عرب دنیا کی نئی آواز۔ نیماہ اسمٰعیل نواب


وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئی جو مکہ معظمہ کے قدیم خاندانوں میں ایک
منفرد اعزاز کا حامل خاندان سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اٹھان ان گلیوں میں ہوئی
جن گلیوں میں خدا کی نشانیوں کا نزول ہوا۔ اس کے والد اسمٰعیل نواب عرب
دنیا کے ایک نامور اسکالر ہیں۔ اسمٰعیل نواب نے اپنی بیٹی کو نیند کے لئے
لوریاں یا نانی کی کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ وہ ابھی 8 سال کی ہی تھی کہ
اس کے والد نے سونے سے پہلے اسے شیکسپیئر کے ڈرامے پڑھ کر سنائے۔ پھر اس
نے اپنے شہر مکہ معظمہ کے ماضی و حال کے بارے میں اس شہر کے رسوم ورواج
اور رہن سہن کے بارے میں ایک ولندیزی مستشرق کا احوال پڑھا۔ پھر وہ پڑھتی
چلی گئی۔ اس نے عرب دنیا کو چونکا دینے والی آواز سنی، یہ آواز محمود
درویش کی تھی۔ اس کے ساتھ اس نے چلی کے پابلونرودا، امریکہ کے مقامی (ریڈ
انڈین) شاعر جوئے ہارجو، افریقی شاعر امیری باراکہ، امریکی شاعر اسٹینلے
کینٹیز، جین ہرشفیلڈ، ایڈرین رچ، ڈونالڈہال اور جین کینیون کو پڑھنا شروع
کیا۔ اس نے عرب دنیا کے کلاسیکی ادب سے اپنی روح کو سرشار کرنے کے بعد
عالمی ادب کی ایک سنجیدہ قاری ہونے کے طور پر اپنے اندر ایک حیرت انگیز
توانائی محسوس کی اور پھر وہ خود ایک شاعرہ بن گئی۔ اب نیماہ اسمٰعیل نواب
عرب دنیا کی ایک انتہائی طاقتور آواز ہے۔ اس کے اندر فکر و دانش کا ایک
منہ زور سیلاب بہتا ہے اور وہ اپنی شاعری میں پوری طاقت کے ساتھ اپنے دل
ودماغ میں اٹھنے والے مدوجزر کا اظہار کرتی ہے۔
عرب شاعری ہمیشہ رومانی اور رجزئیہ شاعری رہی ہے۔ عشق اور جنگ عرب شاعری
کے مخصوص موضوعات رہے ہیں۔ قصیدہ گوئی بھی عرب شاعری کا ایک بڑا موضوع اور
انوکھا اسلوب سخن رہا ہے مگر نیماہ اسمٰعیل نواب نے سنجیدہ، باوقار اور
طاقتور احتجاج کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے۔ اس نے عرب دنیا کی نئی
فکر، نئی تہذیبی روش، نئے عہد کی نئی محرومیوں اور نئے عرب انسان سے
مکالمے کے نئے تقاضے کو اظہار کا ایک نیا آہنگ اور ایک نیا اسلوب دیا ہے۔
نیماہ اسمٰعیل نواب نے عرب دنیا کو جدید دور کی تمام اقوام کے ساتھ ہم رنگ
و ہم آہنگ کر دیا۔ اس کی نظمیں ایک مخصوص ردھم کے ساتھ اپنا آغاز کرتی ہیں
اور پھر دلآویز لفظیات کے اعجاز کو سموتے ہوئے رقص کرتے ہوئے آگے بڑھتی
ہیں۔ گویا اس کی نظمیں احتجاج کرتی، دف بجاتی اور لفظوں کی ترتیب و تنظیم
کرتی ہوئی رقاصائیں ہیں جو محض ہیجان پیدا نہیں کرتیں اور نہ ہی داسیاں بن
کر بِنتی کرتی ہیں بلکہ وہ اپنے ہر انداز سے اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔
نیما اسمٰعیل نواب کی ایک نظم ”مہد سے لحد تک“ میں اس کے احتجاج کا انداز
ملاحظہ کیجئے۔

