لبنان

لبنانی دارالحکومت بیروت ایک دفعہ پھر کھنڈر بن رہا ہے، اس کا ٹیلی وژن اسٹیشن، ہوائی اڈہ، بندرگاہ تباہ ہوچکے ہیں اور شہر کا ایک بڑا حصہ تاراج کیا جا چکا ہے۔ اب تک تقریباً پانچ سو افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ خوف و دہشت کے مارے لوگوں نے شہری آبادی سے انخلا شروع کردیا ہے۔ تقریباً پانچ، ساڑھے پانچ لاکھ افراد بے سروسامانی اور بے گھر، بے در جان بچانے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ لبنان پوری طرح محاصرے میں ہے۔ حملہ آوروں نے اپنے صرف دو فوجیوں کی بازیابی کے لئے اب تک سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ شدت پسند مسلم تنظیم حزب اللہ کا سرے سے ہی قلع قمع کردیا جائے۔ لبنان کی اس ساری تباہی و بربادی میں خود لبنانی فوج کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؟ صرف حزب اللہ کے جنگجو ہی دفاع کر رہے ہیں اور لبنانی آرمی اپنی بیرکوں میں بیٹھی شاید اس وقت کا انتظار کر رہی ہے جب حملہ آور حزب اللہ پر فتح پا کر ان سے نمٹنے کے لئے ان کے در پر پہنچ جائیں گے۔ لاکھ یہ حقیقت اپنی جگہ صحیح ہو کہ لبنان کی بے سروسامان فوج کی تعداد صرف 38 ہزار ہے اور دشمن پوری طرح جدید ترین اسلحہ سے لیس، دشمن جو پوری طرح اسلام دشمنی پر کمربستہ ہے، فوج خالص یہودیوں پر مشتمل ہے جبکہ لبنانی فوج کو غیرمتنازع بنانے کے لئے شیعہ، سنی، عیسائی اور دیگر مذہبی گروہوں کے افراد کو فوج میں منتخب کیا گیا ہے کیونکہ ماضی میں لبنان شیعہ، سنی عیسائی مسئلے پر تقریباً پندرہ سال تک خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ لبنانی فوج کے جنرل امین ہوتیت کا کہنا ہے کہ ہم آسمان میں موجود اسرائیلی طیاروں سے نہیں لڑ سکتے۔ ایسی کمزور و ناتواں فوج کی موجودگی میں صرف حزب اللہ ہی ہے جو لبنان کا دفاع کر رہی ہے۔ لبنانی فوج کے ایک اور جنرل الیاس پانا کے مطابق جنوبی لبنان کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد حزب اللہ نے ہی کرایا تھا۔ لبنانی باشندے حزب اللہ سے خوش ہیں اس لئے وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دراصل لبنان پر حملہ حزب اللہ کے لئے کیا گیا ہے کیونکہ امریکہ عراق میں جنگ جیتنے اور صدام حسین کو پکڑ لینے کے باوجود اب تک عراق پر پوری طرح قبضہ حاصل نہیں کرسکا، وہاں بھی شیعہ تنظیم حزب اللہ اس کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے جس کے لئے وہ ایران کو مورد الزام ٹھہراتا ہے اور ایران کو مسلسل دھمکا رہا ہے۔ اس کے ایٹمی پروگرام کو ہدف بنا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عراق میں ہی نہیں بلکہ افغانستان میں بھی حزب اللہ امریکہ کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے۔ لبنان میں جب آئینی بحران پیدا ہوا اور لبنان مسلکی اور عقائد کی بنیاد پر خانہ جنگی کا شکار ہوا تو حزب اللہ کا ظہور ایرانی انقلاب کے بعد ہوا۔ لبنان کے آئین میں شیعوں کو اختیارات و عہدوں کے لحاظ سے تیسرا درجہ یا حصہ دیا گیا۔ صدر کا عہدہ عیسائیوں کے لئے مخصوص کیا گیا جبکہ وزیراعظم سنی مسلک سے اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کا عہدہ شیعوں کو دیا گیا۔ حزب اللہ کے بانی ممتاز و معروف شیعہ شاعر محمد حسین فضل اللہ تھے۔ ان کی تحریک حزب اللہ کے تار و پود ایران کے اسلامی انقلاب سے جڑے ہوئے تھے جو 92ء میں اسرائیلی میزائل کا شکار ہوگئے۔ ان کے بعد تنظیم کی سربراہی کی ذمہ داری حسن نصراللہ کے سر آئی جنہوں نے شیعوں کی موثر آواز اور قوت کے لئے دو شعبوں میں کام شروع کیا۔ شیعوں کی فلاح و بہبود کے لئے، ان کی بے روزگاری دور کرنے کے لئے، غربت و ناداری دور کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اسپتال، تعلیمی ادارے بنائے، اخبارات و جرائد کا اجرا کیا۔ المینار کے نام سے اپنا الگ ٹی وی چینل قائم کیا یوں جنوبی لبنان میں اسرائیلی تسلط کے خاتمے کا عمل شروع ہوا۔ دوسرا محاذ عسکری تربیت و عسکریت کے فروغ کا ہے۔ 83ء میں حزب اللہ نے امریکی، فرانسیسی اور اطالوی امن دستوں کو نشانہ بنایا اور خودکش بمباروں کو تیار کیا جنہوں نے امریکی فوجیوں پر بیروت میں ان کی بیرکوں پر حملہ کیا اور تقریباً ڈھائی سو امریکی فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ اس طرح امریکی فوج پسپا ہو کر لبنان سے نکل گئی اور اس عبرتناک صورتحال کے بعد امریکہ نے پھر کبھی لبنان کا رخ نہیں کیا۔ لبنان پر اسرائیلی قبضے کے بعد علماء کے ایک گروہ نے تنظیم کے بنیادی مقاصد میں اسرائیل سے نجات اور غیرملکی فوجیوں سے لبنان کو پاک کرنا شامل تھا اور لبنان کی کثیر المذہبی حکومت کی جگہ ایران کی مانند اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ امریکہ ایران کو حزب اللہ کی امداد بند کرنے اور حزب اللہ سے تعلق ختم کرنے پر زور دے رہا ہے اور حملے کی دھمکی بھی اس میں شامل ہے۔ امریکہ نے لبنان اور شام میں اختلاف پیدا کرنے کے لئے 2005ء میں لبنان کے وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرایا۔ اس کے بعد لبنان نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی کشمکش کا شکار ہوا وہیں لبنان میں متعین شامی فوجیوں کی واپسی بھی ایک مسئلہ بنا دی گئی۔ یہ سارا ڈرامہ اسرائیل کے ذریعے اسٹیج کیا جا رہا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو اس قدر خراب کردیا جائے کہ نہ صرف مختلف دینی مسالک اور مذاہب کے افراد میں ایک دوسرے کے لئے نفرت پیدا کردی جائے بلکہ قرب و جوار میں موجود پڑوسی ممالک کو بھی آپس میں الجھا کر ان کی رہی سہی قوت کو بھی پارہ پارہ کر دیا جائے اس طرح امریکہ اور اس کے حلیفوں کو دہرا فائدہ حاصل ہوگا۔ اول تو عراق و افغانستان میں موجودہ صورتحال پر قابو پایا جاسکے گا اور اپنا قبضہ مضبوط کیا جاسکے گا، دوسرے خطے میں موجود قدرتی وسائل کو آسانی سے حاصل کیا جاسکے گا اور خطے کے ممالک جب آپس میں لڑتے رہیں گے تو وہ کمزور ہوتے رہیں گے اور یوں امریکہ کی امداد کے محتاج بھی رہیں گے۔ دوسرے ان کے آپس میں بھی مل بیٹھنے کا امکان ختم ہو جائے گا چاہے وہ او آئی سی کا پلیٹ فارم ہو یا کوئی اور، ان کا اتحاد و اشتراک عمل ممکن ہی نہیں ہوسکے گا جس سے اسرائیل یا امریکہ کو کسی قسم کا خطرہ یا پریشانی لاحق ہو۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے تاکہ بے گناہ، معصوم لبنانیوں کی ہلاکت روکی جاسکے۔ مسلم امہ میں بیشتر حکمران عوام کی رائے، مرضی کے خلاف امریکہ کی مرضی سے اپنے علاقوں پر حکمرانی کر رہے ہیں اس لئے انہوں نے افغانستان اور عراق پر امریکی جارحیت پر بھی مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی شہ پر اسرائیل نے اپنے صرف دو فوجیوں کی بازیابی کی آڑ میں سیکڑوں لبنانی لقمہ اجل بنا دیئے۔ یہ عمل بار بار اور خطے کے ہر علاقے میں دہرایا جاسکتا ہے کیونکہ مسلمان اپنی کمزوری کا ہر ہر طرح اظہار کر رہے ہیں۔ اپنے مفادات کے لئے اسلام کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی تو لیتے ہیں لیکن ان کے عمل کو بھول جاتے ہیں۔ کیا اہل ایمان اسلامی غزوات کو بھول گئے ہیں جب بے سروسامان اور تعداد میں بہت کم مسلمانوں نے کفار کے مکمل اسلحے سے لیس افراد کی بہت بڑی برتری کے باوجود ان سے ٹکرانے میں خوف محسوس نہ کیا اور اپنی قوت ایمانی سے فتح و نصرت حاصل کی۔ اہل ایمان کی تو اللہ غیب سے مدد فرماتا ہے اور دنیا کی وہ کون سی طاقت ہے جو اللہ کی طاقت کے آگے ٹھہر سکے۔ اللہ مسلمانوں کو ایمان کی دولت و قوت سے مالامال کرے، انہیں اتحاد و اعتماد عطا کرے اور ان کی حفاظت فرمائے، آمین۔
        مشتاق احمد قریشی    
This entry was posted in News and politics. Bookmark the permalink.

