بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی

نہ یہ کہ حُسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی

نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے

مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے

کوئی بھی رُت ہو اُس کی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی

وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی

نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہو

نہ رشتہِ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذنِ عام ہو

نہ ایسی خوش لباسیاں کے سادگی گلہ کرے

نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے

نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو

نہ اس قدر کٹھور پن کے دوستی خراب ہو

کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سُخن

کبھی تو کشتِ زعفران کبھی اُداسیوں کا بن

سنا ہے ایک عمر ہے معاملاتِ دل کی بھی

وصالِ جاں فزا تو کیا فراقِ جانگسل کی بھی

سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی

میں عشق کو امر کہوں وہ میری بات سے چڑ گئی

میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے

کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہے

شجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گِل رہیں

نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں

میں کوئی پینٹنگ نہیں کہ ایک فریم میں رہوں

وہی جو من کا میت ہو اُسی کے پریم میں رہوں

نہ اُس کو مجھ پہ مان تھا نہ مجھ کو اُس پہ زعم ہی

جب عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غمِ شکستگی

سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل لیا

وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا

بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اُس کی دوستی

اب اُس کی یاد رات دن ، نہیں ، مگر ”کبھی کبھی”

 

Advertisements
Posted in Uncategorized | 1 Comment

Hello world!

Welcome to WordPress.com. This is your first post. Edit or delete it and start blogging!

Posted in Uncategorized | 1 Comment

گاندھی نے کہا

Posted in اردو | 1 Comment

پروین شاکر

پروین شاکر کو جہان رنگ بو سے
گزرے پندرہ برس بیت چکے۔انہوں نے آج ہی کے دن دنیائے ادب کو سوگوار چھوڑا
۔زندگی کے تمام عکس پروین شاکر کی آنکھوں کے قیدی تھے ، ان کی شاعری نے
مختلف رنگ کے خواب دیکھے جو تعبیر پائے بغیر تحلیل ہوتے رہے لیکن پروین
شاکر نے انہی خوابوں کی خاک سے پھول اگائے ، ان پھولوں کی خوشبو ہی اس کی
شاعری ہے ۔ پروین شاکر کے ہاں عورت اور شاعرہ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہیں
۔پروین شاکرنے شاعرانہ محسوسات کو حجابات کے پردوں سے یوں آزاد کیا کہ
عورت اپنے مقام سے نیچے نہیں آتی بلکہ وہ عشق کی منزلت کو آگے بڑھاتی ہے۔
ان کے ہاں جذبہ عشق کسی بیاباں کے الاؤ کی طرح دہکتا ہے ، اور وہ اپنے عشق
کے رو برو ہر احساس کی قندیل جلا دیتی ہیں ۔ پروین شاکر کی شاعری میں
محبتوں کے گلاب کھلنے کا موسم بھی ہے تو پے در پے شکست کی جراحتوں کا ملال
بھی ۔ ان کی شاعری میں محبت کے سوکھے پھول جابجا بکھرے ملتے ہیں جن میں
گزرے کل کی مہک بھی ہے ۔چوبیس نومبر1952 کو کراچی میں پیدا ہونے والی
پروین شاکر پت جھڑ رت میں 26 دسمبر1994 کی ایک ٹھٹرتی صبح ٹریفک کے ایک
المناک حادثے میں جہان رنگ بو سے کوچ کر گئیں ۔ شاعرکافن اورلفظ اسے امر
کر دیتے ہیں ۔ پروین شاکر بھی بہاروں کے شباب ، بھری برساتوں، چاندنی
راتوں اورکافی پینے والی رتوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔فطرت کے رنگوں اور
انسانی جذبوں کوزوال نہیں توپھران کے ترجمان کو بھلا کیسے فراموش کیاجاسکے
گا۔

