مرگ مترحّم(Mercy Killing)

مرگ مترحّم

روز ویل گلبرٹ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھا اور ایک بڑی ورکشاپ کا مالک۔ نینی اپنی ماں کے ساتھ اس کی ورکشاپ سے کچھ فرنیچر وغیرہ خریدنے گئی تھی۔ خرید و فروخت ہوئی یا نہیں لیکن ایک سنگین واردات ضرور ہو گئی۔ گلبرٹ نوخیز نینی پر فدا ہو گیا پھر بہت پاپڑ بیلے اور کئی سال انتظار کیا بالآخر بات بن گئی۔ گلبرٹ اور نینی کی شادی ہو گئی۔ فلوریڈا میں لوگ اس شادی کا ذکر بڑے اچنبھے کے ساتھ کرتے تھے کہ امریکا جیسی اوپن سوسائٹی میں گلبرٹ جیسے مجنون بھی پائے جاتے ہیں۔ وہ ایک آئیڈیل جوڑا تھا، لوگ انہیں مختلف ناموں سے پکارتے تھے۔ مغرب والے رومیو جولیٹ کہتے اور اس کے ایشیائی احباب بالخصوص برصغیر والے ہیر رانجھا کہہ کر چھیڑتے۔ دن عید اور رات شب برات تھی کہ اس جوڑے کو کسی کی نظر لگ گئی۔ نینی کو شدید فالج ہو گیا، بس ایک سانس کی آمد و رفت رہی، باقی سب کچھ بیکار ہو گیا۔ گلبرٹ تو صدمے سے گویا پاگل ہو گیا۔ بہت علاج کروایا سب کچھ خرچ ہو گیا کاروبار ختم ہو گیا لیکن افاقہ ہونا تھا نہ ہوا۔ ایک عرصہ سنبھالتا رہا، خدمت کرتا رہا، لیکن اپنی سویٹ ہارٹ کی اذیت دیکھی نہیں جاتی تھی، پھر یکایک اس نے ایک تلخ فیصلہ کرلیا، نینی کو اپنے ہاتھوں موت کی نیند سلا دیا۔ گلبرٹ پر قتل کا مقدمہ بن گیا مگر وہ جرم سے انکاری تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی محبوب گھر والی کی مدد کی ہے، اسے اذیت سے نجات دلائی ہے، اس کی بیماری ناقابل علاج تھی اور اس کی بے بسی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی، آپ اسے قتل کہتے ہیں یہ تو نینی کے ساتھ میرے اظہار عشق کی انتہا ہے۔ بہرحال عدالت نے گلبرٹ کا موقف رد کرتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنا دی۔ شاید امریکا میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہ ہو لیکن مرگ مترحّم (Mercy Killing) کے طور پر زیادہ شہرت اسی واقعے کو ملی اور میڈیا میں مرسی کلنگ کے بارے میں بحث چل نکلی۔ ایک بڑے گروہ کے نزدیک گلبرٹ کے فعل کو کسی طور پر قتل قرار نہیں دیا جاسکتا تھا اور عدالت نے اسے سزا دے کر زیادتی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ محض سانس کی آمد و رفت زندگی نہیں ہے۔ انسان کی حسیاتی صلاحیتوں کا کارآمد رہنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر مریض کی کوئی حس کام نہیں کر رہی تو محض سانس کی آمد و رفت سے اسے زندگی اور موت کے درمیان معلق رکھنا نامناسب ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ناقابل واپسی کوما میں چلا جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ دوائیوں اور دیگر عوامل کے سہارے ایک عرصے تک سانس لیتا رہے لیکن وہ محض ایک زندہ لاش ہو گا۔ ایسے شخص کو دوائیوں کے سہارے زندہ رکھنے کی بجائے بہتر ہو گا کہ اس کا علاج بند کر کے اسے اطمینان کے ساتھ مرنے دیا جائے۔ ایسے میں اگر لواحقین اصرار کریں تو طبیب کا فرض ہے کہ انہیں سمجھائے کہ ”ہم اپنی سی کر چکے، صحت کی توقع صفر ہے لہٰذا بہتر ہے کہ اب اسے اللہ کے حوالے کردیں“ جس کے لئے علاج بند کرنے کے علاوہ کسی زہریلی دوائی یا ٹیکے کا سہارا بھی لیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سامنے دیوار پر لکھی ناقابل تردید موت والے مریض کے لواحقین کی اذیت میں کیوں اضافہ کیا جائے؟ مرنے والے نے تو ہر صورت مرنا ہے، تو کیوں نہ اس کے پیاروں کی اذیت کو کسی حد تک کم کردیا جائے۔ وہ انتظار کی سولی پر کیوں لٹکے رہیں؟ دوسرا گروہ مرسی کلنگ کے مخالفین کا ہے ان کے پاس بھی دلائل کا انبار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”زندگی اللہ کا عطیہ ہے، ہم اس کے رکھوالے ہیں، مالک نہیں، مالک اللہ کی ذات ہے لہٰذا ہمیں اپنی یا کسی اور معصوم کی جان لینے کا کوئی حق نہیں، حالات خواہ کچھ بھی ہوں“ یہ تو ہے اللہ پر ایمان رکھنے والوں کی سوچ، جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، زندگی بچانے کے بارے میں ان کا نظریہ بھی بہت واضح ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کے تحفظ میں معاشرے کی بقا ہے، ورنہ ہر طرف لاقانونیت اور افراتفری کا دور دورہ ہو گا اور سوسائٹی پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے گی۔ مرسی کلنگ کے مخالفین کے نزدیک شعبہ طب کو اس غیر اخلاقی فعل کا اختیار دینا اس مقدس پیشے اور اس سے جڑے ہوئے لوگوں کی توہین ہے۔ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل والے زندگی بچانے والے ہیں، وہ لوگوں کو اس بیش بہا عطیہ خداوندی سے کیونکر محروم کرنے لگے؟ اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ان مسیحاؤں پر سے لوگوں کا ایمان اٹھ جائے گا اور طب کے پیشے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ ایک درمیانی راستہ بھی ہے بعض ناقابل علاج مریضوں کو مصنوعی طریقوں سے مشینوں کے سہارے زندہ رکھا جاتا ہے اور ایسی تھراپی یا سپورٹ کے ختم ہوتے ہی مریض اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ طبی ethics میں اس نوع کی موت کو جائز قرار دیا جاتا ہے اور صورتحال سے آگہی کے بعد لواحقین اور بعض اوقات مریض خود عارضی سہاروں سے نجات کی اجازت دے دیتے ہیں۔ مرسی کلنگ کے حامیوں کے نزدیک مرسی کلنگ اور حیات افزا عارضی سہارے ختم کرکے مریض کو موت کے حوالے کر دینے میں محض معمولی سا تیکنیکی فرق ہے۔ موخرالذکر میں آپ سپورٹ ختم کر کے انسانی زندگی ختم کر دیتے ہیں اور اول الذکر میں یہ عمل تھوڑی خارجی سپورٹ سے پایہٴ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ مقصد اور نتیجہ ایک ہے۔ صرف طریق کار مختلف ہے لیکن اس منطق میں وزن نہیں کیونکہ سپورٹ ہٹا کر آپ نیچر کو سپورٹ کرتے ہیں، اس کے راستے کی رکاوٹ دور کرتے ہیں جبکہ مرسی کلنگ میں یہ کام آپ خود کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا مرسی کلنگ کے مخالفین کے نزدیک پستول کی گولی سے مارنا یا دوائی کی گولی سے ایک ہی بات ہے اور یہ فعل کسی طور پر قتل سے کم نہیں۔ بہرحال فلوریڈا والوں کی ہمدردیاں گلبرٹ کے ساتھ تھیں کیونکہ انہیں رومیو اور جیولیٹ کی اس امریکی کہانی کی جزئیات کا علم تھا اور یہ رائے عامہ کے دباؤ کا نتیجہ تھا کہ کئی سال کی سزا بھگتنے کے بعد جیوری کو گلبرٹ کا کیس ری اوپن کرنا پڑا اور فلوریڈا کے گورنر نے اس کی سزا معاف کردی۔

ریاض سید
This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

One Response to مرگ مترحّم(Mercy Killing)

  1. Mera Pakistan says:

    یہ کہانی آپ نے بلاگ پر کاپی کی ہے تو بہتر ہوتا اگر آپ آخر میں اپنے خیالات کا بھی اظہار کردیتے۔ ویسے ہمارے خیال میں انسان کو بچانے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اس کے عزیز یہ ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو یورپ میں حکومت اس کا خیال رکھ سکتی ہے اور پاکستان جیسے ملک میں اگر کوئی بھی مریض کی دیکھ بھال کرنے کی حامی نہ بھرے تو پھر اسے خدا کے سپرد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
    ہم خود گواہ ہیں کہ ہمارے ایک عزیز کی بیوی دو ماہ قومے میں وہنے کے بعد دوبارہ ہوش میں آگئی اور اب تک زندہ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s