شرعی پردہ — قرآن و حدیث کی روشنی میں

شرعی پردہ — قرآن و حدیث کی روشنی میں

ڈاکٹر اسر اراحمد

شرعی پردہ دراصل دو پردوں پر مشتمل ہے۔ ایک ہے گھر کے اندر کا پردہ جس کے بارے میں احکامات سورةالنور میں بیان ہوئے ہیں ۔ ان احکامات کو ” احکاماتِ ستر “ کہا جاتا ہے۔ دوسرا ہے گھر کے باہر کا پردہ جس کے بارے میں احکامات سورةالاحزاب میں وارد ہوئے ہیں اور یہ احکامات” احکاماتِ حجاب “ کہلاتے ہیں۔
ستر و حجاب میں فرق
پردے کے حوالے سے اکثر لوگ ستر اور حجاب میں کوئی فرق نہیں کرتے حالانکہ
شریعتِ اسلامیہ میں ان دونوں کے احکامات الگ الگ ہیں ۔سترجسم کا وہ حصہ ہے جس کا ہر حال میں دوسروں سے چھپا نا فرض ہے ماسوائے زوجین کے  یعنی خاوند اور بیوی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے اور عورت کا ستر ہاتھ پاؤں اور چہرے کی ٹکیہ کے علاوہ پورا جسم ہے ۔ ایک دوسری روا یت کے مطابق عورت کا سارا جسم ستر ہے سوائے چہرے اور ہاتھ کے ۔ البتہ عورت کے لئے عورت کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے ۔ معمول کے حالات میں ایک عورت ستر کا کوئی بھی حصہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں کھول سکتی ۔ ستر کا یہ پردہ ان افراد سے ہے جن کو شریعت نے ” محرم “ قرار دیا ہے۔ ان محرم ا فراد کی فہرست سورة النور آیت ۳۱ میں موجود ہے۔ ستر کے تمام احکامات سورة النور میں بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیلات احادیث نبوی ﷺ میں مل جاتی ہیں۔ گھر کے اندر عورت کے لئے پردے کی یہی صورت ہے ۔
البتہ حجاب عورت کا وہ پردہ ہے جسے گھر سے باہر کسی ضرورت کے لئے نکلتے وقت اختیار کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں شریعت کے وہ احکامات ہیں جو اجنبی مردوں سے عورت کے پردے سے متعلق ہیں ۔ حجاب کے یہ احکامات سورة الا حزاب میں بیان ہوئے ہیں۔ان کا مفہوم یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت جلباب یعنی بڑی چادر ( یا برقع ) اوڑھے گی تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے اور چہرے پر بھی نقاب ڈ الے گی تاکہ سوائے آنکھ کے چہرہ بھی چھپ جائے ۔ گویا حجاب یہ ہے کہ عورت سوائے آنکھ کے باقی پورا جسم چھپائے گی۔
گھر کے اندر کا پردہ — ” احکاماتِ ستر “
1 – کسی کے گھر میں داخل ہوتے وقت
اجازت طلب کی جائے
سورة النور آیت ۲۷ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰی اَھْلِھَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ O
” اے ایمان والو دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اپنی پہچان نہ کرالو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج دو یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے شاید کہ تم یاد رکھو “
اس آ یت میں ہدا یت کی گئی ہے کہ اچانک اور بلا اطلاع کسی کے گھر میں داخل نہ ہوجا یا کرو۔ ا سلام سے پہلے عرب میں رواج تھا کہ لوگ بے تکلف دوسروں کے گھر میں داخل ہو جاتے اور بسا اوقات اہلِ خانہ اور خواتین کو ایسی حالت میں دیکھ لیتے جس میں دیکھنا خلافِ تہذیب ہے۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ لوگوں کے گھروں میں نہ داخل ہو جب تک یہ معلوم نہ کر لو کہ تمہا را آنا صاحبِ خانہ کے لئے ناگوار تو نہیں ہے۔ داخل ہونے سے پہلے سلام کرکے اجازت لے لیا کرو۔ اجازت لینے کے لئے مسنون طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ مناسب وقفوں سے باآوازِ بلند سلام کیاجائے یا دستک دی جائے۔ اگر جواب نہ ملے یا کہاجائے کہ چلے جاؤ تو دروازے پر جم جانا درست نہیں ہے بلکہ برامانے بغیر لوٹ جاناچاہیئے۔ اسی طرح اس سورة کی آیت ۵۸ میں حکم ہے کہ نمازِ فجر سے قبل ‘ نمازِ ظہر کے بعد اور نمازِ عشاء کے بعد یعنی ایسے اوقات میں جب عام طور پر شوہر اور بیوی خلوت میں ہوتے ہیں ‘ ملازم اور بچے وغیرہ بلا اجازت کمروں میں داخل نہ ہوا کریں۔ ان امور کی مزید وضاحت حسبِ ذیل احادیث مبار کہ میں بیان کی گئی ہے :
۱ – نبی اکرم ﷺ کا اپنا قاعدہ یہ تھا کہ جب کسی کے ہاں تشریف لے جاتے تو دروازے کے عین سامنے کھڑے نہ ہوتے کیوں کہ اُس زمانے میں دروازوں پر پردے نہ لٹکائے جاتے تھے ۔ آپ دروازے کے بائیں یا دائیں جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب فرمایا کرتے ۔ ( ابوداؤد)
( فقھاء نے نابینا کے لئے بھی اجازت مانگنا لازم قرار دیا ہے تاکہ گھر والوں کی باتیں سننے کا احتمال نہ ہو )
۲ – اجازت لینے کے لئے نبی اکرم نے زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ پکارنے کی حد مقرر کی اور فرمایا اگر تیسری بار پکارنے پر بھی جواب نہ آئے تو واپس ہو جاؤ۔(متفق علیہ)
۳ – حضرت ھزیل بن شرحبیل  کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ہاں حاضر ہوا اورعین دروازے پر کھڑے ہوکر اجازت مانگنے لگا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرما یا کہ تیرا یہ کیا معاملہ ہے ؟ اجاز ت مانگنے کا حکم تو ا س لئے ہے کہ نگاہ نہ پڑے ۔ ( ابوداؤد)
۴ – حضرت ثوبان  کی روا یت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ جب نگاہ داخل ہوگئی تو پھر خود داخل ہونے کے لئے اجاز ت مانگنے کا کیا موقع رہا ۔ ( ابوداؤد)
۵ – ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ہاں آیا اور دروازے پر آکر کہا اَ اَ لِجُ – کیا میں گھس آؤں؟ نبی اکرم ﷺ نے اپنی لونڈی روضہ سے فرمایا کہ یہ شخص اجازت مانگنے کا طریقہ نہیں جانتا ذرا اٹھ کر اسے بتاؤ کہ یوں کہنا چاہیئے السلام علیکم ! اَ اَ دْ خُلُ – کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ ( ابوداؤد)
۶ – حضرت کلدہ بن حنبل  ایک کام سے نبی اکرم ﷺ کے ہاں گئے اور سلام کیے بغیر یوں ہی جا بیٹھے ۔آپ نے فرمایا باہرجاؤ اور السلام علیکم کہہ کر اندر آؤ۔ ( ابوداؤد)
۷ – حضرت جابر بن عبداللہ  کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺکے ہاں گیا اور دروازے پر دستک دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ” میں ہوں “ آپ نے دو تین مر تبہ فرمایا ” میں ہوں ! میں ہوں ! “ یعنی اس ” میں ہوں “ سے کوئی کیا سمجھے کہ تم کون ہو ۔ ( ابوداؤد)
اجازت لینے کا حکم ا پنے گھر کی صورت میں بھی ہے

