عالمی یوم ارض

آج ساری دنیا میں عالمی یوم ارض
منایا جارہا ہے تو زمین پر انسانوں کے تیز تر پھیلاؤں اور ان کی بڑھتی
ہوئی معاشی سماجی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف زمین کے قدرتی خدوخال اور ہیت
تبدیل ہورہی ہے بلکہ کرہ ارض کا مقرر شدہ قدرنی ماحولیاتی نظام بھی درہم
برہم ہورہا ہے۔ زمین وماحولیات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق بنی
نوح انسان اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو درپیش ضروریات کو پورا کرنے کے لئے
خطہ زمین پر موجود دیگر جانداروں ، چرند پرند، جانوروں، پودوں،درختوں کی
بقاء کیلئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ آباد ی میں روزبروز اضافے کے باعث زمین
شدید باؤ کا شکار ہے۔  متعلقہ اداروں سے جو اعدادوشمار
حاصل کئے ہیں ان کے مطابق گزشتہ 20برس کے دوران عالمی آبادی میں 34فیصد
زائد خوراک پیدا کرنا پڑرہی ہے۔ اور خوراک کی ضرورت پورا کرنے کیلئے زرعی
رقبے میں اضافہ کرنا پڑرہا ہے۔ جس کے لئے جنگلات کو بھی کاٹا جارہا ہے۔
گلوبل انوائر نمنٹ آؤٹ پٹ رپورٹ 2007ء کے مطابق دنیا میں سالانہ 73ہزار
مربع کلو میٹر جنگلات ختم ہورہے ہیں۔ بارانی جنگلات کی بقاء کیلئے کام
کرنے والی تنظیم رین ٹری نیوٹر یشن کے مطابق زمین اپنی حیاتیاتی اجسام کے
خزانے کو تیزی سے کھورہی ہے۔ بارانی جنگلات کا رقبہ دنیا کے کل زمین رقبے
کا 14فیصد پر مشتمل تھا جواب کمہوکر صرف7 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے یوں
50فیصد سے زائد بارانی جنگلات کا خاتمہ ہوچکا ہے گزشتہ200برسوں کے دوران
بارانی جنگلات کا رقبہ1500ملین ہیکٹر سے کم ہوکر 800ملین ہیکٹر سے بھی کم
رہ گیا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس سلسلہ کو نہ روکا گیا تو باقی
ماندہ جنگلات کو انسان آئندہ40برسوں میں استعمال کرلیگا۔ بارانی جنگلات کے
ناپید ہونے کے خطرے کا اندازہ ان اعدادوشمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی
یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں فی سکینڈڈیڑھ ایکڑ رقبہ ختم ہورہا ہے
۔ تحقیق کے مطابق پودوں ، جانوروں اور اڑنے والے کیڑے کی 50فیصد سے زائد
اقسام کا مسکن گرم مرطوبارانی جنگلات ہیں۔ ایک ہیکٹر (2.47ایکڑ)رقبہ
جنگلات میں750سے زائد اقسام کے درخت اور1500اقسام کے بڑے پودے پائے جاتے
ہیں یوں انسان اوسط صرف2سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں ان کاخاتمہ کررہا ہے اس
کے علاوہ بارانی جنگلات میں 3000اقسام کے فروٹس پائے جاتے ہیں ان میں سے
200فروٹس مغربی دنیا استعمال کرتی ہے جبکہ انڈین فورسٹ میں 2000سے زائد
استعمال ہوتے ہیں۔ بارانی جنگلات کے خاتمہ سے ہر روز137اقسام کے پودے،
جانور اور اڑنے والے کیڑوں کا خاتمہ ہورہا ہے اس کے علاوہ دنیا میں بننے
والی 121ادویات بھی جنگلی پودوں کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی
کی بنیادی وجہ زراعت کے علاوہ لکڑی کا استعمال گھریلو اور کاروباری دونوں
مقاصد میں لانا ہے۔ عالمی تنظیم دی نیچر کنزوویشن کے مطابق دنیا کے ایک
ارب 20کروڑ غریب افراد میں سے 90فیصد کے گزربسر کا انحصار جنگلات پر ہے۔
ورلڈ کنزرویشن یونین کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں4میں سے ایک
دودھ پلانے والے جانوروں کی اقسام آئندہ50برسوں میں ناپید ہوجائے گی۔ اس
کے علاوہ 8میں سے ایک پرندوں کی اقسام اور33فیصد جوہڑوں کی مخلوق کا صفایا
ہوجائے گا۔ یونین کے مطابق جانوروں ، پودوں اور پرندوں کے خاتمہ کی شرح ان
کی متوقع قدرتی خاتمہ کی شرح کے مقابلے ایک ہزار سے 10ہزار گنا زیادہ ہے
جس کی بنیادی وجہ شہروں کے قیام اورآبادی میں اضافہ، زراعت، جنگلات کی
کٹائی اور شکار ہے۔ اس وقت 16ہزار حیاتیاتی اجسام کی اقسام کو ناپیدی
کاخطرہ لاحق ہے جبکہ گزشتہ500برسوں کے دووران انسانی سرگرمیوں کے
باعث820حیاتیاتی اجسام کا اقسام ناپید ہوچکی ہیں۔ورلڈ ارتھ نیٹ ورک کے
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ صدی کے دوران عالمی موسم میں1عشاریہ 7سے
1.5سینٹی گریڈ کااضافہ ہوا ہے اور پیشنگوئی کی جارہی ہے کہ 1990ء کے
مقابلے میں 21ویں صدی کے دوراناعالمی سطح پرگرمی کی شدت میں 1.4سے
5.8سینٹی گریڈ کااضافہ ہوگاجبکہ سطح سمندرمیں3.5سے34.6انچ کا اضافہ ہوگا۔
اسوقت سطح سمندر میں اضافہ کی رفتار کی شرح گزشتہ صدی کی نسبت 50فیصد زائد
ہے۔ صنعتی انقلاب کے آغاز سے اب تک گلوبل وارننگ کی سب سے بڑی وجہ کاربن
ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انسانی سرگرمیوں کے باعث
ہر سال 7ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضاء میں شامل ہورہی ہے۔ پاکستان میں
کاربن ڈائی آکسائیڈکااخراج اوسط فی کس 1عشاریہ 8میٹرک ٹن سالانہ ہے۔

This entry was posted in News and politics. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s