پروین شاکر

Posted in شاعرى | 1 Comment

حضرت بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ اور پانچ سوراہب

حضرت بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ
کے دستِ حق پرست پرپانچ صد (۰۰۵) عیسائیوں کا مشرف بہ اسلام ہونا
حضرت
شیخ بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں خلوت سے
لذّت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا
تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی، اے بایزید دَرِسمعان کی طرف چل اور
عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار
واقعہ ہوگا۔ تو میں نے اعوذباللہ پڑھا اور کہا کہ پھر اس وسوسہ کو دوبارہ
نہیں آنے دوں گا۔ جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتف کی وہی آواز سنی۔ جب بیدار
ہوا تو بدن میں لرزہ تھا۔ پھر سوچنے لگا کہ اس بارے میں فرمانبرداری کروں
یا نہ تو پھر میرے باطن سے ندا آئی کہ ڈرو مت کہ تم ہمارے نزدیک اولیاء
اخیار میں سے ہو اور ابرار کے دفتر میں لکھے ہوئے ہو لیکن راہبوں کا لباس
پہن لو اور ہماری رضا کے لئے زنّار باندھ لو۔ آپ پر کوئی گناہ یا انکار
نہیں ہوگا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس
پہنا زنار کو باندھا اور دَیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ ان کی عید کا دن تھا
مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات
سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے میں بھی راہب کے لباس میں ان کی مجلس میں جا
بیٹھا۔ جب بڑا راہب آکر ممبر پر بیٹھا تو سب خاموش ہو گئے۔ بڑے راہب نے جب
بولنے کا ارادہ کیا تو اس کا ممبر لرزنے لگا اور کچھ بول نہ سکا گویا اس
کا منہ کسی نے لگام سے بند کر رکھا ہے توسب راہب اور علماء کہنے لگے اے
مرشد ربّانی کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے۔ ہم آپ کے ارشادات سے
ہدایت پاتے ہیں اورآپ کے علم کی اقتدا کرتے ہیں۔ بڑے راہب نے کہا کہ میرے
بولنے میں یہ امر مانع ہے کہ تم میں ایک محمّدی شخص آ بیٹھا ہے۔ وہ تمہارے
دین کی آزمائش کے لئے آیا ہے لیکن یہ اس کی زیادتی ہے۔ سب نے کہا ہمیں وہ
شخص دکھا دو ہم فوراً اس کو قتل کر ڈالیں گے۔ اُس نے کہا بغیر دلیل اور
حجت کے اس کو قتل نہ کرو، میں امتحاناً اس سے علم الادیان کے چند مسائل
پوچھتا ہوں اگر اس نے سب کے صحیح جواب دیئے تو ہم اس کو چھوڑ دیں گے، ورنہ
قتل کردیں گے کیونکہ امتحان مرد کی عزّت ہوتی ہے یا رسوائی یا ذِلّت۔ سب
نے کہاآپ جس طرح چاہیں کریں ہم آپ کے خوشہ چیں ہیں۔ تو وہ بڑا راہب ممبر
پر کھڑا ہوکر پکارنے لگا۔ اے محمّدی، تجھے محمّد کی قسم کھڑا ہو جا کہ سب
لوگ تجھے دیکھ سکیں تو بایزید رحمةاللہ علیہ کھڑے ہو گئے۔ اس وقت آپ کی
زبان پر رب تعالیٰ کی تقدیس اور تمجید کے کلمات جاری تھے۔ اس بڑے پادری نے
کہا اے محمّدی میں تجھ سے چند مسائل پوچھتا ہوں۔ اگر تو نے پوری وضاحت سے
ان سب سوالوں کا جواب باصواب دیا تو ہم تیری اتباع کریں گے ورنہ تجھے قتل
کردیں گے۔ تو بایزید رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ تو معقول یا منقول جو چیز
پوچھنا چاہتا ہے پوچھ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ہمارے درمیان گواہ ہے۔ تو
اس پادری نے کہا۔

وہ ایک بتاؤجس کا دوسرا نہ ہو اور وہ دو بتاؤ جن کا
تیسرا نہ ہو اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو اور وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو
اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو اور وہ سات جن
کا آٹھواں نہ ہو اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو اور وہ دس جن کا گیارہواں نہ
ہو اور وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو۔