18 Responses to لبنان

  1. Tarique says:

    اگر مسلمانوں نے دنيا ميں اپناو کھويا ہوا مقام واپس حاصل کرنا ہے تو ان کو منافق حکمرانوں سے ہر صورت نجات پانا ہوگا ورنہ صورتحال بدلنے والی نہيں ہے۔ ہميں پکے اور سچے مسلم حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ مير جعفروں اور مير صادقوں سے وفا کی اميد فضول ہے۔ شير کی ايک دن کی زندگی گيدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔

  2. رنگِ حیات says:

    Walaikum Asalam
     
    Thank U so very much for the wishes, liking the lyrics of the song & quote, and for stopping by.   Aap ki space per tabdeeliyan nazar aa rahi hain…Achi lag rahi hai rangon k saath.  Waise aap ki aainda ane wali posts main ik dafa main ne ik title perha tha….pata nahin kya tha, novels jaisa title tha shayad, and I\’ve been looking forward for that post magar abhi tak dikhi nahin aap k blogs main.  Right now I\’m looking forward for "جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہي ".  Umeed hai aap jaldi post karain gai.
     
    Thank U once again.
     
    apna khayal rakhiye ga
    Khuda hafiz
     
    P.S.  I hope to see U around more often🙂

  3. Tarique says:

    سب جانتے ہیں اس تنازعہ کا آغاز کہاں سے ہوا۔ saavan, london جی ہاں سب جانتے ہيں کہ 12000 عرب قيدی اسرائيلی جيلوں ميں سڑ رہے ہيں، 16000 قيدی عراق ميں امريکی جيل ميں سڑ رہے ہيں۔ ان ميں زيادہ تر کے خلاف کوئی چارج بھی نہيں لگايا گيا۔ اسرائيل جو کر کر رہا ہے اگر درست ہے تو پھر ہالوکاسٹ پہ شور کيوں؟

  4. dying2die says:

    salam .. so well written .. and so true .. we all agree..i have a lill request.. we have thismass fast on Thursday 3rd august .. for the Muslims of Lebanon and Iraq.. i rquest your support .. for details visit my blog … plz spread word abt it to all Muslims .. u knwo .. Allah will reward u greatly for it .. JAzak ALalh .. was salam

  5. Tarique says:

    Salam Tarique kamal,
    This is an awesome works, Really its great, I mean when I seeing your site from starting till end, I can’t explain how much I impress, because your site is to much appreciateable and I must appreciates your works and efforts. Good bless you.

  6. Tarique says:

    Tariq,
    kia ap is shair ki pori shairi dhondh kar mujhay dey sakhtay hain
     
    mairay sath tumbhi dua karoo,yun kisi kay haq main bura na hoo
    kahein aur ho na ye hadsa, koi rastay men juda na ho
     
    plz, i m very grateful to u.
     

