اردو زبان کا مستقبل

اردو زبان کے قدیم داستان گو میر باقر علی کے لکھے ہوئے ایک خاکے سے اردو زبان کا ایک گمشدہ لفظ دریافت کیا گیا جو کسی زمانے میں برصغیر کے دستر خوانوں کی زینت ہوا کرتا تھا بلکہ یوں کہیئے تو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دستر خوانی نفاست وشائستگی اور آبرو مندانہ فراغت کی علامت تھا۔ جی ہاں ”ثقل دان“ ہمارے اہتمام دستر خوان کی روایت بڑی پرانی ہے جس پر ایک لازمی برتن ثقل دان ہوا کرتا تھا جس کے سپرد ہر وقت چیز کردی جاتی جو گراں بار طبیعت ہوتی وہ کون سا دستر خوان ہو گا جس پر کھانا تناول نہ کیا جاتا ہو اور فاضل چیزیں منہ سے نہ نکالی جاتی ہوں ہڈیاں‘ کنکر‘ گرم مصالحے کے اجزاء‘ بیچ‘ ادھ چبی غذا کے نوالے یہ کھلی طشتری یا رکابی کے سپرد کردئیے جائیں تو دیکھنے والوں کی طبیعت پر نہایت گراں گذرتے ہیں نگاہ پڑ جائے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ ”ثقل دان“ ایک مرتبان نما برتن تھا جس کے اوپر ڈھکن ہوتا تھا تاکہ منہ سے نکالی ہوئی چیزیں نگاہوں سے اوجھل رہ کر طبیعت کو بوجھل نہ کریں! لیکن جہاں یہ برتن ہماری تہذیب وتمدن سے غائب ہوا وہیں اردو زبان سے ہی متروک ہو گیا قدیم لغات میں تو اس کی جگہ رہی لیکن جدید لغات اس کے تذکرے سے بھی فارغ ہو گئیں۔ 1857ء سے پہلے تک یہ برتن اور یہ لفظ عام تھا لیکن انگریزی استعمار کے غلبے نے جہاں ایک نئی تہذیب کی آمد کا اعلان کیا۔ وہیں زبانوں کے ملاپ کے ساتھ کئی الفاظ واصطلاحات اپنے معاشرتی وتمدنی رنگوں کے ساتھ ماند ہوتے ہوتے معدوم ہو گئیں ان الفاظ کی ایک فہرست مرتب کر لی جائے تو شاید متروک الفاظ کی ایک علیحدہ لغت تیار ہو جائے۔
اردو جو قیام پاکستان کا ایک بنیادی حوالہ ہے اس کے متروک ومردہ الفاظ کی طویل فہرست دیکھ کر یہ فکر دامنگیر ہوتی ہے کہ اردو زبان کی ترویج کے لئے آج تک ہم نے کیا قدم اٹھائے ہیں؟ اور کیا معاشرتی تبدیلیوں اور دوسرے معاشروں کے تمدنی اثرات کا مقابلہ ہماری زبان میں کرنے کی صلاحیت نہیں ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ اردو زبان کے خلاف تحریکیں بھی اٹھتی رہیں اس کا استحصال بھی کیا جاتا رہا لیکن مولوی عبدالحق جیسے محافظان اردو نے ہمیشہ اس کا دفاع کیا قیام پاکستان سے قبل واردھا تعلیمی اسکیم‘ ودیامندر اسکیم کے ذریعے ہندی یا مرہٹی کو ہندوستان کی مشترکہ زبان قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں اسے رائج کرنے کی کوشش کی جاتی رہی جس کا بنیادی مقصد اردو اور اس سے وابستہ مسلمانوں کی تہذیب کو سمیٹنا سیکڑنا تھا۔ اردو سے بنیادی اختلاف یہ رہا کہ یہ قرآنی حروف میں لکھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اس لئے اس کا رائج ہونا بجائے خود قرآنی پیغام کے رواج کا باعث بن سکتا ہے اس کے برعکس کانگریس کے سیاسی پروگرام کا حصہ واردھا اسکیم کے عمل نفاذ کی ایک جھلک یہ تھی کہ اسکول ہیں۔ اسکول شروع ہونے سے قبل ہندو اور مسلمان لڑکوں کو ہندوؤں کی سرسوتی کی مورتی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر پرارتھنا کرائی جاتی اور سلام کے بجائے نمستے اور ”رام جی کی جے“ کہلوایا جاتا‘ کانگریس نے برسراقتدار آتے ہی اردو کش پالیسی کے تحت مشترکہ زبان ہندی‘ مشترکہ رسم الخط دیونا گری کو قرار دیتے ہوئے عملا رائج کرنے کے احکامات جاری کئے حکومتی اختیارات واعلانات دیونا گری رسم الخط میں شائع ہونے لگے۔ فوری عملدرآمد کے طور پر مدارس کے دو سو اسکولوں میں یک جنبش قلم اسے نافذ کردیا گیا انسپکٹر اسکولز دوروں پر آتے تو بوں سے ہندی کے غیر معروف ومشکل الفاظ میں سوالات پوچھتے‘ ریڈیو پر خبروں میں سنسکرت الفاظ کا کثرت سے استعمال ہونے لگا عام الفاظ آزادی‘ اعلان‘ مدعی‘ سیاسی کی جگہ شکسا‘ سونترتا‘ گھونشٹر‘ تبادی جیسے مشکل الفاظ سنائے جانے لگے۔ جس پر ایک اخبار نے اداریہ لکھا کہ”انہیں سن کر اہل ذوق اپنے کان بند کر لینے پرمجبور ہوتے ہیں۔“ اس کے ساتھ ہی اسمبلی کی کارروائی کو ہندی اور مرہٹی میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو مسلمان ارکان اسمبلی نے اردو میں بھی اشاعت کا مطالبہ کیا جس کا جواب یہ دیا گیا کہ ”مٹھی بھر اقلیت کے لئے اسمبلی کی تقریروں کو اردو میں چھپوانا محض تضیع اوقات اور پیسے کا زیاں ہے۔“ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں جو زبان رائج کی گئی اس میں سے اردو کے الفاظ چن چن کر نکالے گئے ان کی جگہ سنسکرت کے مشکل اور غیر مروجہ الفاظ شامل کئے جانے لگے !
1938 میں قائد اعظم نے نئی دہلی میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ”ہندی کا جبری نفاذ اسلامی تمدن اور اردو زبان کے لئے پیغام مرگ ہے۔“ مزید فرمایا ”اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اردو زبان مٹ جائے گی اور مسلمان اپنے تمام اسلامی خصائص کھو بیٹھیں گے۔ لیاقت علی خان نے 1939 میں فرمایا ! ”ہم نے ہندوستان اور ہندوؤں کی خاطر عربی چھوڑی‘ ترکی چھوڑی اور وہ زبان اختیار کی جو اس ملک میں بنی اور جو کہیں اور نہیں بولی جاتی اب ہم سے کہا جاتا ہے والمیک کی زبان بولیں۔ ہم ہندو مسلم اتحاد کی خاطر بہت آگے بڑھ چکے اب اور آگے نہیں بڑھیں گے ہم اپنی آخری سرحد پر کھڑے ہیں جسے ہم سے ملنا ہو یہاں آکر ملے۔“ اسی طرح 1927ء میں لکھنو میں راجہ آف محمود آباد نے ایک قرارداد میں اردو بولنے والوں پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے ہر مقام پر کوشش میں مصروف رہیں۔“ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو قائم کی اور گرانقدر خدمات انجام دیں مسلم لیگ کے اردو کے ”قتل“ کے خلاف آل انڈیا مسلم لیگ کے اتحاد کے ساتھ پورے ہندوستان میں مسلمانوں میں اجتماعی شعور بیدار کیا بالآخر کانگریس کی ان کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جس کی زد میں زبان ہی نہیں تمدن وتہذیب بھی تھی۔
