وصیت نامہ اور لائف لسٹ

وصیت نامہ اور لائف لسٹ

کیا آپ نے اپنا وصیت نامہ تحریر کر لیا ہے؟ میں تو کیا کوئی بھی آپ سے یہ سوال کرے، تو آپ فوراً اس کی نیت کے بارے میں مشکوک ہو جائیں گے یا کم از کم اس سوال کو اپنے لئے بد شگونی تصور کریں گے حالانکہ سب سمجھدار لوگ اپنی زندگی میں ہی چاہے عمر کے کسی حصے میں ہوں اپنے اثاثوں، اپنی جائداد یا پھر اپنے سے متعلق دیگر معاملات کے بارے میں ایک تحریری دستاویز ضرور تیار کر لیتے ہیں تاکہ ان کے بعد ان کے لواحقین کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو یا کم از کم دوسروں کے غلط فیصلوں سے ان کی روح کو تکلیف نہ ہو۔ ویسے روح کو تکلیف ہو یا نہ ہو، انسان اپنے بعد بھی اپنے فیصلے دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش ضرور رکھتا ہے۔ مرنا یا موت بہرحال ایک اٹل حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس کے آگے دنیا کی ساری باتیں، سارے مسائل، ہر خوشی، ہر غم، ہر ارادہ اور ہر خواہش اپنی اہمیت کھو دیتی ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی، کم از کم مرنے والے کے لئے باقی سب کچھ IRRELEVANT یا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ موت کا ذکر کر کے میں آپ کو ڈرانا یا بد مزہ کرنا نہیں چاہتی بلکہ میں تو آپ کو زندگی کی طرف لانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ یوں بھی وصیت نامہ ان لوگوں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جن کی زندگی میں محض صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا والے حالات ہوں، بھلا انہیں اپنے کن اثاثوں کے بارے میں وصیت کی ضرورت ہو گی؟ رہے دوسرے انسانی معاملات تو انہیں اپنے بعد دوسرے لوگوں یا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑ دینا ہی مناسب ہے۔ خواہ مخواہ کی وصیتیں کر کے لوگوں کو کچھ باتوں کا پابند کرنا، کسی طور بھی مناسب نہیں۔ آپ کے لئے تو صرف ایک ہی بات مناسب ہے کہ آپ فوراً اور اسی وقت ایک لائف لسٹ (LIFE LIST) بنا لیں۔ لائف لسٹ سے میری مراد وہ سارے کام ہیں جو آپ مرنے سے پہلے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا خواہش رکھتے ہیں کہ زندگی اگر مہلت دے تو آپ ان کاموں یا باتوں پر ضرور توجہ دیں گے۔ خواہش کرنا یا سوچنا ایک بات ہے اور کاموں کی باقاعدہ فہرست بنا کر عمل کرنے کا ارادہ کرنا بالکل دوسری بات ہے۔ اپنی خواہشوں یا ارادوں کو تحریری شکل دینے سے آپ کے لا شعور میں یہ بات پختہ ہو جاتی ہے کہ آپ واقعی ان معاملات میں سنجیدہ ہیں۔ جب تک زندگی ہے انسان کے ساتھ ہزاروں خواہشیں لگی رہتی ہیں۔ ان خواہشوں کی ایک فہرست بنا لیں۔ سب سے پہلے وہ چیزیں تحریر کریں جن کا حصول آسان اور قابل عمل ہو۔ کم از کم دس سے پندرہ سہیں ایسی خواہشیں یا ایسی باتیں یا کام فہرست میں سب سے پہلے لکھیں جنہیں آپ مستقبل قریب میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا جن کے بارے میں آپ اکثر سوچتے رہتے ہیں مثلاً ایک ملازمت پیشہ فرد، اپنا بزنس یا ذاتی کام شروع کرنے کی خواہش اگر رکھتا ہو تو یہ کام خاصا مشکل ضرور ہے لیکن اسے اپنی لسٹ میں شامل کرنے کا مطلب ہو گا کہ پھر وہ اس کے حصول کے لئے ذرائع بھی سوچے اور ڈھونڈے گا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان کوئی ایسا ہنر سیکھنا چاہتا ہے جس کا تعلق اس کی روزمرہ کی زندگی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا مثلاً ایک بزنس مین کو آرٹسٹ بننے کی تمنا ہے یا پھر وہ موسیقی کا کوئی ساز بجانے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک خاتون خانہ کوئی غیر ملکی زبان سیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں یا کوئی فلاحی کام کرنے کی تمنا دل میں مچلتی ہے۔ تو ایسے سارے کاموں کے لئے مضبوط ارادے کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے عوامل بھی ضروری ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنے لئے ہموار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کاموں کے لئے وقت نکالنا، ذرائع تلاش کرنا اور پھر جی جان سے اس پر عمل کرنا ایسے عوامل میں شامل ہیں۔ لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو آسانی سے کی جا سکتی ہیں یعنی آپ کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں مثلاً اپنی صحت پر توجہ دینا، وزن کم کرنا، کوئی پسندیدہ فلم دیکھنے جانا، میوزک سننا، وہ ساری کتابیں پڑھنا جنہیں پڑھنے کی ہمیشہ حسرت رہتی ہے یا پھر محض برستی بارش میں بچوں کی طرح نہانا۔ یہ سب خواہشیں یا ایسی ہی دوسری باتیں انسان سوچتا ہی رہتا ہے اور کرتا نہیں۔ انہیں زندگی میں کر ہی لینا چاہئے۔ صرف ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس لائف لسٹ میں درج کچھ باتیں یا کام مشکل ضرور ہوں گے لیکن ایسی چیزیں شامل نہ کریں جن کا حصول نا ممکن ہو۔ مثلاً آپ چاہتے ہوئے بھی چاند پر چہل قدمی نہیں کر سکتے لیکن چاندنی رات میں گھاس پر یا سمندر کے کنارے ٹہلنے کی خواہش تو پوری کی جا سکتی ہے ! لائف لسٹ بنانے کا مقصد جہاں اپنی شعوری اور غیر شعوری خواہشوں کو ایک واضح شکل دینا ہے وہیں یہ اپنی زندگی کو ایک ڈگر پر لانے میں بھی معاون ہو سکتی ہے۔ جو جو کام آپ کرنا چاہتے ہیں یا جن چیزوں کا حصول آپ کے پیش نظر ہے ان سب کے لئے وقت کا تعین کریں۔ ہر چیز کے آگے ایک خاص مدت طے کریں کہ آپ یہ کام اتنے عرصے میں کر لینے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اتنے وقفے میں اس کا حصول ممکن ہو گا۔ اس کو گاہے گاہے یا ایک خاص مدت کے بعد چیک کرتے رہیں کہ اس معاملے میں کتنی پیشرفت ہوئی ہے۔ عین ممکن ہے ایک خاص مدت گزرنے کے بعد آپ وہ خواہش حاصل کر چکے ہوں یا آپ کی وہ تمنا ہی دم توڑ چکی ہو۔ اپنی اس لسٹ میں نئے عزائم، نئی خواہشیں یا نئی منزلیں شامل کر لیں، یہ سلسلہ جاری و ساری رہنا چاہئے۔زندگی تو جاری و ساری رہتی ہے لیکن اپنے اندر زندگی کی امنگ اور جینے کی تمنا قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ خواہشوں سے ہاتھ نہ کھینچا جائے بلکہ اپنے لئے نئے سے نئے نصب العین قائم کرتے رہیں، ان کا حصول یا انہیں حاصل کرنے کی کوشش ہی زندگی کا اصل حاصل ہے۔ رہی موت تو اس کا کیا ہے وہ تو ہر چوراہے، ہر نکڑ پر آپ کی منتظر ہے۔ اس پر تو آپ کا کوئی اختیار نہیں لیکن جو چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش ضرور کریں۔ خاص طور پر وہ کام، باتیں یا خواہشیں جو صرف دل میں ہی مچلتی رہتی ہیں اور آپ محض عدم فرصتی، ذرائع کی کمی یا صرف لوگوں کے خوف سے ان پر توجہ نہیں دیتے۔ انہیں آج ہی جھاڑ پونچھ کر فہرست میں شامل کر لیں۔ یاد رکھیں یہ لائف لسٹ ہے۔ یہ سارے کام آپ کو مرنے سے ” پہلے “ کرنا ہیں، رہیں بعد کی باتیں تو کون جانے اسی فہرست میں شامل کچھ کام بعد میں بھی ہمارے کام آ جائیں، لیکن یہ نہ بھولیے کہ جو لمحہ موجود ہماری دسترس میں ہے ہمیں اس میں کچھ  کر لینا چاہئے کیونکہ ہمارے پاس تو بس یہی وقت ہے!!!  

مسرت جبیں
This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s