یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو

یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو

یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو، کوئ شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ھے، اُسے چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئ ہاتھ بھی نہ ملائے گا، جو گلے مِلوگے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شھر ھے، زرا فاصلے سے ملا کرو

ابھی راہ میں کئ موڑ ھیں، کوئ آئیگا کوئ جائیگا
تمھیں جس نے دل سے بُھلا دیا اسے بُھولنے کی دُعا کرو

مجھے اشتہار سی لگتی ھیں، یہ محبّتوں کی کہانیاں
جو کہا نھیں وہ سُنا کرو، جو سُنا نھیں وہ کہا کرو

کبھی حسن ِ پردہ نشیں بھی ہو زرا عاشِقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کہ کہیں چلوں، میرے ساتھ تم بھی چلا کرو

یہ خِزاں کی زَرد سی شام میں، جو اُداس پیڑ کے پاس ھے
یہ تمہارے گھر کی بہار ھے، اسے آنسوء وں سے ہرا کرو

نھیں بے حجاب وہ چاند سا، کہ نظر کا کوئ اثر نھیں
اُسے اتنی گرمی ِ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو

یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو، کوئ شام گھر بھی رہا کرو

                 بشیر بدر

بشیر بدر کی آواز میں یہ غزل آپ یہاں سے سُن سکھتے ہیں

This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

4 Responses to یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو

  1. Tarique says:

    Awesome Post!

  2. Tahir says:

    hmmm – achhi hay
    you can find this song here http://www.musicindiaonline.com/p/x/.qOpWg2p4d.As1NMvHdW/

  3. Tarique says:

    Realy Great Space!

  4. Tarique says:

    GrayVinus: Thanks for sharing a song🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s