خواب مرتے نہیں!

وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا سبھی رنگ اتار کے شہر کا
کوئی شخص تھامرے شہر میں کسی دور پار کے شہر کا
کسی اور دیس کی اور کو سنا ہے فراز چلا گیا
سبھی دکھ سمیٹ کے شہر کے سبھی قرض اتار کے شہرکا


فرازبھی
چلاگیا۔میر،غالب،اقبال‘فیض‘منیرسب چلے گئے۔منوں مٹی کے اندرسوئے ان کے جسم
بھی ایک دن مٹی ہوجائیں گے لیکن وہ زندہ رہیں گے۔ ان کے مزار پر پھولوں کی
کوئی چادر چڑھے نہ چڑھے‘ وہ سرخ گلابوں کے طشت کی طرح ہمارے چار سو مہکتے
رہیں گے۔ ان کے سرہانے کوئی چراغ جلے نہ جلے‘ وہ ہمارے دل و دماغ کے کسی
نہ کسی طاق میں شمع بن کر جگمگاتے رہیں گے۔ شاعر مرجاتا ہے لیکن شعر زندہ
رہتا ہے۔ اس لئے کہ وہ دلوں کے تار چھیڑتا ‘ فکر کے دریچے کھولتا ‘ جذبوں
کی آنچ کو تیز کرتا ‘ خیال کی صورت گری کرتا ‘احساس کو اظہارکے سانچے میں
ڈھالتا‘ان کہی کوزبان دیتا‘ آرزوکولفظ کاپیکرعطاکرتا‘دردسے لذتیں
کشیدکرتا‘دکھوں کوفریاد کی لے دیتا اور بنجر آنکھوں میں شاداب منظروں کے
خواب سجاتاہے۔خواب وقت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہ کبھی بوڑھے ہوتے ہیں
نہ مرتے ہیں۔ شاعر مر بھی جائے تواس کے بوئے ہوئے خوابوں کی سرسبز فصل
لہلہاتی رہتی ہے۔یہی خواب بڑے بڑے قلعے سر کرنے ‘ خود سر آمروں سے ٹکرانے
اور سنگلاخ پہاڑوں سے دودھ کی نہریں بہا لانے کا جنون عطا کرتے ہیں۔

فراز‘
محبت کے لازوال جذبے کو نغموں میں ڈھالتا ‘ وصال وہجرکے موسموں سے کھیلتا‘
تصویر یار کے پیکر تراشتا‘ محبوبیت کی ادا اورعشق کی انا سے مزے
لیتا‘زندگی کی رعنائیوں سے سرمستیاں سمیٹتا رہا لیکن اس کے ہاں غزل کے یہ
سارے روایتی مضمون ‘ نئی آب و تاب ‘ نئے اسلوب اور نئے لہجے کے ساتھ
ابھرے‘ اس نے بہت لکھا لیکن اسلوب کی تازگی اور مضمون کے نئے پن کو
مرجھانے نہ دیا۔ اقبال اور فیض کی روایت کو اپنے لہجے میں سموئے ہوئے اس
نے اپنی شاعری کو کلاسیکی رنگ سے دور نہ ہونے دیا لیکن جدید عہد کی حساسیت
اور تازہ مسائل سے بھی گہرا رشتہ بھی قائم رکھا۔

تو مری زندگی ہے مگر جان من
اب وہ عشق و محبت کی رسمیں نہیں
میرے دل میں کئی گھاؤ ایسے بھی ہیں
جن کا درماں تری دسترس میں نہیں
ایک غم جس کی شدت ہمہ گیرہے
تیرے بس میں نہیں میرے بس میں نہیں


