یومِ دفاع(۶ ستمبر) کے موقع پر

یومِ دفاع(۶ ستمبر) کے موقع پر
طارق کی دُعا
یہ غاذی یہ تیرےپراسرار بندے …… جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خُدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا …… سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو ….. عجب چیز ہے یہ لذت آشنائی
شہادے ہے مطلوب و مقصودِ مومن …. نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہئے اس کو خونِ عرب سے
کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا ….. خبر میں، نظر میں، اذانِ سحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو ….. وہ سوذ اُس نے پایا انہیں کے جگر میں
کشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو ….. ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کردے ….. وہ بجلی تھی نعرہ لَاتَذَر، میں
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!۔

This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

One Response to یومِ دفاع(۶ ستمبر) کے موقع پر

  1. Tarique says:

    اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں جلانے آگ جو آئی تھی آشیانے کو وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دے تم بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے
    تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیںچلے جو ہوگےشہادت کا جام پی کر تم رسول پاک نے بانہوں میں لیا لیا ہوگا علی تمہاری شہادت پر جھومتے ہوں گے حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا
    تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s