۱ – ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جاتے وقت بھی اجازت طلب کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ۔ اس نے کہا میرے سوا ان کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ کیا ہر بار جب میں ان کے پاس جاؤں تو اجازت مانگوں ؟ فرمایا کہ کیا تو پسند کرتا ہے کہ اپنی ماں کوعریاں دیکھے؟ ( ابن جریر  )
۲ – عبداللہ بن مسعود  کا قول ہے کہ” اپنی ماں بہنوں کے پاس بھی جاؤ تو اجازت لے کر جاؤ “۔ ان کی بیوی حضرت زینب سے روا یت ہے کہ جب و ہ گھر پرآتے تو ایسی آواز کرتے جس سے ان کی آمد کاعلم ہو جاتا۔ ( ا بن کثیر )
2 – نگاہ نیچی رکھنا
سورة النور آیت۳۰ میں فرمایاگیا:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ
” اے نبی ﷺ ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں “ ۔
اسی سورة کی آیت۳۱ میں ارشاد ہوتا ہے :
وَقُلْ لِّلْمُوٴْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ
” اے نبی ﷺ ! مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں
اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“۔
نگاہوں کی حفاظت کا حکم گھرسے باہر بھی ہے تاکہ نامحرموں پر نگاہ نہ پڑے لیکن اصلًا یہ حکم گھر کے اندر کے لئے ہے کیوں کہ باہر چلتے ہوئے نگاہیں نیچی رکھنے سے کسی شے سے ٹکرانے کا خطرہ ہو سکتاہے ۔ گھر کے اندر اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ محرم خواتین پر بھی نگاہ نہ ڈالی جائے۔ بلاشبہ محرم خواتین کے ساتھ ایک تقدس کا رشتہ ہے لیکن بہر حال بحیثیت جنسِ مخالف ہونے کے‘ مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لئے کشش ہے اور نگاہوں کی بے احتیاطی فتنہ کا سبب بن سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بدنظری ہی بدکاری کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی وجہ سے اس آیت میں نظروں کی حفاظت کے حکم کو حفاظتِ فرج کے حکم پر مقدم رکھا گیا ہے ۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن ام مکتومنبی اکرم ﷺ کے حجرہٴ مبارک میں تشریف لائے تو حضرت عائشہ  اور ام سلمہ  سے آپ نے فرمایا : ” ان سے پردہ کرو “ ! وہ کہنے لگیں : ” کیایہ نابینا نہیں ہیں “ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” مگر تم تو نابینا نہیں ہو“ ۔ ہمارے معاملات آج اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم نے نوجوان لڑکیوں کو مخلوط تعلیمی اداروں ‘ دفاتر اور دیگر محافل میں غیر محرموں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی اجازت دے رکھی ہے۔ بعض والدین کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی بچی پر اعتماد ہے ۔ کیا نبی اکرم ﷺ کو ( نعوذ باللہ ) حضرت عائشہ  پر اعتماد نہیں تھا جن کی پاکیزگی کی گواہی خود رب العزت نے سورة النورکے دوسرے رکوع میں دی ہے۔ بد نظری کے نتیجے میں شیطان آنکھ کے راستے سے دل میں اتر جاتا ہے  پھر دونوں فریق ہم کلام ہوتے ہیں اور یوں بات آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔
نگاہوں کی حفاظت سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے چہرے کو نہ دیکھیں بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ دوسروں کے ستر پر نگاہ نہ ڈالی جائے اور نہ ہی کسی قسم کے فحش مناظر یا تصاویر کودیکھا جائے ۔ اس حوالے سے مندرجہ ذیل احادیث سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے :
۱ – نبی اکرم ﷺ نے فرمایا” اے علی  ! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا۔ پہلی نگاہ (جو بلا ارادہ پڑ گئی) معاف ہے مگر دوسری نہیں “ ۔ ( مسندِ احمد ۔ ترمذی )
۲ – حضرت جریر بن عبداللہ بجلی  کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا ” اچانک نگاہ پڑ جائے توکیاکروں ۔فرمایا فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو“ ۔ ( مسلم ، ترمذی ، ابوداؤد، نسائی)
۳ – ” جس مسلمان کی نگاہ کسی عورت کے حسن پر پڑے اور وہ نگاہ ہٹالے تو اللہ اس کی عبادت میں لطف اور لذت پیدا کردیتا ہے “ ۔ ( مسند احمد )
۴ – ” اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔ جو شخص مجھ سے ڈر کر اس کی حفاظت کرے گا میں اس کے بدلے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا ۔ ( طبرانی )
نوٹ : کسی اجنبی عورت کو دیکھنے کی بعض صورتوں میں اجازت ہے مثلًا :
# اگر ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے اجازت ہے کہ چوری چھپے اس پر ایک نظر ڈال سکتا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک جگہ نکاح کا پیغام بھجوایا۔ رسول اللہ نے پوچھا کہ تم نے لڑکی کو دیکھا ہے؟ انہوں نے عرض کیانہیں۔ فرمایا اسے دیکھ لواس طرح زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ تمہارے درمیان موافقت ہوگی۔
# عدالتی کا رروائی یا گواہی کے لئے قاضی کا کسی عورت کو دیکھنا۔
# تفتیشِ جرم کے لئے پولیس کاکسی عورت کو دیکھنا۔
# علاج کے لئے طبیب کا مریضہ کو دیکھنا۔
ا یک اہم نکتہ
نگاہ نیچی رکھنے کا حکم عورتوں کے لئے بھی ہے اور مردوں کے لئے بھی۔ لیکن عورتوں کے مردوں کو دیکھنے کے بار ے میں سختی کم ہے۔ جس مرد سے عورت کا براہِ راست رابطہ ( Contact ) کا امکان ہے اسے دیکھنا تو منع ہے البتہ جس مرد سے رابطہ کا امکان نہیں اسے کسی ضرورت اور مقصد کے تحت دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گھر سے با ہرنکلنے پرعورتوں کے لئے تو چہرے کا پردہ ہے لیکن مردوں کے لئے نہیں ۔ایک روا یت میں ہے کہ ۷ھ میں حبشیوں کا ایک وفد مدینے آیا اوراس نے مسجد نبوی کے پاس تماشہ کیا ۔ نبی ﷺنے خود حضرت عائشہ  کو یہ تماشہ دکھایا ( بخاری ، مسلم، مسندِ احمد ) ۔ اسی نکتہ کے تحت اگر براہِ راست رابطہ کا امکان نہ ہو تو خواتین مردوں سے دینی و جدید تعلیم سیکھ سکتی ہیں ۔
دوسروں کے ستر پر نگاہ نہ ڈالنے کی تاکید ذیل کی احادیث میں بیان ہوئی ہے :