اور وہ قوم بتاؤجو جھوٹی ہو اور
بہشت میں جائے اور وہ قوم بتاؤ جو سچّی ہو اور دوزخ میں جائے اور بتاؤ کہ
تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرارگاہ ہے اور الْذارِیاتِ ذروًا
کیا ہے اور اَلْحاَمِلَاتِ وِقْراً کیا ہے اور اَلْجَارِیَاتِ یَسْرًا کیا
ہے اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا کیا ہے۔ اور وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور
سانس لے۔ اور ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رَبُّ العالمین کے
ساتھ گفتگو کی اور وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے کر چلی ہو اور وہ
پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو اور وہ چار جو نہ
باپ کی پشت اور نہ شکم مادر سے پیدا ہوئے ۔ اور پہلا خون جو زمین پر بہایا
گیا۔ اور وہ چیز پوچھتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو اور
پھراس کو خرید لیا ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر نا
پسند فرمایاہو۔ اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی
عظمت بیان کی ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر خو د
پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے۔ اور وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں
سے افضل ہیں اور کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں اور کون سے
پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں اور کون سے جانور سب جانوروں سے افضل
ہیں اور کون سے مہینے افضل ہیں اور کون سی راتیں افضل ہیں اور طَآمَّہ کیا
ہے۔ اور وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتّے ہیں
اور ہر پتّے پر پانچ پھُول ہیں دو پھُول دھوپ میں اور تین پھُول سایہ میں
۔ اور وہ چیز بتاؤجس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اُس میں جان ہو
اور نہ اُس پر حج فرض ہو۔ اور کتنے نبی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور
اُن میں سے رُسول کتنے ہیں اور غیر رسُول کتنے۔ اور وہ چار چیزیں بتاؤ جن
کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہواور نقیر کیا ہے اور
قطمیر کیا ہے اور فتیل کیاہے اور سبدولبد کیا ہے طَم ّ وَرم ّ کیا ہے۔ اور
ہمیں یہ بتاؤ کہ کتّا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے اور گدھا ہینگتے وقت کیا
کہتا ہے اور بیل کیا کہتا ہے اور گھوڑا کیا کہتا ہے اور اونٹ کیا کہتا ہے
اور مور کیا کہتا ہے اور بلبل کیا کہتا ہے اور مینڈک کیا کہتا ہے جب ناقوس
بجتا ہے تو کیا کہتا ہے۔ اور وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی
ہو اور نہ انسان ہوں اور نہ جن اور نہ فرشتے ۔ اور یہ بتاؤ کہ جب دن ہوتا
ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔
تو حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری
بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی
جواب دے دوں تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
ایمان لاؤ گے۔ سب نے کہا ہاں، پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا
گواہ ہے۔