الغرض قیام پاکستان سے قبل مشاہیر پاکستان نے اردو زبان کی دفاعی جنگ بھرپور اندازمیں ہر محاذ پر لڑی اور سازشوں کو ناکامی سے دوچار کرتے ہوئے اردو کو صحیح سالم اس کی منزل ”پاکستان“ تک پہنچایا تاکہ آزاد ملک کی فضاؤں میں اس کا پیکر حسن پھل پھول کر نکھر سکے اس کی آبیاری کرنے والے ہاتھ بغیر کسی دباؤ کے اسے تناور درخت بنا سکیں لیکن کیا اردو زبان اپنے خوابوں کے قالب میں ڈھل سکی؟ قصہ کچھ یوں ہے کہ اس مرتبہ اردو کے سامنے انگریزی داں طبقہ موجود تھا جوکل حکومتی مشینری کا حصہ تھا اور انگریزی کو ہر شعبے میں رائج رنے کا خواہشمند تھا گو کہ وقتا فوقتا اردو کی ترویج اشاعت کا کام بھی جاری رہا لیکن مجموعی طور پر نظام تعلیم میں اردو انگریزی کی خلیج حائل ہے جسے پائے بغیر ہم شرح خواندگی کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے رجحان میں اضافہ نہیں کر سکتے جدید علوم کو اردو میں منتقل کرنا کچھ ایسا ناممکن بھی نہیں اسرائیل نے دو ہزار سال قبل کرناکچھ ایسا ناممکن بھی نہیں اسرائیل نے دو ہزار سال قبل کی مردہ زبان عبرانی کو زندہ کرکے جدید علوم میں ڈاکٹریٹ کی سندھ کے اقدامات کئے۔ سری لنکا نے اپنی زبان سنہالی کے ذریعے شرح خواندگی بالخصوص عورتوں میں ساٹھ فیصد تک خواندگی بڑھالی ہے۔
اب جب کہ ہماری حکومت بھی اردو کی ترویج میں سنجیدہ نظر آتی ہے اور وزیراعظم شوکت عزیز کی قائم کردہ کمیٹی نے پیش کی جانے والی سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے اتفاق کیا ہے کہ قومی تقاریب‘ استقبالیوں‘ اعزازات‘ قومی تہواروں کی تقاریب میں اردو‘ زبان کو لازمی قرار دیا جائے تاہم مقابلے کے امتحانات‘ عدالتی امور‘ سرکاری دفاتر‘ تعلیمی اداروں میں اردو انگریزی دونوں زبانوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی منظوری اور عملا نفاذ خوش آئند ہی نہیں قیام پاکستان کے ایک اہم مقصد کی تکمیل بھی ہو گا۔
قائد اعظم نے قیام پاکستان کے بعد دس سال کے عرصے میں اردو کے نفاذ کا لائحہ عمل دیا‘ 1973ء کے آئین میں اردو کو قومی زبان بنانا آئینی تقاضا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوا جنرل ضیاء الحق اردو میں تقاریر کرتے رہے لیکن اردو کو اس کا جائز مقام نہ دے سکے۔ انگریزی زبان بلاشبہ ایک بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے لیکن قومی ضرورتیں کہاں تک اس کی محتاج ہیں یہ سوچنا ہو گا انگریزی کواب تک بلاوجہ ہر شعبے اور دستاویز پر مسلط کیا جاتا رہا ہے قوم کا ایک بڑا حصہ اب بھی انگریزی سے ناواقف ہے اور انگریزی ذریعہ تعلیم سے خوفزدہ انتہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو نمائش طور پر ہی رائج نہ کیا جائے بلکہ جدید علوم کی منتقلی کا کام بھی تیز رفتاری سے کیا جائے اردو کے وسیع الفاظ‘ اصطلاحات‘ تراجم کے لئے موزوں الفاظ کو استعمال کیا جائے۔ ورنہ نہ جانے ”ثقل دان“ جیسے متروکات کے ساتھ ہمارے کتنے ہی ورثے بھی زمانے کی گرد میں دبے چلے جائیں گے۔

 

فریحہ مبارک


This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s