  7. Tarique says:

    Hi,
    Good space.
    wo sajda, rooh e zameen jis say kaanp jati thiaaj osi ko taras rahay hain minbar o mehraab
     
    bye

  8. Tarique says:

    قانا کے ان معصوم بچوں کے نام ۔۔۔ جو بے جرم و خطا مارے گۓ۔يہ کيسا خون ہےجو شگفتہ زخموں سے نکل کرغنچوں کی سرخی کو شرمسار کررہا ہےيہ کيسے جسم ہيں جو اپنی روشنی سےچاند کی نرم روشنی کو ماند کررہے ہيںاور۔۔۔اس سرخی اور روشنی ميںايک صدا سنائئ ديتی ہےشايد ميں نے انہيں اسی لئے جنم ديا تھاکہ ۔۔ان کا سرخ لہو اور روشن جسمآنے والوں کے لۓ روشن راستہ دکھا سکيں ۔۔۔

  9. Unknown says:

    Salam,
    Bohat acha likha hai,
    Ham sab labnan kai sath hain.
    aapkay blog kay comments kafi achay hain.
     
    WSalam

  10. Tarique says:

    Assalam-U-Alaikum,
     
    Waqt ki kami ki wajah say main aaj kal apnay space aur dosroon kay space main kam hi jaraha hoon, Ishi tarah comments aur unkay replies bhi kam waqt pay dey paraha hoon Jiskay leyeh main mazraat khuwah hoon.
     
    "Fuzzoom " aapki request ka jawab deynay main aapkay space main gaya tha but woo shayed properly updated nahi hay, bahar haal main aapki request yehein fulfil kayeh dey raha hoon.
     
    میرے ساتھ تم بھی دعا کرو ، یوں کسی کے حق میں برا نہ ہوکہیں اور ہو نہ یہ حادثہ ، کوئی راستے میں جدا نہ ہومیرے گھر سے راستے کی سیج تک ، وہ اک آنسو کی لکیر ہےذرا بڑھ کے چاند سے پوچھنا ، وہ اسی طرف سے گیا نہ ہوسر شام ٹھری ہوئی زمیں ، آسماں ہے جھکا ہوااسی موڑ پر مرے واسطے ، وہ چراغ لے کر کھڑا نہ ہووہ فرشتے آپ ہی ڈھونڈیئے ، کہانیوں کی کتاب میںجو برا کہیں نہ برا سنیں ، کوئی شخص ان سے خفا نہ ہووہ وصال ہو کہ فراق ہو ، تری آگ مہکے گی ایک دنوہ گلاب بن کے کھلے گا کیا، جو چراغ بن کے جلا نہ ہومجھے یوں لگا کے خاموش خوشبو کے ہونٹ تتلی نے چھو لیےانہی زرد پتوں کی اوٹ میں کوئی پھول سویا ہوا نہ ہواسی احتیاط میں میں رہا اسی احتیاط میں وہ رہاوہ کہاں کہاں میرے ساتھ ہے ، کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو
     
    Comment kay leyeh shukarya.
     
    Regards,
    Tarique kamal
     

  11. Unknown says:

    Lebanon k sath jo ho raha hai us k liye aik ya do nahi tamam muslim contries ko awaz uthani hogi, awaz bhi woh nahi jo toti ki naqqarkhane mien hoti hai. is topic per mere pas kehne k liye jokuch hai woh bohat matzad hai. garbar ho jaye gi.
    baharhal yeh bilashuba aik achgi post hai.
    keep it up
    fi-Amanillah :))))

  12. Tarique says:

    Tariq,
    Lots of thanks for sending my request.
    i m very grateful to u.
    thanks again