یک زمانہ صحبت با اُولیا
بہتر اَز صَد سالہ طاعتِ بے ریا

پھر فرمایا کہ تمہارا سوال کہ
ایسا ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو وہ اللہ تعالےٰ واحد قہار ہے اور وہ دو
جن کا تیسرا نہ ہو وہ رات اور دن ہیں  ( سورة بنی اسرائیل
آیت ۲۱) اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہووہ عرش اور کرسی اور قلم ہیں اوروہ
چار جن کا پانچواں نہ ہو وہ چار بڑی آسمانی کتابیں تورات، انجیل ، زبور
اورقرآن مقدس ہیں اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو وہ پانچ فرض نمازیں ہیں
اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو وہ چھ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں
اور زمینوں کو پیدا فرمایا  ( سورہ قاف، آیت ۸۳) اور وہ سات
جن کاٹھواں نہ ہووہ سات آسمان ہیں  (سورہ ملک آیت ۳) اور وہ
آٹھ جن کا نواں نہ ہو وہ عرش بریں کو اُٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں  (سورہ حآقّہ، آیت ۷۱) اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو وہ بنی اسرائیل
کے نو فسادی شخص تھے  (سورة نمل، آیت ۸۴) اوروہ د س جن
کاگیارواں نہ ہو وہ متمتع پر دس روزے فرض ہیں جب اس کو قربانی کی طاقت نہ
ہو (سورة بقرہ، آیت ۶۹۱) اور وہ گیارہ جن کا بارواں نہ ہو
وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں۔ گیارہ ہیں۔ ان کا بارواں بھائی نہیں
(سورة یوسف، آیت ۴) اوروہ بارہ جن کا تیرواں نہ ہووہ
مہینوں کی گنتی ہے(سورہ توبہ، آیت ۶۳) اور وہ تیرہ جن کا
چودہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کا خواب ہے  (سورة یوسف،
آیت۴) اور وہ جھوٹی قوم جو بہشت میں جائی گی وہ یوسف علیہ السّلام کے
بھائی ہیں کہ اللہ تعالےٰ نے ان کی خطا معاف فرمادی ۔ (سورة
یوسف،آیت ۷۱) اور وہ سچی قو م جو دوزخ میں جائی گی وہ یہود و نصارےٰ کی
قوم ہے  (سورة بقرہ، آیت ۳۱۱) تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے
دین کو لاشی بتانے میں سچّا ہے لیکن دونوں دوزخ میں جائیں گے اور تم نے جو
سوال کیا ہے تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے تو جواب یہ ہے کہ میرے
کان میرے نام کے رہنے کی جگہ ہیں۔ اور اَلزَّارِیَاتِ ذرْواً چار ہوائیں
ہیں ۔ مشرقی ، غربی، جنوبی، شمالی۔ اوراَلْحَامِلَاتِ وِقْراً بادل ہیں
لقولہ اللہ تعالیٰ (سورة بقرہ آیت ۴۶۱ ) اور اَلْجَا رِیَاتِ یُسْراً سمندر
میں چلنے والی کشتیاں ہیں اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْراً وہ فرشتے ہیں
جوپندرہ شعبان سے دوسرے پندرہ شعبان تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔ اور
وہ چودہ جنہوں نے رَب تعالیٰ کے ساتھ گفتگوکی وہ سات آسمان اور سات زمینیں
ہیں (سورة حٰم السّجدہ، آیت ۱۱) اور وہ قبرجو مقبور کو لے کر
چلی ہو وہ یونس علیہ السّلام کو نگلنے والی مچھلی ہے۔ اور بغیر روح کے
سانس لینے والی چیزصبح ہے  اور وہ پانی جو نہ آسمان سے اترا
ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو وہ پانی ہے جو گھوڑوں کا پسینہ بلقیس نے آزمائش
کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چار جو کسی باپ
کی پشت سے ہیں اور نہ شکم مادر سے وہ اسماعیل علیہ السّلام کی بجائے ذبح
ہونے والا دنبہ اورصالح علیہ السلام کی اونٹنی اورآدم علیہ السلام اور
حضرت حوّا  ہیں ۔ اور پہلا خون ناحق جو زمین پر بہایا گیا وہ آدم علیہ
السلام کے بیٹے ہابیل کا خون ہے جسے بھائی قابیل نے قتل کیا تھا۔ اور وہ
چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے (سورة توبہ، آیت ۱۱۱) اوروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا
فرمائی پھر اسے ناپسند فرمایا ہو وہ گدھے کی آواز ہے  (سورة
لُقمان، آیت ۹۱)اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر اُسے
بُرا کہا ہو وہ عورتوں کا مکرہے  (سورة یوسف، آیت ۸۲) اور وہ
چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر پوچھاہو کہ یہ کیا ہے وہ موسیٰ
علیہ السلام کا عصا ہے  (سورة طٰہٰ آیت ۷۱) اور یہ سوال کہ
کون سی عورتیں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں وہ اُ م البشر حضرت حوّا
اور حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ اور حضرت آسیہ اور حضرت مریم ہیں ۔ رَضی
اللہ تعالیٰ عنہنَّ اجمعین۔


