حرف تازہ، نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

حرف تازہ، نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے

ایک لمحے کی توجّہ نہیں حاصل اُس کی
اور یہ دل کہ اُسے حد سے سوا چاہتا ہے

اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
گُل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے

ریت ہی ریت ہے اس دل میں مُسافر میرے
اور یہ صحرا تیرا نقش کف پا چاھتا ہے

یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی
اور کُچھ روز کہ وہ شوخ، کُھلا چاہتا ہے

رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن
رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے

تیرے پیمانے میں اب گردش نہیں باقی، ساقی
اور تیری بزم سے اب کوئی اُٹھا چاہتا ہے

 
 
This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s