خاص ھے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

This entry was posted in اسلام. Bookmark the permalink.

3 Responses to خاص ھے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

  1. Tarique says:

    جناب دنیا ایک عجب دہراہے پر کھڑی ہے بس میں تو یہی کہو گا اور اس کے علاوہ ہم مسلمانوں کی آپس کی ناچاکیاں بھی آج ہم کو یے دن دکھا رہئ ہے امت کا اتحاد وقت کا شدید تقاضا ہے اس وقت

  2. Tarique says:

    یہ چودہ صدیاں پہلے کی بات نہیں سرکار کی بے کس نوازیاں تو آج بھی خزاں رسیدہ زندگی میں بہاریں لا رہی ہیں وقتِ مشکل جس نے بھی ، جب بھی ، جہاں بھی اور جیسے ہی " نگاہے یارسول اللہ نگاہے" کی صدا دی اسے موجِ کرم نظر آئی ، اس نور کی صورت میں جو مصیبت کے اندھیروں کا رخ پھیر دیتا ہے مگر گناہ گار سے رخ نہیں پھیرتا کہ اس کے بارے میں ہے ارشاد کہ یہ اپنا ہے اپنا بنانا ، امتی امتی کہنا اور ہمیں کہنا! ۔۔۔۔۔ یہ کرم ان کا ، ہم کس قابل!! سبحان اللہ ! رب جلیل نے ہم پر کیسا احساں فرمایا وہ پریشان حالوں اور غم نصیبوں کے احساس کے راز داں ہیں تدبیریں کمزور اور تعزیریں منہ زور ہوجائیں، جب مرض لاعلاج ہو جائیں اور ہمتیں جواب دیں جائیں ، تو ان کی نظرِ کرم کی کمک پاسہ پلٹ دیتی ہے۔ پھر شکستوں کو فتح ، بیماروں کو صحت اور ناکامیوں کو کامرانی کا عنوان مل جاتا ہے۔ یہ ذکر خیر ہے جنابِ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جو سارے جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ جو یاد کی صورت بے بسوں کے دل میں بس رہے ہیں۔۔۔۔ انشا اللہ تعالی اس یاد کی قوت بے بسوں کو یہاں کسی بھی محاذ ، آزمائش ، امتحان یا مقابلے میں سرنگوں نہ ہونے دے گی۔ اور یہ ذکرِ پاک ہے جنابِ شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جن کی رحمت کا سایہ وہاں کے کٹھن سفر میں ہمارا زادِ راہ ہوگا جن کی شفاعت کے نور سے ہمارے گناہوں کی سیاہی دھل جائے گی اور پھر ہم وہاں بھی کامیاب ٹھہریں گے اور سربلند بھی فرشتوں کی قطاریں کہیں گی کہ بڑے خوش نصیب یہ لوگ ہیں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے امتی اس احسانِ عظیم پر رب تعالی کے حضور سراپا شکر و عجز کھڑے ہیں ، ان کے عجز کا احساس ، احساس کی دھڑکن اور دھڑکن کی زبان زبانِ حال سے ورد کر رہی ہے اور آسمانوں پر فرشتوں کو بھی یہ ورد سنائی دے رہا ہے کہ بخشوائیں گے وہ اس گنہگار کو
    ان کے ذوقِ شفاعت پہ لاکھوں سلام

  3. Tarique says:

    اخباری اطلاع کے مطابق اٹلی کے وزیر اعظم نے کارٹونوں والی شرٹ پہنے والے وزیر سے استعفی طلب کرلیا ہے۔اٹلی کے وزیر نے جو طوق ذلت اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ، وہ اب استعفی دینے سے نہیں اترے گا، البتہ اٹلی کے وزیراعظم نے جو اخلاقی نوٹس لیا ، وہ انسانیت کے ناچے قابلِ ستائش ہے۔ کارٹونوں والی شرٹ تو کوئی وزیر سراپا خنزیر ہی پہن سکتا ہے جس نے اٹلی کی اخلاقی ناک کاٹ کر اپنے وزیر اعظم کے ہاتھ میں تھما دی ہے ، وگرنہ انسانیت تو ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللساں ہے۔ تاریخ عالم نے حضور پرنور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شخصیت اور رخ انور کا جو خاکہ پیش کیا ہہ کاٹون بنانے والے اور پہننے والے کیا جانیں، انہوں نے تو اپنے خبث باطن کی تصویر بنا کر گلے میں ڈالنا تھی ، سو ڈال لی۔مداح رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے طیبہ کے چاند کو آنکھ بھر کر دیکھا ، وہ انہی کی زبانی سنیےواحسن منک لم ترقط عینی
    واجمل منک لم تلد النساءخلقت مبرا من کل عیب
    کانک قد خلقت کما تشاءکسی آنکھ نے آپ سے برھ کر حسین نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ خوبرو کسی عورت نے جنا ہی نہیں،آٓپ کو اس طرح ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا، جیسے آپ کو اپنی مرضی کے مطابق تخلیق کیا گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سر راہے ، نوائے وقت 19 فروری ، سے کاپی شدہ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s