حضرت لعل شھباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ

یہ تحریر خاص طور پر حضرت لعل شھباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے عرس کے موقعہ پر لکھی گئ ھے
 

سھون کے حضرت لعل شھباز قلندر رح کی پاکیزہ شخصیت نا صرف سندھ کے عوام کے لیے مینار نور کی حیثیت رکھتی ھے بلکہ دیگر ممالک میں بھی آپ کے فیوض کی روشنی پھیلئ ھوئ ھے- آپ کا شمار حضرت خواجہ نظام الدین اولیارح ، حضرت امیر خسرو رح، حضرت بو علی شاہ قلندر رح، مولانا جلال الدین رومی رح کے معاصرین میں ھوتا ھے- آپکا تذکرہ بلند پایہ اور مستند کتب میں انتہائ عقیدت و احترام کے ساتھ ملتا ھے- حضرت لعل شھباز قلندر رح کا سلسلہ نسب حضرت امام جعفر صادق رح سے ملتا ھے- آپ ٥٣٨ ھ میں پیدا ھوے- آپکے والد گرامی کا نام سید کبیر رح تھا جو اپنے وقت کے عظیم عالم دین تھے- آپکی والدہ ماجدہ بھی ایک بلند مرتبہ عابدہ تھیں- انہی سے آپنے ابتدائ تعلیم حاصل کی، کیوںکہ آپکے والد کا سایہ بچپن میں اپکے سر سے اٹھ چکا تھا- حضرت لعل شھباز قلندر رح کا آبائ وطن مروند ھے جو ایران میں واقع ھے- یہاں آپکے آباوءاجداد خلیفہ متوکل کے عھد میں مدینہ منورہ سے ھجرت کرکے آباد ھوے تھے- حضرت لعل شھباز قلندر رح ہمہ وقت حصولِ علم میں سرکرداں رھتے تھے- آپنے اس جذبہ کو عملی جامہ پھنانے کے لیے اپنے وطنِ عذیذ کو خیر آباد کہا اور مختلف شھروں میں جاکر علم کی تکمیل کی اور اعلٰی مدارجِ علمی حاصل کےء حصولِ علم کے بعد سب سے پھلے ذیارت حرمین شریف سے سرفراز ھوے اور کئ ماہ تک مدینہ منورہ میں ھی قیام کیا- پھر آپ نجف اشرف اور کربلاے معلٰی اور مشھد تشریف لے گے- اور وہاں کے مقامِ مقدسہ کی ذیارت کی-

 

حضرت لعل شھباز قلندر رح کا مزار

حضرت لعل شھباز قلندر رح نے سب سے پھلے حضرت منصور رح کے خدمت میں حاضر ھو کر روحانی فیض حاصل کیا اور انھی کی اجازت سے آپ حضرت بابا ابراہیم رح کی خدمت میں پہنچے جو حضرت شیخ جمال رح کے مرید تھے- ایک سال تک آپکی خدمت میں رھے اور درجہ کمال کو پھنچے حضرت بابا ابراہیم رح نے اپکو خرقہء خلافت عطا فرمایہ اور ایک پتھر بھی مرحمت کیا جسے حضرت لعل شھباز قلندر رح اپنے سینے سے لٹکاءے رھتے تھے- وہی پتھر اپکے مزار کے سرھانے نصب ھے


او! لعل میری پٹ رکھیو سدا جھولے لعلن“  آپ یھاں سے سُن سکھتے ھیں“

جنون کی آواز میں آپ “او! لعل میری پٹ رکھیو سدا جھولے لعلن“ یہاں سے سن سکھتے ھیں-

اور نصرت فتح علی خان کی آواز میں “دم مست قلندر مست“ آپ یہاں سے سن سکھتے ھیں

نہ تاج و تخت میں، نَے لشکر و سپاہ میں ھے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ھے