۱ – ” کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے “ ۔
( مسندِ احمد ، مسلم ، ا بوداؤد )
۲ – حضرت علی  کی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کسی زندہ یا مردہ انسان کی ران پرنگاہ نہ ڈالو ۔ ( ابوداؤد ، ابن ماجہ )
3 – ستر کی حفاظت کرنا
سورة النور آیات۳۰ اور ۳۱میں مردوں اور عورتوں دونوں کو تلقین کی گئی کہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ شرمگاہوں کی حفاظت کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ خود کوجنسی بے راہروی اور زنا سے بچا کراپنی عصمت و عفت کی حفاظت کریں اور دوسرے یہ کہ وہ اپنا ستر کسی کے سامنے نہ کھولیں ۔اس کی وضاحت ذیل کی احادیث سے ہو تی ہے :
۱ – نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ستر کو اپنی بیوی اور لونڈی کے سوا ہر ایک سے محفوظ رکھو۔ سائل نے پوچھا جب ہم تنہائی میں ہوں ؟ فرمایا اللہ تعا لیٰ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ ( ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ما جہ )
۲ – حضرت عائشہ سے روا یت ہے کہ ان کی بہن حضرت اسماء  نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ نبی اکرم ﷺنے منہ پھیر لیا اور فرمایا اے اسماء  جب عورت بالغ ہو جا ئے تو جائز نہیں ہے کہ منہ اور ہاتھ کے سو ا اس کے جسم کا کوئی حصّہ نظرآئے ۔ ( ابوداؤد)
۳ – نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ” اللہ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی برہنہ رہیں“ ۔ حضرت عمر  اس حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جوجسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہوجائے ۔ ( المبسوط )
۴ – حفصہ بنتِ عبد الرحمن  حضرت عائشہ  کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ ایک باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں ۔ حضرت عائشہ  نے اس کو پھاڑدیا او رایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈال دی ۔ (موطا امام مالک  )
نوٹ : بحالتِ مجبوری یا بغرضِ علاج ، طبیب کے سامنے ستر کھولا جا سکتا ہے ۔
4 – سینہ پر اوڑھنی ڈ النا
سورة النور آیت۳۱ میں خواتین کو حکم دیاگیا :
وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ
” اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈال لیں“ ۔
یعنی چادر سے اپنا گریبان چھپائے رکھیں ۔حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ :
” جب سورة النور نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے اس کو سن کر لو گ اپنے گھروں کی طرف پلٹے اور جاکر انہوں نے اپنی بیویوں  بیٹیو ں ا ور بہنوں کو اس کی آیات سنائیں ۔ انصاری عورتوں میں سے کوئی ایسی نہ تھی جو آیت ”وَلْیَضْرِ بْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ “ کے الفاظ سن کر اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی ہو ۔ ہر ایک اٹھی اور کسی نے اپنا کمر پٹہ کھول کر اور کسی نے چادر اٹھا کر فوراً اس کا دوپٹہ بنالیا اور اوڑھ لیا ۔ دوسرے روز صبح کی نماز کے وقت جتنی عورتیں مسجدنبویمیں حاضرہوئیں سب دوپٹے اوڑھے ہوئی تھیں “۔ ( ابوداؤد)
5 – عورتیں ا پنی زیب و زینت مخفی رکھیں
سورة النور آیت۳۱ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا
” اور عورتیں اپنی زیب و زینت کسی پر ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے
جو از خود ( بغیر ان کے اختیار کے )ظاہر ہوجائے “
یعنی عورتیں نامحرم مردوں کے سامنے اپنی زینت یعنی حسن اور بناؤسنگھار کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اس زینت کے جو از خودظاہر ہو یا ظاہر ہوجائے ۔ قرآنِ حکیم میں اس کے لئے ” اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا “یعنی” سوائے اس زینت کے جواز خود ظاہر ہو جائے “ کے الفاظ آئے ہیں۔ یوں نہیں فرمایا گیا کہ ” اِلَّا مَا اظْھَرْنَ مِنْھَا “ یعنی ” سوائے اس زینت کے جسے عورتیں خود ظاہرکریں “ ۔
زینت سے مراد جسم کے وہ حصے ہیں جن میں مرد کے لئے کشش ہے یا جہاں مختلف آرائشیں‘ بناؤسنگھار یا زیورات کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس آیت کی روشنی میں عورت نامحرم مردوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر نہیں کر سکتی ، سوائے اس زینت کے جو از خودظاہر ہو یا ظاہر ہوجائے مثلاً عورت کی جسمانی ساخت یعنی قد کاٹھ ‘ بیرونی لباس‘ چادر سرسے ڈھلک جائے یا ہاتھ پاؤں کی کسی زینت کا اظہار ہوجائے تو اس پر گرفت نہیں ہے ۔ آگے چل کر اسی آیت میں مزید وضاحت فرمادی گئی کہ :
وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآئِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَ بْنَائِھِنَّ اَوْ اَبْنَاءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْ اِِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْنِسَآئِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولیِ الْاِرْبَةِ مِنَ
الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ
” اور عورتیں اپنی زیب و زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہر وں اور باپ اور خسراور بیٹوں اور شوہروں کے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی جان پہچان کی عورتوں اور اپنی کنیزوں وغلاموں کے نیز ان خدام کے جو عورتوں سے کوئی غرض نہیں رکھتے یا ایسے بچوں سے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں
سے ابھی واقف نہیں ہوئے“۔
آیت کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ عورت کوشوہر کے علاوہ ان رشتہ داروں کے سامنے اظہارِ زینت کی اجازت ہے جو اس کے محرم ہیں یعنی جن سے نکاح حرام ہے۔ اس اجازت کی حکمت یہ ہے کہ گھر میں رہنے اور کام کاج کرنے میں کوئی تنگی اور دشواری نہ ہو۔ اس آیت میں ماموں اور چچا کا ذکر نہیں لیکن سورة النساء کی آیت ۲۳ میں ان کو بھی محرم رشتے داروں میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح دادا ‘ نانا‘ پوتے‘ نواسے‘سوتیلے اور رضاعی رشتہ دار بھی محرموں میں شامل ہیں ۔
