بھیگی یادیں – جل پری

بھیگی یادیں – جل پری
مصنف: عاطف
منجانب: Lateef Shaikh

بھیگی بھیگی یادیں، بھیگی بھیگی یادیں۔

نا میں جانوں،
نا تو جانے،
کیسا ہے یہ عالم، کوئی نا جانے۔

پھر کیوں ہے یہ تنہائی،
کیسی ہے یہ رسوائی،
گم ہو گئے تم،
کھو گئے ہم،
لمحے۔

آندھی ہو یا طوفاں ہو،
میرے من میں رہے تو سدا،
کوئی اپنا ہو یا پرایا ہو،
اسے ڈھونڈوں میں کہاں،
تو کیوں ہے یہ تنہائی،
کیسی ہے یہ رسوائی،
گم ہو گئے تم،
کھو گئے ہم،
لمحے،
راتیں،
کوئی نا جانے،
تھی کیسی باتیں،
وہ برساتیں،
وہ بھیگی بھیگی یادیں،
وہ بھیگی بھیگی یادیں۔

ساگر کی ان لہروں سے گہرا ہے میرا پیار،
صحراؤں کی ہواؤں میں کیسے آئے گی بہار،
تو کیوں ہے یہ تنہائی،
کیسی ہے یہ رسوائی،
گم ہو گئے تم،
کھو گئے ہم،
لمحے،
وہ راتیں،
کوئی نا جانے،
تھی کیسی باتیں،
وہ برساتیں،
وہ بھیگی بھیگی یادیں،
وہ بھیگی بھیگی یادیں۔

وہ لمحے، وہ راتیں، کوئی نا جانے، بھیگی یادیں۔

وہ لمحے، وہ راتیں، کوئی نا جانے، بھیگی یادیں۔

وہ لمحے، وہ راتیں، کوئی نا جانے، بھیگی یادیں۔

وہ لمحے، وہ راتیں، کوئی نا جانے، بھیگی یادیں۔

وہ لمحے۔

This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s