مانا بکھرا ہوں میں

مانا بکھرا ہوں میں
مانا بکھرا ہوں میں
ابھی میں نے خواب پیروئے تھے
تیری سانسوں میں گھم ہوابھی
میری چاہت ادھوری ہے

مشکلیں جب بھی آجائیں گی
درد حد سے گزر جائے گا
کوئی غم نہ پھرہوگا مجھے
گر خوابوں میں تم آؤ گے

اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے میں

دور جتنا بھی تم مجھ سے
پاس تیرے میں
اب تو عادت سی ہے مجھ کو

source: Jal the band
This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

2 Responses to مانا بکھرا ہوں میں

  1. Afifa says:

    اسلام علﻳکم !امجد اسلام امجد کى دو نظموں کى صورت مﻳں راﺋے پﻳش خدمت ھے ۔آنکھوں کا رنگ، بات کا لﮧجﮧ بدل گﻳا وه شخص اﻳک شام مﻳں کتنا بدل گﻳا!کچھ دن تو مﻳرا عکس رھا آﺋﻳنے پﮧ نقش پھر ﻳوں ھوا کﮧ خود مِرا چﮧرا بدل گﻳاجب اپنے اپنے حال پﮧ ھم تم نﮧ ره سکے تو کﻳا ھوا جو ھم سے زمانﮧ بدل گﻳاقدموں تلے جو رﻳت بچھى تھى وه چل پڑى اس نے چھڑاﻳا ھاتھ تو صحرا بدل گﻳاکوﺋى بھى چﻳز اپنى جگﮧ پر نﮧﻳں رھى جاتے ھى اﻳک شخص کے کﻳا کﻳا بدل گﻳا !اِک سر خوشى کى موج نے کﻳسا کﻳا کمال! وه بے نﻳاز سارے کا سارا بدل گﻳاحﻳرت سے سارے لفظ اسے دﻳکھتے رھے باتوں مﻳں اپنى بات کو کﻳسے بدل گﻳاککﮧنے کو اﻳک صحن مﻳں دﻳوار ھى بنى گھر کى فضا ، مکان کا نقشﮧ بدل گﻳاشاﻳد وفا کے کھﻳل سے اکتا گﻳا تھا وه منزل کے پاس آ کے جو رستﮧ بدل گﻳاقاﺋم کسى بھى حال پﮧ دنﻳا نﮧﻳں رھى تعبﻳر کھو گﺋى ، کبھى سپنا بدل گﻳامنظر کا رنگ اصل مﻳں ساﻳا تھا رنگ کا جس نے اسے جدھر سے بھى دﻳکھا بدل گﻳااندر کے موسموں کى خبر اس کو ھو گﺋى ! اس نو بﮧارِ ناز کا چﮧرا بدل گﻳاآنکھوں مﻳں جتنے اشک تھے جگنو سے بن گﺋے وه مسکراﻳا اور مِرى دنﻳا بدل گﻳااپنى گلى مﻳں اپنا ھى گھر ڈھونڈتے ھﻳں لوگ امجدؔ ﻳﮧ کون شﮧر کا نقشﮧ بدل گﻳا

  2. Afifa says:

    دوسرى نظم۔آنکھوں کو التباس بﮧت دﻳکھنے مﻳں تھےکل شب عجﻳب عکس مﻳرے آﺋﻳنے مﻳں تھےسارے دھنک کے رنگ تھے اس کے لباس مﻳںخوشبو کے سارے اَنگ اسے سوچنے مﻳں تھےھر بات جانتے ھوﺋے دل مانتا نﮧ تھاھم جانے اعتبار کے کس مرحلے مﻳں تھےوصل و فراق دونوں ھﻳں اک جﻳسے ناگزﻳرکچھ لطف اس کے قرب مﻳں ، کچھ فاصلے مﻳں تھےسﻳلِ زماں کى موج کا ھر وار سﮧﮧ گﺋےوه دن ، جو اِک ٹوٹے ھوﺋے رابطے مﻳں تھے!غارت گرى کے بعد بھى روشن تھىﻳں بستﻳاںھارے ھوﺋے تھے لوگ مگر حوصلے مﻳں تھے !ھِر پھر کے آﺋے نقطﮧٔ آغاز کى طرفجتنے سفر تھے اپنے کسى داﺋرے مﻳں تھےآندھى اڑا کے لے گﺋى جس کو ابھى ابھىمنزل کے سب نشان اسى راستے مﻳں تھےچھو لﻳں اسے کﮧ بس دور سے دﻳکھتے رھﻳں!تارے بھى رات مﻳرى طرح ، مخمصے مﻳں تھےجگنو، ستارے، آنکھ، صبا، تتلﻳاں ، چراغسب اپنے اپنے غم کے کسى سلسلے مﻳں تھے!جتنے تھے خط تمام کا تھا اﻳک زاوﻳﮧپھر بھى عجﻳب پﻳچ مﻳرے مسﺋلے مﻳں تھےامجدؔ کتابِ جاں کو وه پڑھتا بھى کس طرح !لکھنے تھے جتنے لفظ، ابھى حافظے مﻳں تھےامﻳد ھے آپ کو پسند آﺋﻳں گى۔والسلامسگِ قلندر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s