” اس آیت میں بیان شدہ محرم رشتہ داروں کی فہرست اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ عورت صرف اِنہی رشتے داروں کے سامنے اظہارِ زینت کرسکتی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر مردوں کے سامنے وہ اپنی زینت اور خاص طور پر زینت کے مرکز یعنی چہرے کو ظاہر نہیں کرسکتی۔ اب جو لوگ نا محرم مردوں سے عورت کے چہرے کے پردے کے قائل نہیں ہیں کیا ان کے نزدیک اس آیت میں بیان شدہ محرم رشتہ داروں کی فہرست کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا وہ تمام ہی مردوں کے سامنے عورت کے اظہارِ زینت کو جائز سمجھتے ہیں؟ “
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں بیان شدہ محرم رشتہ داروں کی فہرست میں شوہر کے والد کا ذکر بھی ہے اور شوہر کے بیٹے کابھی لیکن شوہر کے بھائی کا ذکر نہیں۔ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کیا دیور سے بھی پردہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا :
اَ لْحُمْوُ مَوْتٌ دیور تو موت ہے ! ( بخاری ، مسلم ، مسندِ احمد)
اصل میں پردے کے احکامات کی حکمت ہی یہ ہے کہ ُان محرکات پر پابندیاں لگائی جائیں جن سے زنا کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک عورت کو سب سے زیادہ خطرہ اُن نامحرم رشتہ دار مردوں سے ہو سکتاہے جو گھر میں موجود ہوں یا جن کا گھر میں آناجانا آسان ہو۔ اس لئے نبی ﷺنے دیور یا جیٹھ کے بارے میں فرمایا کہ وہ تو بھابھی کے لئے موت ہیں۔
مزید براں اس آیت میں فرمایا گیا کہ عورتوں کا صرف ایسی عورتوں سے پردہ نہیں ہے جو ” اپنی عورتیں “ ہوں یعنی وہ ایسی جانی پہچانی عورتیں ہوں جن کے با حیا اور نیک اطوار ہونے کا علم ہو۔ اجنبی عورتوں سے مسلم خواتین کا پردہ ہے کیوں کہ نہ جانے وہ کس سوچ اور اطوار کی ہوں اور اپنی گفتگو ‘ اداؤں اور فیشن سے نہ جانے خواتین پر کیسے اثرات ڈال جائیں۔اس حکم پر عمل کے حوالے سے ایک اہم واقعہ سر سید احمد خان کا ہے ۔ایک مرتبہ یوپی کے گورنر سر ولیم میور نے سرسیدکے ہاں اپنی اہلیہ کو لانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن سرسید نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ہمارا دین ہماری عورتوں کو غیر عورتوں سے بھی پردے کا حکم دیتا ہے۔ بدقسمتی سے سرسید کے بہت سے پرستار پردے اور داڑھی کے معاملے میں سرسید کی تقلید نہیں کرتے۔
اس آیت میں البتہ یہ صراحت کردی گئی ہے کہ اگر کسی عورت کی کنیز غیر قوم سے ہو تب بھی اس سے پردہ نہیں ہے۔ جہاں تک کسی عورت کا اپنے غلام سے پردے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں دو آراء ہیں :
ایک رائے یہ ہے کہ غلام چاہے عورت کا اپنا مملوک ہی کیوں نہ ہو ‘ پردے کے معاملہ میں اس کی حیثیت وہی ہے جو کسی آزاد اجنبی مرد کی ہے ۔ اس کے لئے استدلال یہ ہے کہ غلام کے لئے اس کی مالکہ محرم نہیں ہے ۔اگر وہ آزاد ہوجائے تو اپنی اسی سابق مالکہ سے نکاح کرسکتاہے۔اس رائے کے حامل عبد اللہ بن مسعود ، مجاہد  ، حسن بصری ، ابن سیرین ، سعید بن مسیب ، طاؤس اور امام ابو حنیفہ  ہیں ۔ دوسر ی رائے یہ ہے کہ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ کے الفاظ عام ہیں ، جو لونڈی اور غلام دونوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور اسے لونڈیوں کے لئے خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔لہذا ایک عورت کا اپنی لونڈی اوراپنے غلام دونوں سے پردہ نہیں ہے۔ یہ رائے حضرت عائشہ صدیقہ  ‘ حضرت ام سلمہ  ‘ بعض ائمہ ٴ اہلِ بیت  اور امام شافعی  کی ہے ۔
مندرجہ بالا آراء میں سے اگر دوسری رائے کو بھی قبول کرلیا جائے تو بھی اسے آج کل کے گھریلو ملازمین سے پردہ نہ کرنے کے لئے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلام کی ایک خاص محکومانہ ذہنیت بن جاتی تھی اور وہ اپنی مالکہ سے اس قدر مرعوب اور فاصلہ پر ہوتا تھا کہ کوئی فعل بد تو کجا غلط نگاہ ڈالنے کا بھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔اس کے برعکس آج کل کے گھریلو ملازمین کا رویہ بڑا آزادانہ اور بے باک ہوتا ہے کیوں کہ وہ جب چاہیں ملازمت سے علیحدہ ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان کی طرف سے ایک خاتون کو اپنی ناموس کے حوالے سے اندیشہ ہو سکتا ہے۔
6 – مخلوط معاشرت کی ممانعت
سورة النور کی اس آیت میں محرم مردوں کے سامنے اظہارِ زینت کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مردوں کے ساتھ مخلو ط معاشرت کی ممانعت فرمادی ہے۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے :
” جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتاہے اسے چاہیئے کہ کسی عورت کے ساتھ ایسی خلوت میں نہ ہو جہاں کوئی محرم موجود نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے “ ۔( مسندِ احمد )
نیز آپ ﷺ نے اسے سخت نا پسند فرمایا کہ مرد  نا محرم خواتین کو چھوئیں یا ان سے مصافحہ کریں۔ ایک متفق علیہ حدیث ہے کہ :
” یہ تو گوارا کیا جاسکتا ہے کہ آدمی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے لیکن یہ گوارا نہیں کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہ ہو“۔
چنانچہ نسائی اور ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ” نبی اکرم ﷺ جب عورتوں سے بیعت لیتے تو مصافحہ نہیں فرماتے تھے اور صرف زبانی اقرار کرواتے تھے “ ۔
