تاثرات

This is the Test Blog, and this blog تاثرات was published on Danial blog.

زلزلے سے کراچی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شمال کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ پاکستان ریلوے نے کل پریس ریلیز میں اندازا پچیس ہزار ٹکٹوں کے جاری ہونے کا بتایا تھا۔ جبکہ یہ پچیس ہزار لوگ وہ ہیں جن کے شناختی کارڈز پر متاثرہ علاقوں کے پتے تھے۔ کتنے ہی لوگ بسوں، ٹرکوں، ہوائی جہازوں کے ذریعے وہاں پہنچ رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، میڈیکل اسٹاف، عام نوجوان جنہیں اس طرح کے کاموں کا کوئی تجربہ نہیں، ہر کوئی مدد کرنے کو بے قرار ہے۔ افرادی قوت کی اچانک اور شدید قلت کے باعث کئی کارخانے، تعمیراتی منصوبہ جات، ہوٹل اور ریستوران، ہر کاروبار متاثر ہوا ہے۔ بازار ویران ہیں اور صرف وہی چیزیں بک رہی ہیں جو لوگ امداد میں دینے کے لئیے خرید رہے ہیں۔

لوگ جوق در جوق امداد جمع کرارہے ہیں۔ سینکڑوں نوجوان لڑکے لڑکیاں پاکستان ائیر فورس میوزیم پر ہاتھ بٹارہے ہیں۔ کراچی کے تمام اسکولوں کالجوں مدرسوں کے طلباء اور طالبات سڑکوں پر چندہ مانگ رہے ہیں۔ حتی کہ رمضان کے موقع پر ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے فقیر بھی بھیک نہیں مانگ رہے۔ کوئی سڑک ایسی نہیں جہاں سے بھری ہوئی گاڑیاں پاکستان ائیرفورس میوزیم جاتی ہوئی نظر نہ آرہی ہوں۔ کوئی گلی محلہ کوچہ ایسا نہیں جہاں ریلیف کیمپ نہ ہو۔ اور ان سینکڑوں کیمپوں میں سے کوئی کیمپ ایسا نہیں جو خالی ہو۔ ٹرانسپورٹرز کے خلاف آج وزیرداخلہ نے خود مہم چلائی اور کئی ٹرانسپورٹرز کے دفتروں اور ٹرک اڈوں پر اچانک چھاپے مارے۔ جس سے آج ٹرانسپورٹ کل کے مقابلے میں وافر تو تھی لیکن کم قیمت نہیں تھی۔ کفن، خیمے، دوائیں ہر چیز بک رہی ہے اور نوے فیصد دکانداروں نے قیمتیں نہیں بڑھائیں صرف چند شرپسند لوگ ہیں جو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں۔ اگر آپ میں سے کسی کا ان سے سامنا ہو تو انہیں غیرت دلائیں اگر وہ نہ مانیں تو پولیس کو ون فائیو پر اطلاع دیں۔

کاش میرے پاس وہ لفظ ہوتے جن سے میں یہ کیفیت بیان کر پاتا۔ میں جو کچھ دیکھتا رہا ہوں اسے لکھنے کی صلاحیت میرے پاس نہیں ہے۔ ہر طرف ایک جوش ہے، جذبہ ہے، خدمت کا، اپنے ہموطنوں کی مدد کا، بھلائی کا، انسانیت کا۔ فکرمندی ہے، دردمندی ہے، ایک طرف آنسو بھری آنکھیں ہیں دوسری طرف ان کے آنسو پونچھنے کے لئیے ہزاروں ہاتھ۔ نہ ستائش کہ تمنا ہے نہ صلے کہ پرواہ۔

میرا دوست کامران متحدہ کے وفد کے ساتھ راولپنڈی روانہ ہوگیا ہے۔

میرے ایک اور دوست جو ایک ہسپتال میں بطور میل اسٹاف کام کرتے ہیں وہ کل رات سے آج افطار تک گھر نہیں آئے ان کے ہسپتال المصطفی ٹرسٹ کا آدھے سے زیادہ عملہ اور ڈاکٹر کل راولپنڈی چلے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی جانا چاہتے تھے مگر جونئیر ہونے کی وجہ سے ان کو کسی نے جانے نہیں دیا اور اب وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ بھی کام کررہے ہیں۔

میرے طایا میرے کام پر نہ جانے سے ناراض ہوتے ہیں لیکن انہوں نے مجھے خود منع کردیا اور ایک چیک بھی لکھ کر دیا۔

ہماری گلی میں آج ایک چھوٹا سا بچہ دس روپے والا نیڈو کا پیکٹ خرید کر ہمیں دے کر گیا۔

میں ایک بہت حساس انسان ہوں لیکن رونے دھونے والا حساس انسان نہیں۔ لیکن آج جب تراویح کے بعد مسجد میں امام صاحب نے رو رو کر دعا کی تو میں باہر کیمپ میں بیٹھے ہوئے رو دیا۔ ہماری گلی میں کوئی گھر ایسا نہیں جو کسی ایسے شخص کو نہ جانتا ہو جس کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار ہلاک ہوگیا ہو۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں چندہ جمع کررہی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب یہ بچیاں مہندی، چوڑیوں اور کپڑوں کے لئیے پیسے جمع کرتی ہیں۔

میں ایک بار پھر کراچی میٹرو بلاگنگ کی بلاگر ہما کا ذکر کروں گا جنہوں نے میدان عمل کے ساتھ ساتھ میٹروبلاگ پر بھی تازہ ترین معلومات فراہم کی جن سے کئی لوگوں نے رہنمائی حاصل کی۔ ہما کے علاوہ کئی اور لڑکیاں بہت کام کررہی ہیں اور کسی بھی طرح لڑکوں سے پیچھے نہیں ہیں۔

آج کا دن کل کے مقابلے میں بہتر تھا۔ کل تک تو بہت ہی مایوس کن خبریں آرہی تھیں لیکن آج ہر طرف سے امدادی کاروائیوں کی خبروں نے کراچی میں موجود رضاکاروں میں نیا جذبہ بھر دیا۔ کل تک جو لوگ مسکراتے ہوئے بھی شرمندہ ہورہے تھے آج اچھی خبریں ملنے پر خوش بھی تھے اور فکر مند بھی۔ نئی معلومات کی روشنی میں آج زیادہ تر زور ٹینٹ، خیموں اور کمبلوں پر رہا۔

مجھے اس موقع پر میلکم گلیڈویل کی کتاب دی ٹپنگ پوائنٹ یاد آرہی ہے۔ اس کتاب میں وہ یہ بیان کرتے ہیں کی کس طرح گروہوں، معاشروں اور شہروں کی زندگیوں میں اچانک ایسے موڑ آتے ہیں جو بظاہر تو کسی خاص سمت اشارہ نہیں کرتے لیکن ان کے نتیجے میں حیرت انگیز تبدیلیاں آتی ہیں۔ وہ ان واقعات کو سوشل وبائیں کہتے ہیں جو ایک چھوٹی سی جگہ سے شروع ہوکر افراد، شہروں اور بعض اوقات پوری قوموں کو جکڑ لیتی ہیں۔ کبھی یہ اچھی ہوتی ہیں کبھی بری لیکن ان کا مطالعہ ہمیں معاشرہ کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت عطا کرتا ہے۔

کیا یہ ہمارا ٹپنگ پوائنٹ ہے؟

Courtesy by : Danial

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

One Response to تاثرات

  1. Unknown says:

    Even if this is a test blog, I would like my posts to be acknowledged as mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s