باقی رہا افضل دریا وہ سیحون ، جیجون ،
دجلہ ، فرات اور نیل مصر ہیں ۔ او ر سب پہاڑوں سے افضل کوہِ طور ہے اور سب
جانوروں سے افضل گھوڑا ہے اور سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان  (سورة بقرہ ، آیت ۵۸۱) اور سب راتوں میں افضل رات لیلةالقدر ہے (سورة قدر، آیت ۳) اور تم نے پوچھا ہے کہ طاْمہ کیا ہے وہ
قیامت کا دن ہے۔ اور ایسا درخت جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی کے تیس
پتّے ہیں اور ہر پتّہ پر پانچ پھول ہیں جن میں سے دو پھول دھوپ میں ہیں
اور تین سایہ میں ۔ توہ وہ درخت سال ہے۔ بارہ ٹہنیاں اس کے بارہ ماہ ہیں
اور تیس پتّے ہر ماہ کے دن ہیں۔ اور ہر پتّے پر پانچ پھول ہر روز کی پانچ
نمازیں ہیں دو نمازیں ظہر اور عصر آفتاب کی روشنی میں پڑھی جاتی ہیں اور
باقی تین نمازیں اندھیرے میں۔ اور وہ چیز جو بے جان ہو اور حج اس پر فرض
نہ ہو پھر اس نے حج کیا ہو اور بیت اللہ کا طواف کیا ہو وہ نوح علیہ
السّلام کی کشتی ہے ۔ تم نے نبیوں کی تعداد پوچھی ہے پھر رسولوں اور غیر
رسولوں کی تو کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ۔ ان میں سے تین سو تیرہ
رسول ہیں اور باقی غیر رسول۔ تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور
ذائقہ مختلف ہے حالانکہ جڑ ایک ہے۔وہ آنکھیں، ناک،منہ،کان ہیں۔ کہ مغزسر
ان سب کی جڑ ہے۔ آنکھوں کا پانی نمکین ہے۔اور منہ کا پانی میٹھا ہے۔اور
ناک کا پانی ترش ہے اور کانوں کا پانی کڑوا ہے ۔تم نے نقیر (سورة نسا آیت
۴۲۱) ،قطمیر ( سورة فاطر آیت ۳۱) ،فتیل (بنی اسرائیل آیت ۱۷)۔

سبدولبد،
طمّ ورَمّ کے معانی دریافت کیے ہیں۔کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو نقطہ ہوتا
ہے اس کونقیر کہتے ہیں اور گٹھلی پرجو باریک چھلکا ہوتا ہے اس کو قطمیر
کہتے ہیں اور گٹھلی کے اندر جو سفیدی ہوتیہے اسے فتیل کہتے
ہیں۔سبدولبدبھیڑبکری کے بالوں کو کہا جاتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی
آفرینش سے پہلے کی مخلوقات کو طمّ ورَمّ کہا جاتا ہے۔ اور گدھا ہینگتے وقت
شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے لَعَنَ اللّٰہ ُالْعَشَّار۔ اور
کتا بھونکتے وقت کہتا ہے وَیْلُ لِاَھِلِ اْلنَّارِمِنْ غَضَبِ
الْجَبَّارِ۔ اور بیل کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ۔ اور گھوڑا
کہتا ہے سُبْحَانَ حَافِظِیْ اِذَا اَلتَقَت الْاَبْطَال َوَاشْتَعَلَتِ
الرِّجَالُ بِالرِّجَال اور اونٹ کہتا ہے حَسْبِیَ اللّٰہ ُ وَکَفٰی
بِاللٰہِ وَکِیْلاَ اور مور کہتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسّتَوٰی
(سورہ طٰہٰ آیت ۵۱) ۔ اور بلبل کہتا ہے سُبْحَا نَ ا للّٰہ ِ حِیْنَ
تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (سورة روم آیت ۷۱)۔ اورمینڈک اپنی تسبیح
میں کہتا ہیسُبْحَانَ الْمَعْبُودِ فِیْ البَرَارِیْ وَالْقِفَارِ
سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ ( سورة نحل آیت ۸۶) اور ناقوس جب بجتا ہے
تو کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ حَقَّا حَقَّا اُنْظُرْ یَاْبنَ اٰدَمَ فِی
ھٰذِہِ الدُّنْیَا غَرْبًا وَّشَرْقًا مَّاتَرٰی فِیْھَا اَحَدًایَّبْقٰی۔
اور تم نے وہ قوم پوچھی ہے جن پر وحی آئی حالانکہ وہ نہ انسان ہیں نہ
فرشتے اور نہ جن۔ وہ شہد کی مکھیاں ہیں (سورة نحل آیت ۸۶)
تم نے پوچھا ہے کہ جب رات ہو تی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے اور جب دن ہوتا
ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے جب دن ہوتا ہے تورات اللہ
تعالیٰ کے غا مض علم میں چلی جاتی ہے ۔ اور جب رات ہوتی ہے تو دن اللہ
تعالیٰ کے غامض علم میں چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ غامض علم کہ جہاں
کسی مقرب نبی یا فرشتہ کی رسائی نہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا کوئی
ایسا سوال رہ گیا ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو ۔ انہوں نے کہا نہیں ۔ سب
سوالوں کے صحیح جواب دیے ہیں تو آپ نے اس بڑے پادری سے فرمایا کہ میں تم
سے صرف ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو۔ وہ یہ ہے کہ آسمانوں کی کنجی
اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے۔


