مطبوعات مقتدرہ

ماہنامہ "اخبار اردو"

 

            1981ء سے مقتدرہ میں ایک اردو ماہنامہ "اخبار اردو" باقاعدگی سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس مفید رسانے میں خبریں، فیچر اور فروغ اردو پر مضامین شائع کیے جاتے ہیں جو نئی اصطلاحات کی تحقیق و تشکیل، کمپیوٹر میں اردو کے استعمال، بیرون پاکستان اردو کے استعمال اور اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں کے مابین لسانی اور ثقافتی رابطوں ہر مشتمل ہوتے ہیں۔

 

مکمل معلومات کئلے دیکھے

http://www.tariquekamal.somee.com/nla.aspx

http://www.tariquekamal.somee.com/nla.doc

This entry was posted in اردو. Bookmark the permalink.

2 Responses to مطبوعات مقتدرہ

  1. Tarique says:

    چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں يہ ميرا چہرہ، يہ ميري آنکھيں بُجھے ہوئے سے چراغ جيسے جو پھر سے جلنے کے منتظر ہوں وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں جنہوں نے پيماں کيے تھے مجھ سے رفاقتوں کے، محبتوں کے کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رِہ وفا کے جہاں بھي جائے گا ہم بھي آئيں گے ساتھ تيرے بنيں گے راتوں ميں چاندني ہم تو دن ميں تارے بکھير ديں گے وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں وہ اپنے پيماں رفاقتوں کے، محبتوں کے شکست کرکے نہ جانے اب کس کي رہ گزر کا مينارہِ روشني ہوئے ہيں مگر مسافر کو کيا خبر ہے وہ چاند چہرہ تو بجھ گيا ہے ستارہ آنکھيں تو سو گئي ہيں وہ زلفيں بے سايہ ہو گئيں ہيں وہ روشني اور وہ سائے مري عطا تھے سو مري راہوں ميں آج بھي ہيں کہ ميں مسافر رہِ وفا کا وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں وہ مہرباں سايہ دار زلفيں ہزاروں چہروں، ہزاروں آنکھوں، ہزاروں زلفوں کا ايک سيلابِ تند لے کر ميرے تعاقب ميں آرہے ہيں ہر ايک چہرہ ہے چاند چہرہ ہيں ساري آنکھيں ستارہ آنکھيں تمام ہيں مہرباں سايہ دار زلفيں ميں کِس کو چاہوں، ميں کس کو چُوموں ميں کس کے سايہ ميں بيٹھ جاؤں بچوں کہ طوفاں ميں ڈوب جاؤں کہ ميرا چہرہ، نہ ميري آنکھيں ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں، کہ خواب لکھوں

  2. Tarique says:

    محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا جلائےرکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستےمیں اپنی آنکھیں مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبادتیں بھی شمار کرنا یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئ ہیں جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا تم اپنی مجبوریوں کے قِصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے جو میری آنکھوں میں جَل بجھی ہیں، وہ خواہشیں بھی شمار کرنا (نوشی گیلانی)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s