غلط فہمی

غلط فہمی 
 
 
يہ ممکن ہے ہمارے درمياں کوئی
غلط فہمی بھي نہ رہتی
جو اپنے دل ميں چھوٹی سی
خلش ہے ختم ہو جاتی
بتا ديتا کہ مجھ کو آج بھی اس کي ضرورت ہے
جو اس جيون کا حاصل ہے تو بس اس کی محبت ہے
بتا ديتا کہ لوگوں کي سبھی باتيں فسانے ہيں
سبھی قصے پرانے ہيں
ميں کہہ ديتا ذرا سي بات پر يوں روٹھنا اچھا نہيں ہوتا
محبت کرنے والوں ميں
غلط فہمی تو ہو سکتی ہے پر جھگڑا نہيں ہوتا
ميں ہر اک بات کہہ ديتا
خلش بھي دور ہو جاتی
ميں اس کا ہاتھ پکڑے يوں ہی اس کا ہم قدم رہتا
وہ آگے ہاتھ تو کرتا
وہ مجھ سے بات تو کرتا
 
 
 
شاکر حسين شاکر
This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

2 Responses to غلط فہمی

  1. Unknown says:

    Salam,
    wah kia ache glat fehmi he🙂
    Wa Salam

  2. Tarique says:

    مرا ہى رنگ پريدہ ہر اک نظر ميں رہاوگرنہ درد کا موسم تو شہر بھر ميں رہاکسى کو گھر سے نکلتے ہى مل گﺋى منزلکوﺋى ہمارى طرح عمر بھر سفر ميں رہابہت سے لوگ تھے گھل مل کے سب سے باتيں کيںوہ جس کو ميں نے نہ ديکھا مرى نظر ميں رہاکچھ اس طرح سے گزارى ہے زندگى جيسےتمام عمر کسى دوسرے کے گھر ميں رہاوداع يار کا منظر فراز ياد نہيںبس ايک ڈوبتا سورج مرى نظر ميں رہا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s