  13. Tarique says:

    IT is quite obvious that the US is encouraging and supporting Israel in its ongoing attacks on Lebanon, which is done under the guise of war on terror: Hezbollah being the major mitigating factor. This is for very obvious reasons, i.e., if the war continues, the next countries to get involved would be Syria and Iran, which are already in the axis of evil as purported by the US.
    This would give the US a chance to indirectly carry out its vendetta against Iran and Syria, which is to stop Iran from enhancing its nuclear capabilities and to get a foothold in Syria.
    It seems that the agenda is not to stop Iran from increasing its nuclear capabilities but is to somehow control the oil in the Middle Eastern region. The US already controls the outflow of oil from Iraq and Saudi Arabia to a major extent.
    If we look back at the history of the Middle East, the US is exactly playing the role as Britain and France played with Egypt in encouraging Israel to attack Egypt in the 1950s during the Suez crisis. The British and French entered into a secret agreement with Israel to attack Egypt. The plan was that once Israel attacks Egypt, the British and French would come in as peacekeepers to control the Suez canal.
    If the US desires to play a role of a peacekeeper in the present crisis, it can do so by not giving any logistics and technological support to Israel, as did president Eisenhower, though for his political reasons, during the Suez crisis. The United States at that time refused to allow the International Monetary Fund emergency loan to Britain until the latter called off the invasion. It further played a major role through the UN demanding a ceasefire.
    If the US wants, it can call for an immediate ceasefire and invite the parties to resolve the conflict through amicable means by joining hands with other members of the Security Council and passing a resolution. The intentions of the US, however, seem to be quite oppo site.
    President Bush has so far resisted calls for an immediate ceasefire and also avoided criticism of Israel. It seems that it is for these reasons or some other hidden agendas which might be a part of the bigger game that the US has held back its peace initiatives and continues to support Israel. KHURRAM HASHMI Islamabad (II) I AM neither a politician nor an economist but I have an idea. Sometimes a simple action results in an extraordinarily powerful reaction. All the Middle Eastern oil-producing nations announce that they will stop exporting oil and oil-related products to western nations and the US for 30 days and during this time a peaceful settlement is discussed and secured between Palestine and Israel starting from UN Resolution 242 and other subsequent resolutions on the subject.
    If the issue is not resolved during this time, then there should be another 30 days extension of the boycott. Like they say, no guts no glory. M. NASEEM BATLA San Antonio, USA (III) TWENTY days into the Middle East war and the situation in Lebanon has gone from bad to ugly. The Qana massacre was glaring evidence that the Ummah at large and the rest of the world in general have failed the Lebanese civilians.
    Immediately after Israel’s horrific air raid in Qana, several heads of state issued statements condemning and disapproving the attack. But these statements were just rhetoric. Watching the horrific war unfold from the sidelines, and simply mouthing instructions for a ceasefire will not help the situation. Such meaningless statements won’t ease the trauma of the Lebanese people.
    Muslim nations have to act now and act fast to get a grip on the heinous onslaught by the Israeli forces.
    I request President Musharraf and the heads of Muslim state to shed off their nonchalant attitude and immediately come to the aid of their Lebanese brothers, lest the Israeli forces create havoc in the entire Muslim world. NADIA SIDDIQUE PECHUHO Karachi (IV) Hezbollah or no Hezbollah, Israeli actions against Lebanon are an unprovoked act of aggression on a neighbouring country. It is a violation of international law, a slap in the face of human rights charter and a war crime.
    America’s unconditional support for Israeli war crimes is not a surprise; however, it is shame to watch Tony Blair align the UK with the greatest aggressors of the 21st century.

  14. Tarique says:

    ويسے اگر  اسرائيل  اپنے ايک فوجی کے ليے اتنا ايکشن ليتے ہيں تو يہ ان کے آزادی کا مظاہرہ ہے۔ ہمارے تو ملک پہ حملہ بھی ہوتا ہے 18 لوگ بھی مرتے ہيں، پتہ نہيں چلتا ہے کہ يہ میزائل تھا يا کہ ہوائي حملہ۔ حملے کا جواب دينا تو بہت دور کی بات ہے کيونکہ بے چارے 18 جہازوں کے ليے 18 سال کی منت اور غلامی جو کرتے ہيں۔

  15. Tarique says:

    ISRAEL’S attacks on Lebanese civilians continue with little or no response from other Arab or Muslim countries. Rather than making an ineffectual appeal to OIC members, President Musharraf would do better to talk to the US, the only country that can persuade the Israelis to listen to reason. The president says our defence is impregnable. Surely then we should be able at least to speak the truth without fear: Israel would not be able to kill civilians with impunity without assurance of political and material support of the US.
    Some may argue that it is useless to talk to the US because no American politician will dare oppose Israeli actions, especially in an election year. That is probably correct; nevertheless, we will be failing our duty if we do not raise our voice against the atrocities. Imagine India carrying out such an attack against Azad Kashmir; how can we expect the civilised world to come to our help then if we don’t do the right thing now?