اسلام میں مخلوط معاشرت کی جو ممانعت ہے اس کا سب سے نمایاں اظہار محفلِ نکاح میں ہوتا ہے ۔ نکاح ایک مردا ور ایک عورت کے درمیان ایسا پختہ معاہدہ ہے جو زندگی بھرکے لئے ہوتا ہے ، لیکن اس معاہدے کے انعقاد کے وقت محفلِ نکاح میں معاہدے کے ایک اہم فریق یعنی دلہن کو آنے کی اجازت نہیں ۔ قاضی کے سامنے دلہن کی طرف سے نمائندگی ایک وکیل اور دو گواہوں کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ جو دانشور عورتوں کو ہر کام میں مردوں کے شانہ بشانہ شریک کرنے کی بات کرتے ہیں وہ محفلِ نکاح میں دلہن کی عدم شرکت کی کیا توجیہ پیش کریں گے ؟
7 – عورتیں اپنی مخفی زیب و زینت کو بھی چھپائیں
سورة النور آیت۳۱ کے آخر میں فرمایا گیا :
وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَایُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ط وَتُوْبُوْآاِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَ یُّہَ الْمُوٴْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ O
” اور عورتیں اپنے پاؤں ( اس طرح زمین پر ) نہ ماریں کہ ان کی پوشیدہ زینت
( زیور کی جھنکار ) ظاہر ہوجائے اور مومنو ! سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ “
نبی اکرم ﷺنے زیب و زینت کو صرف زیور کی جھنکار تک محدود نہیں ر کھا بلکہ ان تمام چیزوں سے منع فرمایاجو مرد کے جنسی احساسات کو مشتعل کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ اس حوالے سے آپ ﷺ کے حسبِ ذیل ارشادات سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے :
۱ – ” مردوں کے لئے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبونمایاں اور رنگ مخفی ہواور عورتوں کے لئے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو“۔ ( ترمذی ، ابوداؤد )
۲ – ” اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے منع نہ کرو مگر وہ خوشبو لگا کرنہ آئیں“ ۔
( ابوداؤد ، مسندِ احمد )
۳ – ” جو عورت عطر لگا کر لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے وہ آوارہ قسم کی عورت ہے “۔
( مسلم ، موطا امام مالک )
۴ – ” جو عورت عطر لگا کر راستے سے گزرے تاکہ لوگ اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہوں تووہ ایسی ہے اور ایسی ہے“ ۔ آپ نے اس کے لئے سخت الفاظ ارشاد فرمائے ۔ ( ترمذی ، ابودا وٴد ، نسائی )
۵ – ایک عور ت مسجد سے نکل کر جارہی تھی کہ حضرت ا بو ہریرہ  اس کے پاس سے گزرے اور انہوں نے محسوس کیا کہ و ہ خوشبو لگائے ہوئے ہے ۔ انہوں نے اسے روک کر پوچھا ” اے خدائے جبار کی بندی کیا تو مسجد سے آرہی ہے؟ “ اس نے کہا ہاں ! بولے ” میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو عورت مسجدمیں خوشبو لگاکر آئے اس کی نماز اس وقت تک قبول نہ ہوگی جب تک وہ گھر جاکرغسل جنابت نہ کرے “۔
(ابوداوٴد ، نسائی ، ابن ماجہ ، مسندِ احمد )
۶ – نماز میں اگر امام بھول جائے تو مردوں کو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہیں مگر عورتوں کو ہدا یت کی گئی ہے کہ اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر امام کو متنبہ کریں۔
( بخاری ، مسلم ، ترمذی ، ابو داوٴد ، نسائی ، ابن ماجہ )
گھر سے باہر کا پردہ — ” احکاماتِ حجاب “
سورةالاحزاب میں گھر سے باہر کے پردے کے بارے میں احکامات دیے گئے ہیں۔ ان احکامات کے تذکرے سے قبل ضروری ہے کہ ایک اشکال کا ازالہ کردیا جائے۔ ان احکامات کے بیان میں خطاب نبی اکرم ﷺ کی ازواجِ مطہرات  سے ہے لیکن ان کا اطلاق تمام مومنات پر ہوتا ہے ۔قرآنِ حکیم میں یہ طرزِ تخاطب ا س لئے اختیار کیا گیا ہے کہ مردوں کے لئے تو ہر اعتبار سے نمونہ رسول اللہ ﷺ ہیں لیکن خواتین کے لئے ان کے نسوانی پہلوؤں کے لحاظ سے نمونہ ازواجِ مطہرات  ہیں ۔ یہاں اگرچہ براہِ راست خطاب ازواجِ مطہرات  سے ہے لیکن ان کے واسطے سے پوری امت کی خواتین ان احکامات کی مخاطب ہیں ۔
1- نامحرم سے بات کرتے ہوئے نرم لہجہ
اختیا ر نہ کرنا
سورة الاحزاب کی آیت ۳۲ میں حکم د یا گیا :
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا o
” نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو ( نامحرم ) سے بات میں نرم انداز اختیار نہ کرو مبادا دل کی خرابی میں مبتلا کوئی
شخص ( جنسی )لالچ میں پڑ جائے  بلکہ بات کرو کھری“ ۔
یعنی عورتوں کو اگر نامحرم مردسے بات کرنا پڑے تو سیدھے سادے  کھرے اور کسی حد تک خشک لہجے میں گفتگو کی جائے  آواز میں کوئی شیرینی یا لہجے میں کسی قسم کی لگاوٹ نہ ہوتا کہ سننے والا کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائے۔
2 – خواتین وقار کے ساتھ گھر پر رہیں اور
بلاضرورت باہر نہ نکلیں
سورة الاحزاب کی آیت۳۳ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّةِ الْاُوْلٰی
” اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو“ ۔
اس آ یت سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیادہ پسندیدہ طرز عمل یہی ہے کہ وہ گھر میں سکون اور وقار کے ساتھ رہے ۔ در اصل اسلام میں مردوں کو ان امور کی انجام دہی سونپی گئی ہے جن کا تعلق گھر کے باہر سے ہے اور عورتوں کو ان امور کی جن کا تعلق گھر کے اندر سے ہے ۔ مردوں اور عورتوں کے ان دائرہ ہائے کار کا تعین ان کے مزاج اور صلاحیتوں کے اعتبارسے کیا گیا ہے۔یہ تعین کرنے والا خود خالقِ کائنات ہے جس کے علم اور جس کی حکمت پر کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا ۔ سورة الملک آیت ۱۴ میں ارشاد ہوتا ہے :
” کیا وہی نہ جانے گا جس نے پید اکیا ہے ؟ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “
مردوں اور عورتوں کی جسمانی اور ذہنی ساخت اور صلاحیتوں میں اختلاف بالکل واضح اور ظاہر ہے ۔ مرد کو مضبوط جسمانی اور دماغی اعصاب  جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینے کی صلاحیت اور شدائد ( جنگی یا کاروباری مصائب ) کا مقابلہ کرنے والی فطرت عطا کی گئی ہے جبکہ عورت کو نرم مزاج  لطیف جذبات  شیرینی اور نزاکت دی گئی ہے ۔ مرد کی فطرت میں شدت  سخت گیری  سرد مزاجی  تحکّم اور مزاحمت ہے جبکہ عورت کی ساخت میں قدرتی طور پر جمنے اور ٹھہرنے کے بجائے جھکنے اور ڈھل جانے کی خاصیت ہے ۔ مرد کی فطرت میں اقدام اور جسارت ہے جبکہ عورت کی فطرت گریز اور فرار سے عبارت ہے ۔ درحقیقت دونوں صنفوں کی قوتوں اور صلاحیتوں پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ کس صنف کو کس مقصد کے لئے پیدا کیاگیا ہے۔
