اقبال

آجکل میں اقبال کی شاعری پھر سے پڑھ رہا ہوں۔ اسی لئے آپ کو بھی اقبال کی نظمیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہو گا
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں مے خانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا
کبھی جو آوارہ جنوں تھے، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا

آپ کا کیا خیال ہے یہ اشعار کس بارے میں ہیں؟

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s