امیدیں


پوری قوم کو نئی اسمبلی اور نیا وزیراعظم مبارک ہو۔ عوام کو منتخب حکومت
سے بے شمار توقعات وابستہ ہیں، جس میں سب سے پہلے مہنگائی پر قابو پانا
ہے۔ دوسرے نمبر پر سیاسی اور معاشی استحکام اور تیسرے نمبر پر ملک اور اس
کے باشندوں کو خوشحال بنانے کی خاطر تمام وسائل کو بروئے کار لانا ہے۔
مہنگائی پر قابو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ اشیائے صرف خالص ہمارے اپنے ملک
کی ہوں، جن کو بنانے میں تمام اشیاء ہمارے ملک میں یا تو پیدا ہوتی ہوں،
یا حاصل ہوتی ہوں تاکہ لاگت کم سے کم آئے۔ ایک اہم بات جس کی طرف توجہ
کرنے کی لازماً ضرورت ہے وہ یہ کہ فروخت کنندہ حضرات کے منافع کی حد مقرر
کر دی جائے، جو پچیس فیصد سے زائد نہ ہو تاکہ ضروریات زندگی کی تمام چیزیں
ہر شخص کو دستیاب ہوں اور وہ آسانی سے انہیں خرید سکیں۔ دکاندار عورتوں کے
لباس کے ایک سوٹ کی قیمت پانچ ہزار سے شروع کرتے ہیں اور پندرہ سو میں
فروخت کر دیتے ہیں، جس میں یقیناً وہ منافع بھی کما لیتے ہیں ساڑھے تین
ہزار زیادہ رقم بتانا صارف کے ساتھ حد درجہ کی زیادتی ہے۔ دکانداروں سے
وجہ پوچھو تو وہ دکان کا کرایہ، بجلی کا بل، مزدوروں کی تنخواہ کا رونا
روتے ہیں۔ بجلی کے بل کے حوالے سے اگر حکومت چاہتی ہے کہ صارفین خصوصاً
دکاندار چوری کی بجلی کی بجائے جائز بجلی استعمال کرتے ہوئے اس کا بل ادا
کریں تو کمرشل میٹر کا فی یونٹ ریٹ رہائشی میٹر کے برابر کر دیا جائے اور
اس میں کم اور زیادہ یونٹ کے استعمال سے یونٹ ریٹ کا فرق ختم کیا جائے
بلکہ یکساں ریٹ پر صارف کے لئے مقرر کیا جائے۔ بجلی کے بلوں سے تمام قسم
کے چارجز کو ختم کر کے فی یونٹ ریٹ اور استعمال شدہ یونٹ کو دکھایا جائے
اور اس پر سیلز ٹیکس لگایا جائے تاکہ صارف کی شکائتیں کم ہو جائیں اور لوگ
بجلی کے دفتر کے چکر نہ لگا ئیں ۔ اشیائے خورد و نوش میں ہونے والی
مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت کو تمام اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے
اور منافع طے کر کے ریٹ مقرر کرنا ہو گا۔ ملکی سالمیت اور اس کی بقا کے
لئے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کا اتحاد نہایت خوش آئند ہے جس کو قائم
رکھنے کیلئے تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے
کہ عوام کے مفاد کو سامنے رکھا جائے اور ہر فیصلہ ہمارا اپنا ہو، جس کے
لئے کسی کی ڈکٹیشن کی ضرورت نہ پڑے۔ معاشی استحکام حاصل کرنے کے لئے ضروری
ہے کہ عوام کو ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دی جائے اور تمام اقسام کے ٹیکسوں
کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ غیر ضروری اخراجات اور تمام سیاسی اور
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کی شاہ خرچیاں بند کی جائیں تاکہ
بچائی گئی رقم سے قرضوں کی ادائیگی ممکن ہو۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ
اخراجات کو کنٹرول نہ کیا جائے اور امداد پر انحصار کیا جائے۔ ہمارے ملک
میں ایسے بھی لوگ ہیں، جن کی تنخواہ لاکھوں روپے ماہانہ ہے، جن کا بوجھ
عوام برداشت کرتی ہے۔ اگر تنخواہوں کی زیادہ سے زیادہ حد پچاس ہزار اور کم
سے کم دس ہزار مقرر کر دی جائے تو بڑی حد تک مہنگائی پر قابو پایا جا سکے
گا۔ دہشت گردی کے نام سے جو لا حاصل جنگ جاری ہے اس کا خمیازہ پوری قوم
خودکش دھماکوں کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ اس کارروائی کو فوراً روک دیا
جائے اور بے گناہ معصوم مسلمانوں کو تہہ دل سے معاف کر کے انہیں بھی
معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جائے۔ بلوچستان اور سرحد کے پہاڑوں میں چھپی
معدنیات ہمارے ہنرمندوں کی منتظر ہیں لیکن پہلے وہاں کے حالات کو بہتر
بنانا ہے جس کے لئے عام معافی کا اعلان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے
جوانوں کی واپسی اور فراہم کئے جانے والے اڈوں کی واپسی بہت ضروری ہے۔
حکومت اگر چاہتی ہے کہ قرضوں کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل جائے، عوام کو
خوشحالی میسر ہو، سیاسی اور معاشی استحکام حاصل ہو تو مندرجہ بالا امور کو
مدنظر رکھتے ہوئے دلیری سے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہمارا ملک براعظم ایشیا کا
ایک طاقت ور ملک ہے۔ ایشیائی ممالک سے اتحاد کر کے دشمنوں کے ناپاک عزائم
کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔


This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s