رحم مادر سے قبر تک ایک پوری قوم

ناپسندیدہ قرار دے دی گئی
رحم مادر سے قبر تک

مظلوم و محکوم عہدِ جبر کے خاتمے کیلئے چیختا ہے

سلسلہ درسلسلہ قتل عام، تشدد

اور جبر استبداد کے خاتمے کیلئے

توہین و اہانت اور شدید حبس زدہ دباؤ کے خاتمے کیلئے

بچوں ، بوڑھوں کا خوں بہانے،

زیتون کے جھنڈ جلانے، گھروں کو مسمار کرنے

اور ایک قوم کو غلام بنانے کے عمل کے خاتمے کیلئے

سب چیختے ہیں

آخر ان مظالم کا خاتمہ کب ہوگا

رحم مادر سے قبر تک یہ سارا عمل

سلسلہ درسلسلہ چلتا ہے

چلتا ہے، چلتا ہے اور چلتا ہے

نیماہ اسمٰعیل نواب نے اپنی شیریں مزاج لفظیات کی تہہ میں موجود تلخی سے
ایک عالم کو چونکا دیا۔ اس کی کتاب ”بادبان کھلتے ہیں“ کی اشاعت کے بعد
عرب دنیا کی نئی حقیقتیں سچ کے نئے زاویوں کے ساتھ مشرق و مغرب پر یکساں
آشکار ہوئیں۔ وہ اپنی شاعری قدیم روایات کے مطابق موسیقی کی دھنوں پر
رجزیہ انداز میں سناتی ہے تو ایک سماں باندھ دیتی ہے۔ نیماہ اسمٰعیل نواب
نے اپنی بیشتر شاعری آدھی رات کے بعد لکھی ہے۔ وہ اس وقت تک شاعری کیلئے
قلم اٹھا ہی نہیں پاتی جب تک آدھی رات بیت نہیں جاتی۔ اس کا کہنا ہے کہ
کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ میں نظم لکھنے بیٹھتی ہوں پھر کاغذ پر پھیلے
الفاظ دیکھتی ہوں اور اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کہ کیا یہ سب میں نے لکھا ہے۔
نیماہ اسمٰعیل نواب کی ساری نظمیں سچائی کا ساحرانہ اظہار ہیں مگر
جلاوطنی، زندگی سے ملاقات کا تعین، رقص، کمین گاہ، موت کا موقوف ہونا،
مارکیٹ کی ہوائیں، مکہ کی گلیاں، پراسرار راز، غفلتوں کے اسیر، شب بیدار
مسافر،لاجواب، بے عزت قیدی اور عمر قید ایسی نظمیں ہیں جو اشیاء، افراد،
اعمال، مختلف خطوں، بالخصوص عرب دنیا کے بارے میں آپ کو ایک نیا زاویہٴ
نگاہ دیتی ہیں۔ نیماہ اسمٰعیل نواب کی شاعری کے حوالے سے ایک قدرے کم اہم
بات یہ ہوسکتی ہے کہ میں نے اس کی نظموں کے ترجمے کا کام مکمل کر لیا ہے۔
اب ان صفحات کی ورق گردانی اور باز خوانی کا کام ہورہا ہے۔ آخر میں آپ اس
کی نظم ”عمر قید“ پڑھیئے۔

اس کی آنکھوں میں دنیا تاریک ہوگئی

اسے کٹی پتنگ کی ڈور کی طرح چھوڑ دیا گیا

بکھیردیا گیا … کچل دیا گیا

گھیر لیا گیا، باندھ دیا گیا

اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی گئی

اسے سخت جال میں پھنسا دیا گیا

اسے ایذا رسانی کے نت نئے طریقوں سے ذلیل کیا گیا

اس کا باطن بے اختیار قہقہے سے گونج اٹھا

اس کا ہونا ظاہر ہوا
جو ازلی تھا اور ابدی تھا

اس کا قیام ایک برزخ میں تھا

اس کی شادی نہیں ہوئی تھی
اور طلاق بھی نہیں ہوئی

وہ بے نور و بے کیف و تاریک و مبہم ہستی رکھتی ہے

اس کے سابق شوہر نے اپنے سارے اختیار و اقتدار کو

سلب کرنے کے بعد منجمد کر کے چھوڑ دیا ہے

اور اس تعلق کے منافع میں اسے جو انعام ملا ہے

وہ انعام اب بھی باقی ہے

اسے پھانسی پر چڑھا کر چھوڑ دیا گیا

وہ اب اس انعام کے پھندے سے لٹک رہی ہے

لٹک رہی ہے۔

This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

2 Responses to عرب دنیا کی نئی آواز۔ نیماہ اسمٰعیل نواب

  1. Iftikhar Ajmal says:

    بہت کچھ سیکھا اُس نے مگر کچھ نہ سیکھا اگر وہ اپنے آپ کو اپنی زبان کو اور اپنے ملک کو نہ پہچان سکی ۔

  2. Tarique says:

    آپ صیح کہ رھے ھیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s