فراز
کی شاعری رومانویت کے گداز میں گندھی ہونے کے باوجود مزاحمت کی توانا
للکار بھی رکھتی تھی۔ ضیاالحق عہد میں اس کی ایک نظم نے ایوانوں میں آگ سی
لگادی ۔ اسے گرفتار کرلیا گیا۔ جلد ہی رہائی مل گئی لیکن وہ نظم مخصوص
حلقوں تک ہی محدود رہی۔ تاہم اُن کی نظم ”محاصرہ“ کو زبردست مقبولیت حاصل
ہوئی اور وہ مشرف کی آمریت کے خلاف ایک جنگی ترانہ بن گئی۔ عمر اور بیماری
کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فراز ججوں کی بحالی کی تحریک کے ہراول دستے میں
رہا، میں نے اسے بارہا احتجاجی مظاہروں میں دیکھا جہاں اس کا جوش و جذبہ
جوانوں کو بھی مات کرتا تھا۔وکلاء کے لانگ مارچ والی شام میں اور حامد میر
اکٹھے تھے جب احمد فراز ہمیں ملا۔ بے کراں ہجوم کو دیکھتے ہوئے اُس کے
ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ کھلی ہوئی تھی۔ اس کا چہرہ گلنار ہورہا
تھا۔ اس کے ماتھے سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے تھے اور اس کی آنکھوں میں
”تیرے خواب“ تعبیر کی تنویر سے جگمگااٹھے تھے۔

اسلام آباد کے ایک بڑے
ہوٹل کی لابی میں ‘ دیوار کے ساتھ لگا ایک صوفہ سیٹ مدتوں سوگوار رہے گا۔
شاید ہی کوئی ایسی شام ہو جب فراز یہاں نہ آ بیٹھتا ہو۔ یہ اس کی امریکہ روانگی سے چند دن پہلے
کی بات ہے۔ سیاسی موسم بدل رہاتھا۔ ڈکٹیٹر کے قدم لڑکھڑارہے تھے۔ نگاہ
رکھنے والوں کو صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے۔ اُس دن
پرویز مشرف کے بارے میں ان کے ایک ایسے سابق ترجمان کا کھردرا سا بیان
شائع ہوا تھا جو کل تک آمر کے قصیدے گاتا اور اس سے قربت کو اپنے سرکی
کلغی بنائے پھرتا تھا۔ فراز اپنے مخصوص صوفے پر اکیلا بیٹھا تھا۔ میں اس
کے پہلو میں جا بیٹھا۔ اس نے عجب ترنگ سے پوچھا۔”کب جارہا ہے؟“ 
ترجمان ذی شان کے بیان کی طرف توجہ دلائی کہ ”دیکھو! اب وہ بھی اسے بے نگ
و نام کہہ رہا ہے“۔ فراز مخصوص انداز میں ہنسا اور اپنا ایک خوبصورت شعر
سنایا


چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے

پیڑ گرتا ہے تو آجاتے ہیں آرے لے کر
پیڑ کے حوالے سے مجھے فراز کا یہ شعر بہت اچھا لگتا ہے جو اس نے جلاوطنی کے دنوں میں کہا تھا
پیڑ اسی احساس سے مرتے جاتے ہیں
سارے پرندے ہجرت کرتے جاتے ہیں

فراز چلاگیا لیکن اس کے دیئے ہوئے خواب زندہ رہیں گے۔ اس کی ایک سدا بہار نظم کا عنوان ہے ”خواب مرتے نہیں“


خواب مرتے نہیں

خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مرجائیں گے
خواب مرتے نہیں
خواب تو روشنی ہیں‘ نواہیں ‘ہواہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظلم کے دوزخوں میں بھی بھنکتے نہیں
روشنی اور نوا اور ہوا کے علم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نور ہیں
خواب سقراط ہیں
خواب منصور ہیں


This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

One Response to خواب مرتے نہیں!

  1. رنگِ حیات says:

    Asalam Alaikum Tarique,
     
    Kafi arsay baad koi mazaydaar cheez perhne ko mili hai. Lafzon ki hair\’phair intehayi khoobsorat thi. Shair bhi bohat khoob the. In lines ko main ne kayi baar perha.
     
    " شاعر مرجاتا ہے لیکن شعر زندہ رہتا ہے۔ اس لئے کہ وہ دلوں کے تار چھیڑتا ‘ فکر کے دریچے کھولتا ‘ جذبوں کی آنچ کو تیز کرتا ‘ خیال کی صورت گری کرتا ‘احساس کو اظہارکے سانچے میں ڈھالتا‘ان کہی کوزبان دیتا‘ آرزوکولفظ کاپیکرعطاکرتا‘دردسے لذتیں کشیدکرتا‘دکھوں کوفریاد کی لے دیتا اور بنجر آنکھوں میں شاداب منظروں کے خواب سجاتاہے۔خواب وقت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ "
     
    Thanks for posting…
    Keep Writing!
     

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s