انتخابات اور ہار جیت

انتخابات میں ہارجیت ہوتی ہے، ہارکبھی آخری نہیں
ہوتی اور فتح، کبھی آخری فتح نہیں ہوتی۔ زندگی میں کامیابی کے لیے ہار جیت
کا یہ سبق سیکھنا بہت ضروری ہے اور جس نے یہ سبق نہیں سیکھا، وہ ہمیشہ کے
لیے ہار گیا۔ اگر اس بات کو ہمارے سیاست داں ہی نہیں حکمراں بھی سمجھ لیں
تو معاشرہ اسی طرح صحت مند ہوجائے گا۔ جس طرح کھلاڑی کا جسم ہوتا ہے، لیکن
بدقسمتی سے ہم نے زندگی کے سارے معاملات کو اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے
بجائے تنگ نظری کے حوالے کردیا۔
ابتدایئے کے بعد گفتگو کا آغاز تاریخی پس منظر سے کرتے ہیں کیوں کہ پیش
منظر کوئی نہ ہو، تو پس منظر اچھی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ ساٹھ برس کی مسافرت
میں ہم نے ان بہت سی چیزوں کا سراغ پالیا، جو اثنائے سفر میں نمودار ہوتی
رہیں، لیکن حقیقت کی وہ منزل مقصود جس کے لیے قربانیاں دے کر مملکت
پاکستان میں داخل ہوئے تھے، آج بھی غیر معلوم سی ہے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ،
اگر اس کی منزل تھی تو انحراف کا باعث کون لوگ ہوئے؟ کیا مملکت پاکستان کا
مقصد یہ تھا جو نظر آرہا ہے۔ ہم جو ایک ہیں، ہماری شناخت صرف پاکستان ہے،
پھر کیوں ہم فرقوں، گروہوں میں بٹتے جارہے ہیں۔ ہمارا جھنڈا کسی ایک سیاسی
جماعت یا فرقے کا نہیں ہے۔ یہ جھنڈا پاکستانی قوم کا اور اس پاکستانی
ریاست کا ہے جو 14/اگست کو وجود میں آئی۔ 11/اگست 1947 کو شہید ملت لیاقت
علی خان نے پرچم کشائی کی تقریب سے قبل ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا
تھا کہ ”ہمارا پرچم، استقلال، آزادی اور مساوات کی علامت ہوگا۔ یہ ہر شہری
کے جائز حقوق کی ضمانت کرے گا۔ یہ ملک کی سالمیت کی محافظت و حمایت کرے گا
اور یہ جھنڈا دنیا کی تمام قوموں کی عزت و تعظیم حاصل کرے گا۔“ لیکن ہم نے
کیا کیا۔ آج ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان سب ہیں، نہیں ہیں تو سچّے
پاکستانی۔ جب ہی تو ساٹھ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کم و بیش زندگی
کے تمام شعبے ہی خلفشار کا شکار ہیں۔ تعلیم و تدریس، معیشت، ثقافت، صنعت،
یہاں تک کہ کیا اخلاقی کیا سماجی، سب کے چہرے مسخ ہوچکے ہیں۔ رویوں میں
فرق آجانے کے باعث صحیح اور غلط کی تفریق و تقسیم یکسر بدل گئی۔ علاقہ
داری قومیت نے انسانی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ ہی کیا ہے۔
افسوس تو اس کا ہے کہ ہمارے نوجوان جنہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لیا تھا، وہ بھی فرقوں، گروہوں میں بٹتے جارہے ہیں۔ اس وقت روح سوز
لہجے میں اقبال کے گنگنانے کی آواز سماعت سے ٹکرا رہی ہے۔
کبھی اے نوجواں مسلم، تدّبر بھی کیا تُونے
وہ کیا گردوں تھا، تُو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا
سمان الفقر فخری کا رہا شان امارت میں
بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبا را تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو
نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیارا غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ
صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیرو، جہاں دارو، جہانبان و جہاں آرا
ملک سے محبت کرکے ہی ہم قدم جما کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک تھکا دینے
والے سفر کے بعد بھی یہ سوچتے ہیں کہ خدا جانے ہمارا مقصدِ سفر کن راہوں،
منزلوں اور پیچ و خم سے گزرے گا، کیا یہ غور طلب بات نہیں کہ یہ ملّت اپنے
دور کے ابراہیم کی تلاش میں ایک مدت سے سرگرداں ہے، لیکن بات وہی ہے کہ
پہچانتے نہیں ہیں راہبر کو ہم۔ جیسے ہی کوئی سامنے آیا، یہ قوم پھر
ناامیدی میں امید کے چراغ جلانے لگے گی۔ ہوسکتا ہے دِیے جلانے کی تیاری
شروع کردی ہو، کیوں کہ ہمارے عوام بہت معصوم اور مسکین ہیں۔ احساسات کے
تابع، ذرا سی خوشی ملنے پر قہقہے لگاتے ہیں اور معمولی غم خون کے آنسو