عورت اپنی رائے  عقل  مزاج اور ظاہر ی و باطنی ساخت کے لحاظ سے صاحبِ عقل مرد اور بے عقل بچے کے درمیان کی کڑی ہے ۔ اگر فطری قانون میں بالغ اور بچے کے عمل کی حدود، جدا جدا ہیں تو عورت اور مر د کے فرائض بھی یکساں نہیں ہوسکتے۔ اسی لئے اسلام نے مردوں اور عورتوں کے فرائض بالکل جدا اور علیحدہ طے کیے ہیں ۔
یہ درست ہے کہ ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں جو ذہنی اورعقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے مردوں کی ہم پلہ ہوتی ہیں اور ایسے بھی مرد ہوتے ہیں جو جذبات کے اعتبار سے عورتوں جیسے ہوں مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ قانون اور ضابطے اکثریت کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ استثناء اپنا کلیہ نہیں بناتے بلکہ دوسرے کلیات کو ثابت کرتے ہیں ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے اور سب کی کمزوریوں اورصلاحیتوں کو بھی جانتا ہے‘ لہٰذا اس بات کا فیصلہ کرنے کاحق بھی اسی کو ہے کہ کس کا دائرہٴ کار کیا ہو ؟ ہمارا فرض تو یہ ہے کہ اس کے فیصلے کے سامنے سرجھکا دیں ۔
اسلام نے ہماری اجتماعی زندگی کا حال مردوں کے حوا لے کیا ہے اور مستقبل عورتوں کے حوالے۔ اسلام نے عورت پر جو فرائض عائد کئے ہیں وہ ا س قدر اہم ہیں کہ انہیں غیر ضروری سمجھ کر ترک کردینا نہایت خطر ناک غلطی ہے ۔ عورت کے فرائض اس قدر وسیع اور ہمہ گیر ہیں کہ وہ اگر ان کی طرف کما حقہ توجہ دے تو اسے کسی دوسری سرگرمی کی جانب دیکھنے کا وقت بھی نہ ملے ۔ ملک کی ترقی کے لئے جتنی ضرورت اچھے سائنسدانوں  منتظموں  سپہ سالاروں اور سیاست دانوں کی ہے  اتنی ہی ضرورت اچھی ماؤں اور اچھی بیویوں کی بھی ہے ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت بیرونِ خانہ سرگرمیوں میں الجھ کر بھی بچوں کی درست اور صحیح نگہداشت کرسکتی ہے وہ حقیقت سے ناواقف ہیں ۔
نوعِ انسانی کی افزائش و حفاظت کے لئے فطرت نے چار ادوار مقرر کئے ہیں یعنی حمل  وضعِ حمل  رضاعت اور تربیت ۔ ان میں سے ہر دور انتہائی مشکل ہے جس کے دوران غفلت بچے کے لئے مہلک ثابت ہوتی ہے ۔ نسلِ انسانی کی فلاح کے نقطہء نظر سے ان میں سب سے اہم دور‘ تربیت کازمانہ ہے ۔ بچہ جب عالمِ غیب سے دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کا ذہن ایک ایسی تختی کی مانند ہوتا ہے جو ہر قسم کی تحریر لکھے جانے پر آمادہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں جو بات بھی اسے سکھائی جائے وہ نقش کا لحجر ہوجاتی ہے ۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اچھی تربیت دے اور اسے برے بھلے کی تمیز سکھائے ۔ ظاہرہے کہ ایسی ماں جسے معاشی اور سیاسی سرگرمیوں سے فرصت نہ ملتی ہو  اپنی اولاد کی درست تربیت نہیں کرسکتی ۔ عورت کا فرض ، فیکٹریوں میں اشیاء کی پیداوار نہیں ہے بلکہ انسانیت سازی ہے ۔
اولاد کی تربیت کے علاوہ گھر میں رہتے ہوئے عورت مرد کی کمائی اور وسائل کو بڑے سلیقے‘ کفایت شعاری اور منصوبہ بندی سے استعمال میں لاسکتی ہے۔ جتنا ضروری وسائل کی فراہمی کا معاملہ ہے اتنا ہی اہم ان کا مناسب استعمال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں عورت کو بیرونی ذمہ داریوں سے فارغ کرکے گھر کے اندر کے مسائل کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ اس حوالے سے مندر جہ ذیل احادیث پر غور فرما ئیے:
۱ – ” بلاشبہ ایک خاتون چھپانے کے لائق ہے۔ جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور وہ ا پنے رب کی رحمت کے زیادہ قریب اُس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصّہ میں ہوتی ہے“۔ ( ترمذی )
۲ – ” عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور وہ اپنی رعیت ( اولاد) کے لئے جواب دہ ہے “ ۔( ترمذی )
۳ – اسلام میں جمعہ اور جماعت کی اہمیت کوئی مخفی امر نہیں مگرنبی اکرم نے عورتوں کو جمعہ کی نماز سے مستثنیٰ فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے ” جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے مگر چا راشخاص مستثنیٰ ہیں یعنی غلام عورت  بچہ اور مریض ۔ ( ابوداؤد )
۴ – حضرت ام حمید ساعدیة  سے روا یت ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! جی چاہتاہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے لیکن تیرا ایک گوشے میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تو اپنے حجر ے میں نماز پڑھے اور حجرے میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تو گھر کے آنگن میں نماز پڑھے اور تیرا گھر کے آنگن میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تو اپنے محلّے کی مسجد میں نماز پڑھے اور تیرا اپنے محلّے کی مسجد میں نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تو جامع مسجد میں نماز پڑھے “۔ ( ابوداؤد )
۵ – حضرت انس  سے روایت ہے کہ عورتوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ” ساری فضیلت تو مرد لوٹ کر لے گئے ۔ وہ جہاد کرتے ہیں اور خد اکی راہ میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں ۔ ہم کیا عمل کریں کہ ہمیں بھی مجاہدین کے برابر اجر مل سکے “ ؟ جواب دیا ”جو کوئی تم میں سے گھر بیٹھی رہے ( تاکہ شوہر کے مال‘ اولاد اور عصمت کی حفاظت کرسکے ) وہ بھی مجاہدین کا سا بدلہ پائے گی “۔
اگر چہ عورت کا دائرہٴ عمل اس کا گھر ہے  تاہم اس کا گھر سے باہر نکلنا بالکل ہی ممنوع نہیں کیاگیا اور کسی اشد ضرورت کے تحت وہ گھر سے باہر جاسکتی ہے۔ ارشادِ نبوی ہے :