حضرت لعل شھباز قلندر رح نے ایک دن خواب میں سرورِ کائنات حضرت مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور یہ فرماتے ھوے سنا کہ تمھارے رھنے کے لیے مروند نھیں بلکہ ھند ھے وہاں پھنچو اور وحدانیت کا پرچم بلند کرو- خواب میں سرورِ کائنات حضرت مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا تذکرہ آپ نے اپنے مریدوں سے کیا اور ہندوستان کے لیے رختِ سفر باندھا- حضرت لعل شھباز قلندر رح ایران سے براستہ مکران، ملتان تشریف لے گےء -یہاں حضرت بابا فرید ثکر گنج رح سے ملاقات ھوئ یہیں حضرت شیخ بھاؤ الدین ذکریہ ملتانی رح اور شیخ شمس الدین عارف رح سے تبادلہ خیال کیا-ملتان میں حضرت لعل شھباز قلندر رح کا پُر جوش خیر مقدم کیا گیا- لوگوں کی خواھش تھی کے آپ ملتان میں ھی قیام کریں لیکن آپ نے سھون جانے کا ارادہ ظاھر کیا- حضرت لعل شھباز قلندر رح کے آنے سے پھلے سھون برائیوں کا مرکز تھا، بدکاری نقطہءعروج پر پھنچی ھوئ تھی لیکن حضرت لعل شھباز قلندر رح کے تعلیمات کی بدولت بدکاروں نے توبہ کی اور برائیوں کے مرکز ویران ھوگےء – لوگ جوق در جوق حضرت رح کے پاس آنے لگے اور اسلامی تعلیمات کو دل سے قبول کرنے لگے- اس طرح حضرت لعل شھباز قلندر رح نے اس علاقے میں روحانی انقلاب برپا کرکے اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں ایک قابلِ فخر اور نمایاں کردار ادا کیا-
 

پانی پانی کر گئ مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن

 

نصرت فتح علی خان کی آواز میں “جھولے لعل“ آپ یہاں سے سن سکھتے ھیں


حضرت لعل شھباز قلندر رح ضبط نفس کے قائل و عامل تھے- ضبط نفس وہ عمل ھے جس سے انسان تمام آلائشوں سے پاک ھوجاتا ھے- یہ منزل کٹھن ھے لیکن جب انسان کو ضبط نفس حاصل ھوجاے تو وہ قلبی طمانیت بھی محسوس کرتا ھے- آپکا اسمی گرامی محمد عثمان مروندی تھا مگر لعل شھباز قلندر رح کے نام سے شھرت حاصل کی- آپکو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رح سے بھی بے پناہ عقیدت تھی، اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ اُن کے مرشد حضرت بابا ابراہیم رح خود سلسلہ قادریہ کے عظیم بزرگ تھے- حضرت غوث پاک رح کے مزار پر حضرت لعل شھباز قلندر رح حاضر ھوے اور روحانی فیض و برکات سے سرفراز ھوے- آپ رح حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح کی مزار پر بھی تشریف لے گےء اور زکر و فکر میں مشغول رھے- ایک مرتبہ سندھ اور اسکے مضافات میں شدید قحط پڑا اور مخلوقِ خدا سخت پریشان ھوئ حضرت لعل شھباز قلندر رح نے بارگاہِ ایزدی میں قحط سے نجات کی دعا کی، ابھی آپ دعا میں مصروف تھے کہ بارش شروع ھوگئ اور اتنی شدید بارش ھوئ کہ تمام خشک کھیت پانی سے بھر گے-، ندی نالے پُر ھوگے- اور مخلوقِ خدا نے سُکھ کا سانس لیا- آپ ایک مرتبہ خانقاہ کے قریب اس جگہ وضو فرمارھے تھے جہاں دھوپ تھی آپ کے مریدوں نے فرمایا اس جگہ ایک سایہ دار درخت ھونا چاھیے حضرت نے اپنی مسواک ایک مرید کو دیتے ھوے کہا اسکو اس جگہ لگادو،چنانچہ ایسا ھی کیا گیا- بعد اذاں وھی مسواک ایک سایہ دار درخت کی شکل اختیار کرگئ- ایک مقام پر آپ نے اپنا عصا مبارک گاڑ دیا جس سے ایک پانی کا چشمہ اُبل پڑا تھا، یہ چشمہ اب بھی جاری ھے-
 

This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

11 Responses to حضرت لعل شھباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ

  1. Tarique says:

    Salam Tarique kamal,
    This is an awesome works, Really its great, I mean when I seeing your
    site from starting till end, I can’t explain how much I impress, because your
    site is to much appreciateable and I must appreciates your works and
    efforts. Good bless you.

  2. خاور says:

    آپ کي یه پوسٹ دیکھ کر مجهے بہت افسوس ہوا ـ
    میں سخصیت پرستي اور بت پرسی کے خلاف هوں ـ
    وه بت چاهے پتهر سے بناکرمندر میں رکها هو یا اینٹوں سے بنا کر کسی خانقاه میں لیٹایاگیا هو ـ
    توحید کی حمایت میں میں اپنی اوقات کے مطابق کهڑا هو جاتاهوں

