غزل

غزل
 
 
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ، ایسے تو حالات نہیں
ایک ذرا سا دل ٹوٹا ھے ، اور تو کوئی بات نہیں

کس کو خبر تھی سانولے بادل ِبن برسے اڑ جاتے ھیں
ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں

ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی
گونج رھی ھے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں

غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوں
ُتو پر ُتو ھے، میرا تو سایا بھی میرے ساتھ نہیں

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ھے
لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

ختم ھوا میرا افسانہ ، اب یہ آنسو پونچھ بھی لو
جس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں

میرے غمگیں ھونے پر احباب ھیں یوں حیراں قتیل
جیسے میں پتھر ھوں ، میرے سینے میں جذبات نہیں

قتیل شفائی
This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

One Response to غزل

  1. Mohammad says:

    wahaa whaaaa kia baat hay app ki …….

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s