبار کے بیورو چیف طاہر منیر سرور نے بھی فورم
میں پاکستان سے آنے والوں کی تربیت پر خصوصی گفتگو کی۔ فورم میں دبئی
قونصل خانے کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی کی کمی بہ طورِ خاص محسوس کی گئی۔
وہاں یہ بتایا گیا کہ وہ پاکستان سے آنے والی ایک اہم شخصیت کی ڈیوٹی پر
مامور ہیں۔ فورم میں اس بات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ یہاں پر
تقریباً ہر ہفتے وزیروں اور بیورو کریٹس کی آمدورفت جاری رہتی ہے اور
قونصل خانے کا عملہ ان کی ”خدمات“ پر مامور ہو جاتا ہے۔ اس لیے

فارن
آفس کو چاہیے کہ یہاں ایک ڈپلومیٹک ڈیسک قائم کر دی جائے، جس کا کام ہی
وزیروں کو بہترین ہوٹلوں میں کھانا کھلانا اور شاپنگ کرانا ہو۔ شاید اس
طرح عملے کے افراد ضرورت مند پاکستانیوں کے لیے کچھ وقت نکال سکیں۔
پاکستانیوں سے ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان کی اکثریت ملک میں
سرمایہ کاری کی خواہاں، مگر سسٹم سے نالاں ہے۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ وہ
پاکستان جا کر اپنی جمع پونجی سرمایہ کاری کے نام پر لٹا کر دوبارہ واپس
آگئے ۔ اگر وطن میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ون ونڈو سسٹم کی سہولت فراہم
کردی جائے، تو اب بھی پاکستانی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ بہتر تعلیمی
سہولتوں کا حصول وہاں مقیم پاکستانیوں کا اہم مسئلہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ
لوگ دبئی آکر اگر سرمایہ کاری ہی کرنا چاہتے ہیں، تو تعلیمی شعبے میں
کریں۔ جہاں رقم ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں، اس طرح امارات میں مقیم
پاکستانیوں کو بھی بہتر تعلیمی سہولتیں میسر ہو جائیں گی ۔ کراچی واپسی کے
لیے ایمریٹس کے کاؤنٹر پر ایک پاکستانی بھائی سے ملاقات ہوئی،جن کا تعلق
بلوچستان سے تھا، انہوں نے تاکید کی کہ یہ ضرور لکھیں کہ یہاں مقیم سفارتی
عملہ صرف ایک صوبے کے لوگوں کو ہی پاکستانی سمجھتا ہے اور ملک کی طرح
سفارت خانے نے بھی بلوچستان کے لوگوں کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

4 Responses to دبئی میں مقیم بے بس پاکستانی

  1. DuFFeR says:

    ارے نہیں صاحبآپ کو تو ان صاحب کو سمجھانا چاہئے تھامیرے ساتھ تو سفارتخانے والے ہمیشہ یہ سلوک کرتے ہیں جیسے میں را کا ایجنٹ ہوںحرام ہے جو کبھی کا اچھا تجربہ ہو میرا ان سے واسطہ پڑنے کا

  2. Tarique says:

    آپ صحیح فرما رہے ھیں، یہاں ہم سب کا یہی حال ھے، کوئ پوچھنے والا نہیں، خیر اللہ اپنا رحم فرمائے

  3. axon333 says:

    Nice collection need to increase the quantity

  4. ielts lahore says:

    quality work …………..please keep it up..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s