    آپ ایک معزز بلاگر هیں اللّه سائین نے اپ کو قلم دیا هے ـ
    آپ اس طرح کریں که قرآن کا ترجمعه پڑها کریں بلکه آپ اس طرح کریں که قرآن کو ایک مذہبی کتاب سمجھ کر اس کا ترجمعه ایک دفعه شرع سے آخر تک پڑه لیں
    اس کے بعد آپ کو میری باتوں کي سمجھ آسانی سے آ جائے گي
    میں سکائیپ پز
    khawar-king
    کي شناخت کے ساتھ فرانس کے مقامی وقت کے مطابق شام کو اون لائین ہوتا هوں
    آپ میرے ساتھ بات کر لیں میں آپ کو توحید کے متعلق قائیل کر لوں گا
    آگر آپ قران کو ترجمے کے ساتھ پڑھ لیتے هیں تو آپ کو میرے ساتھ بات کرنے کی ضرورت هی نہیں رہے گی آپ خود هی خانقاهیت کے خلاف ہے جائیں گے
    لیکن آگر آپ ان غیر ملکی لوگوں كی اولاد هیں جن لوگوں نے پرانے زمانے میں فارسی بولنے والے علاقوں سے غربت کے هاتھوں مجبور هندوستان میں امیگریشن لے لی تهی اور اسلام کے ٹهیکدار بن کر خود کو مسلمانوں کا برەمن بنا لیا هوا هے
    ثو آپ قران پڑهنے کے باوجود بهي توحید کو قبول نہیں کریں گے کیونکه اس طرح آپ کا خاندانی پیشه خطرے مں پڑ جاتا هے ـ
    بلکه آپ قران پڑهنے والے دوسروں کو بهي گمراه کر کے آپنے آباء کي پرشتش کي طرف لائیں گے ـ
    صرف اللّه ہي کا بنده
    خاور

  3. dying2die says:

    salam hows u .. well ur posts r soo .. cultural they realy depict the Islam and Pakistani esssence .. may Allah rward u greatly .. How have u been .. do take care regards..
    salam

  4. Tarique says:

    اسلامُ علیکم خاور!
     
    سب سے پہلے تو آپکا شکریہ کے آپ میرے اسپیس میں آے اور اپنی رائے کا اظہار کیا
    میں اس بات میں شرمندہ بھی ھوں کہ میں نے ابھی تک پورے قران کو معنٰی و تفسیر سے نہیں پڑھا ھے اس لئے میں آپکے دی ھوئ رائے پر میں کوئ جواب نہیں دوںگا، لیکن کچھ وضاحت ضروری ھے-
     
    ١- میری تحریر میں خانقاه کے حوالے سے یا خانقاهزم میں کوئ بات نہیں کی گئ ھے-
     
    ٢- اگر آپ پوری تحریر پڑھیں تو اس میں توحید کی ترویج پر زور دیا گیا ھے نہ کے توحید سے انکار یا خود پرستش کی دعوت دی گئ ھے
     
    ٣- بلکہ ہمیں تو ان اولیاء اکرام کا احسان ماننا چاھئے کیوںکہ آج انکی وجہ سے برصغیر پاک و ھند میں اسلام کا نام لیوا مسلمان موجود ھیں-
     
    ٤- اپنے تحریر سے ہٹ کر ایک بات ضرور کہوں گا کہ جس طرح مسلمانوں نے اسلام کی صحیح اور اصل کو چھوڑ کر اپنے اپنے مطلب کی چیزوں کو اپنالی ھیں بلکل اسی طرح ان اولیاء اکرام کی تعلیمات کو لوگوں نے چھوڑ کر مزاروں اور خانقاھوں میں چکر لگانا شروع کردیا ھے-
     
    ٥- حضرت لعل شھباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ پر یہ تحریر اُنکے کاوش پر خراج ِتحسین ھے، جس طرح میں نے قائد اعظم پر “قائد اعظم کی قیادت“ تحریر کیا ھے
     
    ٦- باقی آپنے مجھے مختلف درجوں میں تقسیم کیا ھے اسکے لئے شکریہ-
     
    رقم طراز طارق کمال

  5. Unknown says:

    Salam,
    Hazrat lal shehbaz qalandar ke bare men itni detail info mene kabhi nahe internet men dekhe
    waqai ye bohat bohat bohat he zabardast entry he
    jitni tareef ke je kam he🙂
    is ke elawa songs jo hen woo bhe kafi ache hen specially Junoon ke.
    sach to ye he ke jese apne culture ke represent kya he woo waqai qabletaref he.
     
    take care
    wa Salam
     

  6. Tarique says:

    I don\’t know if this is the right blog entry to comment on this, but it is driving me insane and it\’s been a constant problem since things turned over to the Windows Live brand.  I have received several complaints from my friends that they cannot access my blogs (and yes, they have logged into their appropriate accounts, and I\’ve confirmed they are on my allow list).  Half the time they can get through, half the time they\’re denied no matter what they try.  What possible reason can explain this?  There\’s no point using this service if people can\’t access what I put up for them to see.Please assist.

