!ھم نے سوچ رکھا ہے

مصنف: نوشی گیلانی

ھم نے سوچ رکھا ہے!
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے بہ جا‚ے
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جایں
اور بے مقدر ھم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جایں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر

کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گیے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ھیں کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے بچ کےبھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں!
جس طرح تمہیں سچ کے لاّزوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں!
ھم نے سوچ رکھا ہےتم سے کچھ نہیں کہنا!!

This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

One Response to !ھم نے سوچ رکھا ہے

  1. Tarique says:

    Tarique tumnay kia soch rakha hay?🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s