تو وہ پادری سر بگر یباں ہوکر خاموش
ہو گیا تو سب پادری اس سے کہنے لگے کہ اس شیخ نے تمہارے اس قدر سوالوں کے
جواب دیئے لیکن آپ اس کے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے وہ بولا کہ
جواب مجھے آتا ہے۔ اگر میں وہ جواب بتاؤں تو تم لوگ میری موافقت نہیں کرو
گے۔ سب نے بیک زباں کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں ۔ ہم ہر حالت میں آپ کی
موافقت کریں گے۔ تو بڑے پادری نے کہا آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَّمدُ رَّسُولُ اللہ ہے ۔ تو سب کلمہ پڑھ کر
مسلمان ہو گئے اور اپنے اپنے زنار وہیں توڑ ڈالے ۔ غیب سے ندا آئی ۔ اے
بایزید ہم نے تجھے ایک زنار پہننے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ ان کے پانچ سو
زنار تڑواؤں ۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ

ہر کہ خواہد ہمنشینی باخُدا
اُو نشیند دَر حضورِ اُولیاء

ڈاکٹر عبدالقدیرخان

Posted in اسلام | 2 Comments

نوبل ایوارڈ کے مستحق

”اوباما نے مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال کیا۔ تخفیفِ اسلحہ کے لیے غیر معمولی کام کیے۔ جوہری پروگراموں کو روکنے میں تعاون کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا۔ عالمی امن کی بحالی کے لیے کوششیں کیں… لہٰذا ان کو نوبل پرائز 2009ء کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔“ یہ الفاظ امن کے نوبل ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والی نارویجن کمیٹی کا کہنا ہے: ”اوباما نے عالمی امن کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔“ نجانے کیا وجہ ہے ہم کوتاہ بینوں کو اوباما کی امن کوششوں کا ثمر کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی صدر نے سال کے شروع میں جب اقتدار سنبھالا تو مسلم دنیا کو توقعات تھیں اوباما چونکہ سیاہ فام ہیں۔ نسلی امتیاز کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے انہیں مظلوم قوموں کے دکھ کا احساس ہوگا لیکن اپنے پہلے خطاب میں ہی انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ہمدردانہ لہجہ اپناکر اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچنے دینے کا عزم نے ثابت کردیا تھا کہ انہیں مظلوموں سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہی حال افغانستان کا ہے۔ اُمید تھی اب افغان جنگ ختم ہوجائے گی۔ خونِ مسلم کی بہتی ندیاں بند ہوجائیں گی… لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید شدت آئی۔ یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ اوباما افغانستان، عراق، فلسطین اور کشمیر میں امن قائم کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں۔ اوباما نے صدارت کا حلف اُٹھایا تھا تو اس سے اگلے دن وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف ”راہم ایمانوئیل“ نامی یہودی کو مقرر کیا تھا ۔ قارئین! اس وقت امریکا کو 85 بڑے ادارے چلارہے ہیں۔ ان میں 54 کٹر یہودیوں کے پاس ہیں۔ ان اداروں کے 54 یہودی مالکان ہر وقت وائٹ ہاؤس میں سازشوں کا جال بُنتے رہتے ہیں۔