” اللہ نے تم کو اپنی ضروریات کے لئے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے “ ۔ ( بخاری )
البتہ سورة الاحزاب کی آیت۳۳ میں فرمایا گیا لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّةِ الْاُوْلٰی ” دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو“ ۔ یہاں لفظ ” تبرج “ آیا ہے جس کا مطلب ہے نمایا ں ہونا  ا بھرکراور کھل کر سامنے آنا  ظاہر ہونا ۔ عورت کے لئے تبرج کا مطلب ہے اپنے حسن کی نمائش کرنا  لباس اور زیور کی خوبصورتی کا اظہار کرنا اور چال ڈھال سے اپنے آپ کو نمایا ں کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب باہر نکلیں تو اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے نمایاں کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ احتیاط کے ساتھ چادر میں مستور ہوکر نکلیں ۔
3 – مرد اجنبی عورتوں سے بوقتِ ضرورت
پردے کی اوٹ سے بات کریں
سورة الاحزاب کی آیت ۵۳ میں مردوں کو ہد ا یت کی گئی ہے کہ :
وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْاَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ
” اور جب تمہیں نبی اکرم ﷺ کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے
پیچھے سے مانگا کرو“ ۔
گویا ایک مرد کے لئے جائز ہی نہیں کہ بلا ضرورت کسی اجنبی عورت سے بات کرے۔ البتہ اگر اجنبی عورت سے کوئی کام ہو تو بھی روبرو ہو کر بات کرنے کی اجازت نہیں ۔ تصور کیجئے کہ یہ حکم امت کی ماؤں کے لئے ہے جن کے ساتھ ایک مسلمان کا رشتہ اپنی حقیقی ماں کی طرح پاکیزہ اور متبرک ہے تو عام مسلم خواتین کے ساتھ بغیر پردے کے بات چیت یا لین دین کرنے کی اجازت کس طرح ہوسکتی ہے ؟ اسی لئے شریعتِ اسلامی میں اجنبی عورت کے ساتھ بلا ضرورت گفتگو کے تدارک کے لئے اس کے ساتھ خلوت میں موجودگی ہی کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کایہ ارشاد اس سے قبل بیان کیا جا چکاہے کہ :
” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہے اسے چاہیئے کہ کسی عورت کے ساتھ ایسی خلوت میں نہ ہو جہاں کوئی محرم موجود نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے “ ۔ ( مسندِ احمد )
4 – چہرے کا پردہ کرنا
سورة الاحزاب کی آیت نمبر ۵۹ میں مذکور ہے :
یٰاَ یُّھَاالنَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُوٴْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّط ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُوٴْذَیْنَط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
”اے نبی ﷺاپنی بیویوں بیٹیوں اورمسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی
چادروں کا پلو لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور
انہیں ستایا نہ جائے ۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“
اس آیت میں ” جلباب“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ جلباب اس بڑی چادر کو کہتے ہیں کہ جو پورے جسم کو چھپالے ۔ مراد یہ ہے کہ چادر اچھی طرح لپیٹ کر اس کا ایک حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کرو تاکہ جسم اور لباس کی خوبصورتی کے علاوہ چہرہ بھی چھپ جائے ۔ البتہ آنکھیں کھلی رہیں ۔ مندرجہ ذیل احادیثِ مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں اس حکم پرعمل کس طرح کیا گیا :
۱ – واقعہ افک ( جس کے دوران عبداللہ بن ابی نے حضرت عائشہ  پر بہتان لگایا تھا )کے متعلق حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ جنگل سے واپس آ کر جب میں نے دیکھا کہ قافلہ چلاگیا ہے تومیں بیٹھ گئی اور نیند کا غلبہ ایسا ہوا کہ میں وہیں پڑ کر سو گئی ۔ صبح کو حضرت صفوان بن معطل  وہاں سے گزرے تو دور سے کسی کو پڑے دیکھ کر وہاں آگئے ۔ وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے کیوں کہ حجاب کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے ۔ مجھے پہچان کر جب انہوں نے ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھا تو ان کی آوا ز سے میری آنکھ کھل گئی او ر میں نے اپنی چادر سے منہ ڈھانک لیا“۔حدیث میں الفاظ یوں ہیں کہ” فخمرتُ وجھی عنہ بجلبابی“ میں نے ان سے اپنے چہرے کو اپنی چادر کے ذریعے ڈھانپ لیا ‘ ‘ ۔ ( بخاری – مسلم )
۲ – ایک خاتون جن کا نا م ام خلاد  تھا ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے بیٹے کا جو قتل ہوچکا تھا انجام دریافت کرنے آئیں اور و ہ نقاب پہنے ہوئے تھیں۔ نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی  نے ان کی اس استقامت پرتعجب کرتے ہوئے کہا کہ نقاب پہن کر آپ بیٹے کا حال دریافت کرنے آئی ہیں۔ انہو ں نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میرا بیٹا مرا ہے میری حیا نہیں مری ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کوتسلی دی کہ تمہارے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ایساکیوں ہوگا یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا ا س لئے کہ اُ س کو اہلِ کتاب نے قتل کیا ہے “ ۔ (ابوداؤد )
۳ – حضرت عائشہ حجة الوداع کے موقع پر سفر کے بارے میں فر ماتی ہیں کہ” قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھیں۔ جب قافلے ہمارے سامنے آتے ہم بڑی چادر سر کی طرف سے چہرے پر لٹکا لیتیں اور جب و ہ گزر جاتے ہم اس کو اٹھا دیتیں “۔ (ابوداؤد )
۴ – امام جعفر صادق  اپنے والد اما م محمد باقر سے اور وہ حضر ت جابر بن عبد اللہ انصاری  سے روا یت کرتے ہیں کہ حجة الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی فضل بن عباس  ( جو اس وقت نوجوان لڑکے تھے ) مشعرِحرام سے واپسی کے وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے ۔ راستے سے جب عورتیں گزرنے لگیں تو فضل بن عباس ان کی طرف دیکھنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھا اوراسے دوسری طرف پھیر دیا“۔ ( ابوداؤد )
حرفِ آخر