  16. Unknown says:

    Asalam o Alaimkum
    ab lagt ahai sahi waqt aa gaya hai ke jab mien apne khayalat ka izhar karon jo ke mere lebnon jng ky hawale sey hian.
    Aakhir wahi hua jis ka dar tha, faqat aik mah baad hi Hassan Nasarullah ne jang bandi qabool ker li. aur yeh khabar parhte hi mere zehan mien sab se pehle ane wala khayal aik report ka tha jis mien lebnonian ne Hassan Nasarullah ko apna hero kaha tha. kia hero aisy hote hain? mere zehan mien ane wala doosra khayl yahi tha. baat yeh nahi ke ghalti kahan huee baat yeh hai ke ghalti kia huee. hum mien se kitne hain jo jazbati ho ker sochne k bajaye yeh sochte hain ke aakhir jo hua us mien ghalat kia tha?. shayad 2%… shayad…
    is aik terha ki haar ki pehli barhi wajah to hai ke yeh yeh jang do mumalik k armi k beech nahi thi, balke yahan saanp aur naiviley wala maamla tha. agar Hisbullah libnani fauj ko apna hami banata to shayad aaj kamzoron ki terha is jangbandi ki nobat na aati, libnan ko is terha hathyar na dalne perhte. maamla chahe hukoomat kerne ka ho ya jang kerne ka, jamhoriyat ki ahmiyat se kisi ko inkaar nahi hona chaye. agar parliment ki itefaq e raye aur itehad se aur kuch mausar hikmat e amli se kaam liya jata to aaj un begunah shaheedon ka khoon yeh sawal na kerta ke aakhir humari is shahadat ka haasil ki araha?
    yeh to thi aik baat. doosri aham baat, doosri baat, agar Hisbullah ko fauj ki hiamyat bhi hasil hoti tab bhi yeh bohat kam mumkin tha k hum jeet pate, (kam hi sahi baharhal mumkin hota) q k libnan ki fauj hargiz israeli armi k se zayada taqatwar nahi. agar aidad-o-shumar se kam lia jaye to tamam muslim mumalik mien se kitne aise mumalik hain jin ki fauj yaqeeni taur per taqatwar hai. kise shaq tha ke iraqi fauj is terha paspa ho jaye gi, magar ho gayee. jangien baaton se nahi jeeti jati hain. us k liye taqat honi chahye. agar kisi mulim mulk ki fauj taqatwar ho bhi to kia hota hai, ke woh apne hi mulk ko fateh ker ke bath jati hain. jesa ke Pakistan aur Iraq ki misal samne hai. kia faida us taqat ka jo sirf apne hamwatanon per hi zahir ho.
    jahan tak baat israel ki hai, to han unhon ne jangbandi se inkar ker dia hai, kyun ke yeh jang parliment k bahimi faisle se huee thi aur ab bhi kuch fauj k ikhtiyar mien nahi, jab tak parliment jang band kerne ki manzoori nahi de sakti tab tak jangbandi nahi ho sakti, aur is mamley mien 3 ya 4 din to lag hi jane hain. ya ho sakta hai israel is maamle ko apne shaatir hurbon ko intemaal ker ke tool de. q k ab yeh israel ki baqa aur fana ka mamla ho gaya hai, agar peeche hatta hai to phir america ki narazi ka samna kerne parhe ga. aur america aur israel ki gathjor kis terha ki yeh bat to khiar kisi se thaki chhupi nahi.
    dushman se kabhi reham ki umeed nahi kerni chahye, khas tor per agar woh ahl-e-yahood ho. lekin mera sawal hai ke phir aakhir kia faida hua hazaron maasoom-o-begunah aurton aur bachon ko marwane ka agar Hisbullah ne aise hi hathiyar dalne the.
    mujhe libnan walon se haqeeqatan hamdardi hai, un k liye shayad yeh aik barha dhachka ho, magar hum to janeral Niazi k baad is terha k har shock k aadi hain…
    Fi-Amaanillah
    Saba Syed

    p.s= mandarjabala khayalat se agar kisi ko ikhtilaf ho, ya takleef punhchi ho to muazrat chahti hoon.

  17. Tarique says:

    مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کیخلاف اظہار مذمت کے لیے ہفتے کے روز ہزاروں امریکی شہریوں نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر صدر بش شہر میں موجود نہیں تھے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق مظاہرے میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی حصہ لیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی لبنان اور فلسطینی علاقوں میں مداخلت، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور عراق میں امریکی مداخلت کی مذمت کی۔ مسلم امریکن سوسائٹی کے سربراہ ایصام عمیش نے کہا کہ ہم مقدس سرزمین پر قتل و غارت گری کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ، عیسائی اور یہودی انسانی جانوں میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s