 صہیونیوں کی نظر میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع سے ہی کھٹک رہا ہے۔ اسی لیے یہاں کا امن تباہ کرنے کے لیے اپنے فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں۔ بلیک واٹر اسے مزید عروج تک پہنچارہی ہے۔ قلعے نما سفارت خانے تعمیر ہورہے ہیں۔ امریکی شہ پر بھارت نے کشمیر کو لہو رنگ بنایا ہوا ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل نے فلسطینیوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ اسلامی دنیا کے وسائل پر سامراج کے قبضے مستحکم ہورہے ہیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کروایا جارہا ہے۔ کیا یہی وہ امن کوششیں ہیں جن پر امریکی صدر کو امن انعام سے نوازا گیا ہے؟ اسرائیل کا ہر بچہ فل آرمڈ ٹریننگ لے تو سیلف ڈیفنس، مسلمان اگر اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ میں پتھر بھی اُٹھائے تو دہشت گرد، چرچ میں راہبائیں اسکارف لیں تو مہذب، مسلمان بیٹیاں اوڑھیں تو انتہا پسندی، امریکا روزانہ ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلادے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ، مسلمان اس کے خلاف معمولی سا احتجاج بھی کریں تو انتہا پسندی۔ یہ کون سی امن پسندی ہے؟ اس کے باوجود اس کے صدر کو امن کا نوبل انعام سے نوازنا باعث حیرت نہیں؟ تعجب تو اس پر ہے کہ خود اوباما نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ مجھے کیوں امن کے نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ میں اس انعام کا حق دار نہیں ہوں۔ اگر اوباما اپنی بات میں سچے میں تو پھر انہیں چاہیے وہ نوبل پرائز لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیں کہ نوبل پرائز کے بانی ”نوبل الفریڈ“… جس نے آتش گیر مادہ ”ڈائنا مائٹ“ ایجاد کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بارود سے متعارف ہوئی… کا کہنا تھا میں اس کا تدارک کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رقم اس کے لیے مختص کردی کہ جو شخص بارود کے خاتمے اور دنیا میں قیام امن کی کوشش کرے اسے یہ انعام دیا جائے۔ چونکہ اس وقت عراق، فلسطین، کشمیری اور افغانستان میں جنگ جاری ہے۔ اس میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا آتش فشاں بنی ہوئی ہے۔ جب تک امن نہیں ہوتا ہے اس وقت تک یہ انعام نہ لیں۔ 1973ء میں جب ویت نام جنگ جاری تھی تو نوبل انعام کے لیے ویت نام کے انقلابی جنرل ”لی ڈک تھو“ کے نام کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے نوبل پرائز لینے سے انکار کردیا کہ ابھی جنگ جاری ہے جب تک یہ ختم نہیں ہوجاتی اس وقت میں یہ انعام نہیں لوں گا۔“

 نارویجن کمیٹی نے اپنے فیصلے میں دو دلچسپ وجوہات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک یہ کہ اوباما نے عالم اسلام کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں کیں۔ دوسرا یہ کہ اوباما نے جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہم نارویجن کمیٹی سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا عالم اسلام میں عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر اور پاکستان شامل نہیں؟ اگر ہیں تو یہ کیوں امریکی غیظ وغضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں؟ کیا تعلقات میں بہتری کا یہی مطلب ہے کہ انہیں لنگڑی لولی امداد دی جاتی رہے۔ اس کے بدلے میں ان کے گھروں کو مسمار اور ان کے باشندوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جاتا رہے۔ امداد دے کر ان کے علاقوں کو تاراج کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے؟ کیا تعلقات بہتر کرنا اسی کو کہتے ہیں کہ ان کی معیشت غیرمستحکم کردی جائے؟ ان کے علاقوں میں ان کی مرضی کے بغیر فوجی اُتارے جائیں جو ان کی خودمختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگادیں؟ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرے؟ کیا ایسے شخص کو امن کا نوبل انعام دیا جاسکتا ہے جس نے اقتدار کے پہلے 300 دنوں میں جنگ کا دائرہ ایک ملک سے بڑھاکر دوسرے تک بھی پہنچادیا ہو۔ جو ایک کے بعد دوسرے ملک کو اگلا میدان جنگ بنانے کی دھمکیاں بھی دیتا ہو؟ اگر نہیں تو پھر اسلامی دنیا میں یہ تاثر مزید پختہ ہوتا جارہا ہے کہ یہ ایوارڈ دنیا میں امن کے لیے خدمات انجام دینے والوں کو نہیں بلکہ سامراجی قوتوں کے سکھ آرام کا بندوبست کرنے میں ”حسن کارکردگی“ ظاہر کرنے والے ہی کو دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ انعام پرویز مشرف کو بھی ملنا چاہیے کہ انہوں نے امریکی سامراج کا پٹھو بن کر 9 سال خدمات سرانجام دیں۔

