لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں

لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں
 
 
لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں
غزل کہنا بھی اب تو ہو گيا دشوار سردی ميں
 
محلے بھر کے بچوں نے دھکيلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہيں اسٹارٹ اپنی کار سردی ميں
 
مئی اور جون کی گرمی ميں جو دلبر کو لکھا تھا
اسی خط کا جواب آيا ہے آخرکار سردی ميں
 
دوا دے دے کے کھانسی اور نزلے کی مريضوں کو
معالج خود بچارے پڑ گئے بيمار سردی ميں
 
کئی اہل نظر اس کو بھی ڈسکو کی ادا سمجھے
بچارا کپکپايا جب کوئی فنکار سردی ميں
 
يہی تو چوريوں اور وارداتوں کا زمانہ ہے
کہ بيٹھے تاپتے ہيں آگ پہريدار سردی ميں
 
لہو کو اس طرح اب گرم رکھتا ہے مرا شاہيں
کبھی چائے، کبھی سگريٹ، کبھی نسوار سردی ميں
 
 
              سرفراز شاہد
 
This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

One Response to لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں

  1. Iftikhar Ajmal says:

    بلاگ سپاٹ پر پابندی کی وجہ سے پاکستان ميں بسنے والے بلاگ سپاٹ کے بلاگ کھولنے ميں دقت محسوس کرتے ہيں چنانچہ ميں نے اپنے بلاگ مندرجہ ذيل جگہوں پر منتقل کر ديئے ہيں ۔ اپنا ريکارڈ درست فرما ليجئے  ۔ شکريہ
      ۔  اُردو بلاگ ۔ ميں کيا ہوںhttp://iftikharajmal.wordpress.com
      ۔  انگريزی بلاگ ۔ حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے http://iabhopal.wordpress.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s