  7. Tarique says:

    Hi
    I need a  place in my space to put some files such as Word & Excell files.:  How can  import this classes of files to my space?  Thanks

  8. Tarique says:

     وہ اب تک ناراض ہے
     
    سنو ناراض ہو ہم سے مگر ہم وہ ہیں جن کو تو منانا بھی نہیں آتا کسی نے آج تک ہم سے محبت جو نہیں کی ہے محبت کس طرح ہوتی ہے ہمارے شہر کے اطراف میں تو سخت پہرا تھا خزاؤں کا اور اُس کی فصیلیں زرد بیلوں سے لدی ہیں اور اُن میں نہ کوئی خوشبو نہ کوئی ُُپھول تم جیسا کہ مہک اُٹھتے ہمارے دل وجاں جس کی قربت سے ہم ایسے شہرِ پریشاں کی ویراں گلیوں میں کسی سُوکھے ہوئے زرد پتے کی طرح تھے کہ جب ظالم ہَوا جب ہم پر اپنے قدم رکھتی تھی تو اُس کے پاؤں کی نیچے ہمارا دَم نکل جاتا مگر پت جھڑ کا وہ موسم سُنا ہے ٹل چکا اب تو مگر جو ہار ہونا تھی سو وہ تو ہو چکی ہم کو سنو ۔۔۔۔ ! ہارے ہوئےلوگوں سے تو رُوٹھا نہیں کرتے

  9. Tarique says:

    شکریہ آپکی رائے کا shadow lassواقعی بھت اچھی نظم ھےامید ھے آپ ایسے ھی اچھے رائے سے نوازتی رھیں گی

  10. Tarique says:

    bohat shukariya aapka,
    ye gazal waqai bohat achi he.
    g men ati rahoongi apki space per
    chand he gine chune blogs he jin pe men jati hoon un men se aik apka bhi he:)

  11. Mubarak says:

    Assalam-O-Alaikum!Khawar-king sahab mazrat kay saath mein aap say kuch kahnay ki guzarish karonga…Aap nay itna bara jo Tauheed per lecture diya hai Tarique bhai ko, mera khayal hai kay aap nay upper jo Tarique bhai nay blog mein Hazrat Lal Shahbaz Qalandar (R.A.) kay baaray mein likha hai woh aap nay parha hi nahi hai…Aap mujhe batain kay jo kuch likha hoa hai us mein "Idol Worship" ka concept kahan hai??? Mein nay tu poori koshish kar li is concept ko dhondnay ki… Aap jaisay logon ko hidayat ki zaroorat hai. Aap nay jo Tarique bhai ko baatain kahin hain woh bilkul hi ghatiya aur cross the line hai. Yeh tu Tarique bhai ki himmat aur zarf hai kay unho nay aap ko bara pyara jawab diya hai woh bhi tolerance kay saath.Aaj ka daur bahat modern ho gaya hai aap jaisay logon ko hidayat mil jaati hai Quran ka tarjuma parhnay say aur yeh haq bhi hasil ho jata hai kay kisi per bhi aap torn karna shro kar dain yehan tuk kay us ki family ko bhi na chorain. Magar hum jaisay log undhay hain aur gumrah hain (aap kay ba-qaul) aur Auliya Allah ka daman pakar kar hidayat ki taraf jaanay ki koshish kartay hain. Aap ko is say kiya problem hai? Mein accept karta hoon kay aap jaisay logon ka direct Allah say contact hota hai aur aap logon ka tauheed per eemaan Auliya Allah say bhi zyada hota hai magar hum jaisay logon ka nahi. Hum log Auliya Allah ki taleemaat per chalnay ki koshish kartain hain kyun kay woh rasta Rasool (S.A.W.W.) aur Aal-e-Rasool (A.S.) ka rasta hota hai. Hum logon abhi bhi wohi dua kartain hain Surah Fateha (Sirat al lazinah an amta alai him) un logon ka rasta jin per tunay inaam kiya.Aap logon ko har koi shirk karta hoa nazar aata hai mein accept karta hoon kay aap logon ko Auliya Allah ki zaroorat nahi hai magar humain hai aur aap ko yeh haq nahi pohanchta kay kissi per mushrik honay ka ilzaam lagain. Dillon ka haal sirf Allah jaanta hai aap nahi…Agar meri baat buri lagi ho tu mein Maafi ka talab gaar hoon, magar aap kay comments perh kar mera dimaag kharaab ho gaya tha aur mujhe yeh sub batain karna zaroori theen…

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s