پروین شاکر

پروین شاکر کو جہان رنگ بو سے
گزرے پندرہ برس بیت چکے۔انہوں نے آج ہی کے دن دنیائے ادب کو سوگوار چھوڑا
۔زندگی کے تمام عکس پروین شاکر کی آنکھوں کے قیدی تھے ، ان کی شاعری نے
مختلف رنگ کے خواب دیکھے جو تعبیر پائے بغیر تحلیل ہوتے رہے لیکن پروین
شاکر نے انہی خوابوں کی خاک سے پھول اگائے ، ان پھولوں کی خوشبو ہی اس کی
شاعری ہے ۔ پروین شاکر کے ہاں عورت اور شاعرہ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہیں
۔پروین شاکرنے شاعرانہ محسوسات کو حجابات کے پردوں سے یوں آزاد کیا کہ
عورت اپنے مقام سے نیچے نہیں آتی بلکہ وہ عشق کی منزلت کو آگے بڑھاتی ہے۔
ان کے ہاں جذبہ عشق کسی بیاباں کے الاؤ کی طرح دہکتا ہے ، اور وہ اپنے عشق
کے رو برو ہر احساس کی قندیل جلا دیتی ہیں ۔ پروین شاکر کی شاعری میں
محبتوں کے گلاب کھلنے کا موسم بھی ہے تو پے در پے شکست کی جراحتوں کا ملال
بھی ۔ ان کی شاعری میں محبت کے سوکھے پھول جابجا بکھرے ملتے ہیں جن میں
گزرے کل کی مہک بھی ہے ۔چوبیس نومبر1952 کو کراچی میں پیدا ہونے والی
پروین شاکر پت جھڑ رت میں 26 دسمبر1994 کی ایک ٹھٹرتی صبح ٹریفک کے ایک
المناک حادثے میں جہان رنگ بو سے کوچ کر گئیں ۔ شاعرکافن اورلفظ اسے امر
کر دیتے ہیں ۔ پروین شاکر بھی بہاروں کے شباب ، بھری برساتوں، چاندنی
راتوں اورکافی پینے والی رتوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔فطرت کے رنگوں اور
انسانی جذبوں کوزوال نہیں توپھران کے ترجمان کو بھلا کیسے فراموش کیاجاسکے
گا۔

پروین شاکر

About these ads
This entry was posted in شاعرى. Bookmark the permalink.

One Response to پروین شاکر

  1. sarwat says:

    ZINDAGI BARI BEYAQEEN SI CHEZ HAI! there shud b a pic of that lady

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s