اس تحریر میں ‘ میں نے اپنی امکانی حد تک کوشش کی ہے کہ شرعی پردے سے متعلق قرآنِ حکیم اور احادیث مبارکہ سے حاصل ہونے والی رہنمائی کے اہم نکات بیان کردوں۔ آخر میں ‘ میں تمام حضرات و خواتین کو دعوتِ غور و فکر دیتا ہوں۔ طرز معاشرت کے لئے ایک طرف تو وہ ضوابط و ہدایات ہیں جو قرآن و سنت سے حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مادر پدر آزاد روش ہے جسے مغربی تہذیب اور ہندو ثقافت کے زیرِ اثر جملہ ذرائع اِبلاغ کے ذریعہ فروغ دیاجارہا ہے۔ اب ہمیں ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دے کراختیار کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔البتہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہم سوچ لیں کہ عنقریب ہمیں روزِ قیامت ‘ عدالتِ خداوندی میں پیش ہونا ہوگا اور وہاں معاملہ یہ ہوگا کہ یُنَبَّوٴُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍمْ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ (ہر انسان کو اس روز جتلا دیا جائے گا کہ اس نے کس شے کو ترجیح دی اور کس شے کو چھوڑ دیا )۔ اللہتعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اُس کی خوشنودی کے حصول کے لئے زندگی کے جملہ معاملات میں اس کے احکاما ت کی پیروی کریں :
اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی ! آمین

This entry was posted in مذہبی. Bookmark the permalink.

3 Responses to شرعی پردہ — قرآن و حدیث کی روشنی میں

  1. Muhammad says:

     
     
    seriuosly waitng to see ppl comments on it coz i havent read it😉
     

  2. Muhammad says:

    I m sorry abt my previous comment in which i mentioned that i havent read it.well actually i had a quick look on it than i realise i already have listened the whole bayan so already know whats its all abt.
     
    same request @waiting to see pll comments on this topic

  3. Unknown says:

    J\’aimerais bien faire partis dans votre répértoire du change de courdonné de consiélle & de hadit & boucoups e chose dans le corant islamique dans le monde ou envie aujourdouit je suit musilman de religions

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s