 دوسری بات یہ ہے جیسا کہ نوبل پرائز کے بانی نے کہا تھا: ”اس میں مذہب، رنگ ونسل اور قومیت کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔“ لیکن مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ ہورہا ہے۔ اب تک 800 کے قریب یہ انعام دیے جاچکے ہیں۔ ان میں چند مسلمانوں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں دیا گیا۔ 57 مسلم ممالک میں کتنے اداروں اور افراد کو یہ انعام دیا گیا ہے؟ اہم شخصیات بھی اس ایوارڈ سے محروم رہی ہیں حالانکہ وہ مستحق تھیں۔ دبئی کے سلطان النہیان، ملائشیا کے مہاتیر محمد، پاکستان کے بانی محمد علی جناح، علامہ اقبال جیسے شاعر اور ادیب، بھٹو جیسے مدبر، شاہ فیصل جیسے زیرک جان بوجھ کر محروم رکھے گئے۔ نوبل پرائز کے موجودہ منتظمین کو چاہیے وہ مذہب وقوم اور رنگ ونسل سے بالاتر ہوکر خدمتِ خلق، علم وادب کے شعبوں میں کام کرنے والے مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والوں کو بھی اس انعام سے نوازیں۔ جو رفاہی ادارے اور ادیب خاموشی کے ساتھ انسانی بھلائی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اس طرح کے انعامات کے حق دار کیوں نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ سالوں ملک کے بالائی علاقوں کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ زلزلہ زدہ اضلاع مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان کے دوردراز کے دیہی علاقوں، پہاڑی دروں اور چھوٹے بڑے قصبات کو پہلی مرتبہ دیکھنے کا موقع ملا۔ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے سے ہونے والی تباہی اور بربادی کے اثرات ابھی تک نمایاں ہیں۔ لوگوں کی اکثریت غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ ان دیہی علاقوں میں خواتین، بوڑھوں اور بچوں کی کثرت ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا علاقے کے نوجوان مزدوری کے لیے قریب ودور کے شہروں کا رُخ کیے ہوئے ہیں۔ مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے مین بازار سے شمال کی جانب ایک مخروط پہاڑی نظر آتی ہے۔ اس پہاڑ کے بالکل پیچھے ایک بڑا گاؤں ہے جس کا نام کھبل ہے۔ 9 کلومیٹر طویل یہ گاؤں پائین اور بالا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ وہاں کے مرکزی علاقے جسے مقامی لوگ ”گراں“ کہتے ہیں اس کے کچے مکانات پر مشتمل ایک رہائشی بلاک جسے مقامی زبان میں ”چھم“ کہتے ہیں۔ میں اس کے کھنڈرات پر کھڑا تھا کہ قریب سے ایک ایمبولینس گزری جس پر فلاحی ادارے کا نام ”ایدھی“ لکھا تھا۔ سوچ رہا تھا اگر ایسے اداروں کو جو انسانیت کی بلارنگ ونسل اور بلا مذہب ومسلک اس اعلیٰ درجے پر اس قدر خاموشی سے خدمت کرتے ہیں، ایوارڈ دیا جائے تو ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔ جب ماضی میں رفاہی کاموں کی وجہ سے عیسائی نن ”مدر ٹریسا“ کو مل سکتا ہے تو پھر بلا رنگ ونسل اور مذہب فلاحی کارنامے سرانجام دینے والوں کے سرخیل عبدالستار ایدھی کو کیوں نہیں؟ جب فرانس کے غیر معروف مصنف ”لی کولیز“ کو یہ انعام مل سکتا ہے تو پھر ادبی دنیا کے منفرد نام ”عطاء الحق قاسمی“ کو کیوں نہیں!

انور غازی

Posted in اردو | 2 Comments

عزت نفس

اگر عزت نفس ہو اے برادر
نظر کیوں رہے غیر ملکی مدد پر

”ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
تو خوف اور ذلت کے حلوے سے بہتر“

 

انور شعور   

Posted in شاعرى | 3 Comments