رُلا دیتا ہے۔ لیکن اگر حالات کے کھوکھلے اور دیمک خوردہ تنے سے نئی شاخوں
کے پھوٹ نکلنے کی آرزو نہ رہے تو ہم بے حسی کی گھٹن میں دم توڑ دیں گے۔
کاش، ہمارے کشکول ذہن نئی امنگوں سے روشناس ہوجائیں۔ ہم اپنے اندر توانائی
محسوس کریں۔ کاش، انتخابات کے بعد اب ہم سب مل کر اس ملک کو اپنے جذبہٴ
تعمیر اورحسنِ تخلیق سے اتنا خوب صورت بنا دیں کہ جنّت کا گمان ہونے لگے۔
یہ سوچ لیں کہ ہمارا آج کا مسئلہ روٹی، کپڑا، مکان سے بڑھ کر تحمل، تدبر
اور تفکر کی ضرورت پر منتج ہے۔ آج ہم شعوری ارتقاء کے باوجودبھی غرور و
خوف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں، تب ہی تو سیاسی، سماجی، نفسیاتی مسائل
روز بہ روز ابھرتے جا رہے ہیں اور قوم بے چینی، بے اطمینانی کی دلدل میں
دھنستی چلی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایسا سلگتا سوال ہے جو ہم آپ سے
پوچھیں یاآپ ہم سے پوچھیں، جواب صرف ایک ہے، اتفاق آپ بھی کریں گے کہ
ہمارے مزاجوں میں ”بے حسی“ در آئی ہے۔ شرمندگی، اظہارِ ندامت، ڈھیٹ خاموشی
میں بدلتے جا رہے ہیں۔ بڑے سے بڑے غلط کام کر کے، اطمینان سے اکڑ کر کہا
جاتا ہے ”جو ہم نے کیا وہی درست ہے، دوسروں جو کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں،
وہ غلط ہے۔“ اوپر خدا نیچے حکمران ہیں، بیچ میں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے
تیر پر تیر چلاؤ تمہیں ڈرکس کا ہے
سینہ کس کا ہے میری جان سپر کس کا ہے
کہتے ہیں کہ اگر کوئی اتفاقیہ گھوڑے پرسے گر جاتا ہے تو اس کو روندا نہیں
جاتا بلکہ اٹھا کر پھر گھوڑے پر بٹھا دیا جاتا ہے، لیکن جو جان بوجھ کر
گرے اور عوام کو روندتا چلا جائے تو پھر یہ عوام کی طاقت پر منحصر ہے کہ
وہ کیا قدم اٹھائے۔اب دیکھیں چرچل کو اس کی قوم نے سالہا سال تک گالی گلوچ
کا نشانہ بنائے رکھا، مگر اسی چرچل نے اس قوم کو ہٹلر کی غلامی سے بچالیا۔
اگر چرچل نہ ہوتاتو آج برطانیہ کا کیا حال ہوتا؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ
سیاست میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی اورمستقل روگ نہیں سمجھی جاتی۔ اگر
سیاست دانوں کا مطمح نظر قوم کی مجموعی بھلائی ہو، ذاتی سیاست یا انَا کا
ٹکراؤ نہ ہو۔ سیاست انتقام یا تنگ دل پر نہ ہو۔ تو ہرچیز پر نظرثانی ہو
سکتی ہے۔ لیکن اگر ہمارے سیاست دان، حکمران، کدورتوں کی کڑاہی میں سارا
وقت جلتے بھنتے رہیں تو پھر نہ وہ قوم کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں اور نہ خود
جلنے کڑھنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ سوچیں کہ انسان غلطیاں کرتا ہے لیکن
اصلاح کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتا تو اپنے باطن میں کیسے کیسے عذاب جھیلتا
ہے۔ جس طرح کریلے جیسی کڑوی کا مربّہ مشہور ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے
کہ باورچی یہ فن جانتا بھی ہو، اگرچہ ابھی تک ہمارے سیاستدان اپنے فن میں
تاک نہیں ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ جلد وہ کڑواہٹ بھری سیاست کو ختم کرنے
میں ماہر ہوجائیں گے اور پاکستان جس کا خواب عبدالحلیم شرر، سید احمد خان
اور شاعرِ مشرق، علامہ اقبال نے دیکھا تھا، اب ایک خواب نہیں رہے گا، اس
کی تعبیر جلد نظر آجائے گی۔ہماری دعا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب
ہونے والی حکومت نفرتوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ سب ایک دوسرے سے محبت
کرتے رہیں، محبت بانٹتے رہیں اور محبت پاتے رہیں۔
ہمیں مصطفی زیدی مرحوم کی نظم” احتساب“ کا ایک بند یاد آرہا ہے۔
میں اپنے ذہن کا اِک اِک ورق الٹتا ہوں ہر اِک ورق کی جبیں پر نشانِ عصمت
ہے
کسی بیاض پر بکھرا ہوا ہے، خواب کا رنگ
وہ خواب جن میں نئے عہد کی بشارت ہے


This entry was posted in News and politics. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s